ذرا ہٹ کے…یاسر پیرزادہ

برادرم بل گیٹس،گڈ مارننگ!
امید ہے مزاج بخیر ہوں گے ۔اگلے روز ایک خبر نظر سے گذری کہ تم نے اور بزرگوار وارن بفے نے مل کر امریکہ کے چالیس،ارب پتی افراد کو اس بات پر راضی کر لیا ہے کہ وہ اپنی آدھی دولت خیراتی کاموں کے لئے عطیہ کر دیں ۔جن چالیس امریکی ارب پتیوں کو تم نے خیرات دینے پر آمادہ کیا ہے ،خبر کے مطابق ان کے عطیہ کی رقم کم از کم 150ارب ڈالرہے ۔یہ بھی سننے میں آیاہے کہ اس کے بعد تم اور وارن بفے، چین اور بھارت کے ارب پتیوں کو مل کر اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کرو گے کہ وہ بھی اپنی دولت خیرات میں بانٹ دیں۔او بندہ خدا،یہ کس چکر میں پڑنے لگے ہو؟ کچھ خدا کا خوف کرو ،کیوں اپنی اور دوسروں کی خون پسینے کی کمائی لٹانے پر تلے ہو؟ اپنے 28ارب ڈالر تو تم خیرات میں دے ہی چکے ہو ،اب کیا دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کا ارادہ ہے؟اگر تمہیں صدقہ خیرات کا اتنا ہی شوق ہے تو میں تمہیں اس کا ایک آسان پاکستانی طریقہ بتادیتاہوں کیونکہ بفضل تعالیٰ اس میدان میں ہمارے ارب پتی تم سے کہیں آگے ہیں۔پہلے ایک واقعہ سن لو،اس سے تمہیں یہ ”طریقہ واردات“ سمجھنے میں آسانی ہو گی۔
ایک دفعہ ہمارے ملک کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں ایک دھماکے ہواجس کے نتیجے میں ہوٹل کا گارڈ جاں بحق ہو گیا ۔تحقیقات سے پتہ چلا کہ اگر وہ گارڈ، خود کش بمبار کو روکتے ہوئے اپنی جان نہ دیتا تو شدید ترین تباہی مچتی۔ چنانچہ اس ہوٹل کے مالک نے،جو تمہاری طرح ارب پتی تھا،کمال درد مندی سے کام لیتے ہوئے اعلان کیا کہ اس گارڈ کی بیوہ کو پانچ سال تک مرحوم گارڈ کی تنخواہ کے برابر رقم دی جائے گی ۔اللہ اللہ خیر سلّا۔یہ ہے خیرات دینے کا صحیح طریقہ۔اگر یہی واقعہ امریکہ میں پیش آیا ہوتا تو وہاں اس گارڈ کو یہ خیراتی رقم نہیں ملنی تھی بلکہ الٹا ہوٹل کے مالک کو جرمانہ اور قید سنا دی جاتی کہ اس نے لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گارڈ کی انشورنس کیوں نہیں کروائی؟ اس کی تنخواہ کے ساتھ ایسا کوئی فائدہ کیوں نہیں جوڑا جس سے اسے خیرات کی ضرورت نہ پڑتی ؟یا اسی قسم کا کوئی اور لایعنی قاعدہ قانون ۔تمہارے جیسے ملکوں نے تو خیرات کو بھی مشکل بنا دیا ہے ۔میری مانو تو تم بھی پاکستانی ارب پتیوں کے اصول پر چلتے ہوئے اپنی کمپنی مائیکروسافٹ کے ملازمین کی تنخواہ کے ساتھ جڑے ہوئے تمام فوائد فوراً ختم کرو۔میں جانتا ہوں کہ اس سے بڑی ہا ہا کار مچی گی مگر تم یہ کر گذرو۔اس کے بعد جس ملازم کے ساتھ کبھی کوئی حادثہ پیش آجائے یا وہ معذور ہو جائے یا اس کے کسی بچے کی شادی وغیرہ ہو (ویسے امریکہ میں تو یہ خرچہ نہیں کرنا پڑتا) تو اسے ذاتی طور پر بلا کر کیش دے کے اس کی مدد کر دو۔اس سے دو فائدے ہوں گے ،ایک یہ کہ تمہاری شہرت ایک نیک اور درد مند انسان کی ہو جائے گی ا ور دوسرے تمہارے کمپنی کے اضافی اخراجات بھی یکدم کم ہو جائیں گے جس سے تمہیں سالانہ کئی ارب ڈالر کا اضافی منافع ہوگا۔ایک بات کا خیال رکھنا کہ جو بھی امداد کرو،اخبارات اور میڈیا میں اس کی مناسب تشہیر کرنا مت بھولنا۔
برخوردار بہت برس پہلے میں نے ٹی وی کے کسی ڈرامے میں یہ ڈائیلاگ سنا تھا کہ ”دولت سامنے پڑے ہوئے چلغوزوں کی طرح ہوتی ہے ،جتنی بھی کھا لو ،کم ہی لگتی ہے ۔“اس لئے میرا برادرانہ مشورہ ہے کہ اپنی بیوی کے ساتھ مل کر تم نے جو فاؤنڈیشن بنائی ہے اس میں ایک حد سے زیادہ خیرات دینے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ویسے بھی تمہاری خیرات کی تشہیر تو ہو ہی چکی ہے ،اب چپکے سے 28ارب ڈالر واپس نکلوا کر اپنے بنک اکاؤنٹ میں ڈال لو اور اس کے بدلے ہر سال تھوڑی بہت رقم اس فاؤنڈیشن کو دیتے جانا۔تمہیں کون پوچھنے والا ہے!
سنا ہے تمہاری شادی کو کئی برس ہو گئے ہیں اور ماشاء اللہ تمہارے تین بچے ہیں ۔یقینا تینوں سکول کالج جاتے ہوں گے ،بیگم صاحبہ کو اپنے فلاحی کاموں سے فرصت نہیں ملتی ہو گی ،تمہاری اپنی عمر بھی کچھ زیادہ نہیں ہے ،دیکھنے میں اب بھی چالیس پینتالیس سے زیادہ کے نہیں لگتے ،ماشاء اللہ ہٹے کٹے ہو۔مائیکروسافٹ کمپنی بھی اس قدر پھیل چکی ہے کہ اب اسے تمہاری ضرورت نہیں رہی اوراس کا تمام کام ”آٹو پائلٹ“ کی طرز پرچلتا ہے…ان سب باتوں کو سوچتے ہوئے یونہی میرے دل میں خیال آیا کہ یقینا تم گھر میں بور ہی ہوتے ہو گے ،تو اس بوریت کو دور کرنے کے لئے تم دوسری شادی کیوں نہیں کر لیتے ۔ہالی وڈ کی بیشمار اداکارائیں اب تک ”کنواری“ پھر رہی ہیں ۔ اگر تمہیں کسی کم عمر اداکارہ سے بیاہ رچانے میں ہچکچاہٹ ہے تو تم کسی خوبصورت بیوہ کو بھی سہارا دے سکتے ہو ،تمہارا یہ اقدام خیراتی حلقوں میں بھی تحسین کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔اور اگر تمہارا دل امریکی حسیناؤں سے اچاٹ ہو چکا ہے تو پھر میرے ذہن میں چند ایسی پاکستانی اداکارائیں ہیں جو تمہاری دوسری ،تیسری اور چوتھی بیوی بننے کے لئے بھی تیار ہو جائیں گی۔یہ تمام اداکارائیں اس قدر باصلاحیت ہیں کہ ان کے سامنے تمہیں اپنی دولت کم لگنے لگے گی!
عزیزم!تمہارے امریکہ میں لاس ویگاس نامی ایک جگہ ہے ،وہاں دنیا بھر کے ”عرب“ پتی شہزادے آ کر جوا کھیلتے ہیں ،موج مستی کرتے ہیں اورزندگی کا لطف اٹھاتے ہیں ۔تم بھی ان سے کچھ سبق سیکھو ،اگر تمہیں امریکہ میں یہ سب کچھ کرنے میں تامل ہے تو ادھر ہانگ کانگ کے بغل میں مکاؤ واقع ہے ،وہاں آ جاؤ ،وہاں کوئی تمہیں پہچان بھی نہیں پائے گا ۔برخوردار! زندگی ایک دفعہ ہی ملتی ہے ،اسے بھرپور طریقے سے گذارو …”بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست“…اس بڈھے کھوسٹ وارن بفے کے پیچھے لگ کر اپنی دنیا اور عاقبت مت خراب کرو۔اس بڈھے کے پیر تو اب قبر میں ہیں ،اگر وہ اپنی ساری دولت خیرات میں لٹانا چاہتا ہے تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں ۔وہ سنکی بابا اب تک پچاس سال پرانے ایک چھوٹے سے مکان میں رہتا ہے جو اس نے اپنی شادی کے بعد خریدا تھا۔ اس کے پاس موبائل فون ہے نہ کمپیوٹر ہے ۔اپنی گاڑی بھی وہ خود چلاتا ہے ،ڈرائیور تک نہیں رکھا اس کنجوس نے !اب تم خود سوچو کیا ایسا شخص تمہارے مزاج سے مطابقت رکھتا ہے ؟میرے عزیز! میں اب بھی تمہیں خلوص دل سے مشورہ دے رہا ہوں کہ سنبھل جاؤ ورنہ پچھتاؤ گے۔وارن بفے جیسے بابے دنیا جہان کے ویلے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کے پاس کرنے کے لئے کوئی کام نہیں ،ساری زندگی پیسہ کمانے کے بعد بھی انہیں عقل نہیں آئی کہ پیسہ یوں اجاڑنے کے لئے نہیں ہوتا ۔اس بابے کے مقابلے میں تم ابھی قدرے جوان ہو ،تمہارے آگے ابھی زندگی پڑی ہے۔اگرتم نے اپنی دولت یوں اجاڑ دی تو بڑھاپے میں تم کسی اولڈ پیپلز ہوم میں پڑے ہو گے اور تمہاری اولاد تمہیں طعنے دے دے کے مار دے گی۔
ایک بات یونہی ذہن میں امڈ آئی،سنا ہے کہ تم بارہ تیرہ ملین ڈالر مالیت کے ایک بنگلے میں رہتے ہو جو کافی شاندار ہے اور اس میں سوئمنگ پول،جم اور زیر زمین میوزک سسٹم وغیرہ بھی ہے۔ لیکن میرے بھائی ،مجھے کہنے دو کہ یہ طرز زندگی تمہارے سٹیٹس سے میچ نہیں کرتا۔یار،تم دنیا کے امیر ترین آدمی ہو، تمہیں چاہئے کہ فرانس یا برطانیہ میں کسی بادشاہ کا کوئی تاریخی قلعہ خریدو جہاں تم اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گرمیوں کی چھٹیا ں گذارنے جاؤ ۔مجھے لگتا ہے جیسے اس کھوسٹ وارن بفے نے مکمل طور پر تمہاری برین واشنگ کر دی ہے ۔بہر کیف،میرا کام تمہیں سمجھانا تھا،آگے تمہاری مرضی ! مخلص
ایک درد مند پاکستانی
ٹیل پیس:کیا تمہارا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں ؟ میرا مشورہ مانو تو فوراً سیاست میں چھلانگ لگا دو ۔ سیاست میں آنے کے بعد تمہیں دولت کی زیادہ قدرمحسوس ہو گی اور اندازہ ہو گا کہ جو پیسہ تم نے اتنے سال لگا کر کاروبار میں کمایا ،وہ تم سیاست میں کہیں آسانی کے ساتھ کما سکتے تھے۔اگر امریکہ میں تمہیں یہ کام مشکل لگے تو پاکستان میں کوشش کرنا ،انشاء اللہ ڈائریکٹ وزیر اعظم بنو گے

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=458197

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha