روزن دیوار سے …عطاء الحق قاسمی
غمگین سلیمانی اپنے بچپن ہی سے غمگین رہنا شروع ہو گیا تھا چنانچہ شنید ہے کہ اپنی پیدائش کے وقت وہ دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ رویا تھا۔ ایک روایت یہ ہے کہ جب بہت دیر تک اس کا رونا بند نہ ہوا تو دائی نے اس کی ماں سے نظریں بچا کر اس کی کمر میں ایک زور دار چٹکی لی جس پر یہ اور زیادہ رویا۔ جب یہ ذرا بڑا ہوا تو اس کے والدین کی خواہش تھی کہ یہ پنگوڑے میں یا ان کی گود میں اسی طرح مسکرائے جیسے دوسرے بچے مسکراتے ہیں اور ایسے موقعوں پر سمجھا جاتا ہے کہ دراصل پریاں انہیں جھولا دے رہی ہیں لیکن غمگین سلیمانی کے چہرے پر کبھی مسکراہٹ نہیں دیکھی گئی۔ اس کے والدین اسے ہنسانے کے لئے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر ”کھچ کھچ کھچ“ بھی کہتے، اسے ہوا میں اچھالتے، بے سرو پا سی باتیں کرتے اور مضحکہ خیز شکلیں بناتے لیکن یہ پکا سا منہ بنائے رکھتا۔ وہ تو جب اس نے بولنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ وہ پیدائش کے بعد سے اب تک غمگین کیوں نظر آتا ہے کیونکہ اسے ہر وقت یہ خیال غم زدہ رکھتا تھا کہ ایک دن اس نے مر جانا ہے۔ جب اس کی والدہ کو بیٹے کی اس پریشانی کا پتہ چلا تو اس نے صدقے واری جاتے ہوئے کہا ”میرے غمگین بیٹے ، اللہ تمہیں میری عمر بھی لگائے لیکن جب تک تم مرتے نہیں، اس وقت تک سال میں کم از کم ایک آدھ دفعہ تو مسکرا لیا کرو“ مگر اس نے اپنی والدہ کو بہت دکھ بھرے انداز میں جواب دیا اور بولا ”والدہ، مسکرانے سے موت ٹل تو نہیں سکتی“۔
غمگین سلیمانی کا ایک اور واقعہ اس کے دوست سناتے ہیں کہ جب میٹرک کے امتحان میں وہ اپنی کلاس میں اول آیا تو دوست اسے مبارک باد دینے اس کے گھر گئے مگر وہ بہت دکھی نظر آ رہا تھا۔ دوستوں نے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے ایک آہ بھر کر کہا ”اگلے سال کوئی اور لڑکا کلاس میں اول آ جائے گا“۔ غمگین کو عالم شباب میں ایک لڑکی سے محبت ہو گئی کیونکہ وہ اس سے بھی زیادہ دکھی تھی اور اس کے دکھوں کی نوعیت بھی غمگین کے دکھوں ایسی ہی تھی۔ وہ ایک ٹی وی چینل سے وابستہ تھی اور لوگوں کو دکھ بھرے مناظر دکھا دکھا کر رلاتی رہتی تھی۔ اسے جب پتہ چلتا کہ کہیں کوئی حادثہ ہوا ہے تو وہ فوراً اپنے کیمرہ مین کے ساتھ جائے حادثہ پر پہنچتی اور بین کرتی عورتوں کو دکھاتی۔ جنازوں کے مناظر کچھ اس طرح شوٹ کراتی کہ دیکھنے والوں کے دل دہل جائیں۔ اگر اسے اٹھارہ کروڑ کی آبادی میں سے خودکشی کی کوئی خبر ملتی تو وہ کئی کئی دن تک اسے موضوع بنا کر لوگوں کی اداسی اور مایوسی میں اضافہ کرتی۔ غمگین کی یہ دوست شاعرہ بھی تھی، وہ ایسے شعر کہتی کہ فانی بدایونی کی روح زار و قطار روتی نظر آتی۔ ان دونوں کے مشترکہ دوستوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو جائیں، ان کی خوب نبھے گی۔ مگر غمگین نے ایک آہِ سرد کھینچی اور کہا ”اگر شادی کی تو بچے ہوں گے چنانچہ ہم یہ رسک نہیں لے سکتے“۔ دوستوں نے پوچھا ”اس میں رسک کی کون سی بات ہے؟“ غمگین سلیمانی نے جواب دیا”رسک یہ ہے کہ ہماری شادی پر ہمارے خاندان والے خوش ہوں گے لیکن نہ ہم خوش رہنا چاہتے ہیں اور نہ دوسروں کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ دنیا فانی ہے چنانچہ یہ رو دھو کر ہی گزارنا چاہئے؟“ تاہم ان دنوں یہ غیر شادی شدہ جوڑا اگرچہ اپنی خوشی ظاہر نہیں کرتا لیکن ان کی گفتگو سے ان کی اندر کی خوشی بہرحال چھلکتی نظر آتی ہے کیونکہ پوری قوم دہشت گردی کی وارداتوں ، سیلاب کی تباہ کاریوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے اداسی کی زد میں آئی ہوئی ہے، جس پر ان کی خوشی سنبھالے نہیں سنبھلتی۔ غمگین سلیمانی کی ٹی وی اینکر دوست تمام چینلوں کے اینکر پرسنز کا ایک اجلاس بلانے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں وہ یہ تجویز ان کے سامنے رکھے گی کہ ٹی وی چینلوں پر پہلے سے زیادہ اندوہناک مناظر دکھائے جائیں تاکہ پاکستانی قوم حالات کی بہتری کی جس موہوم سی امید پر زندہ ہے اور یوں اس کے چہرے کی مسکراہٹ ابھی ماند نہیں پڑی وہ بھی ختم ہو جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاست، عدالت، شجاعت، دیانت، امانت اور ان دوسرے تمام شعبوں کی صرف بھیانک صورت پہلے سے زیادہ زور و شور کے ساتھ ناظرین کو دکھائی جائے نیز پاکستانی قوم کے مختلف طبقوں میں جو مثبت علامتیں پائی جاتی ہیں انہیں سامنے نہ لایا جائے تاکہ غمگین سلیمانی اور اس کی اینکر پرسن دوست لوگوں کو یہ یقین دلا سکیں کہ دائمی صداقت صرف آہ و زاری ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ عارضی ہے کیونکہ ایک دن مر تو جانا ہے۔
مگر ہماری پاکستانی قوم بھی بہت ڈھیٹ ہے ۔ وہ آہ و زاری کی بجائے بحرانوں کا مقابلہ پامردی سے کرنے کی قائل ہے بلکہ ہمارے درمیان تو ایسے ستم ظریف بھی موجود ہیں جو غمگین سلیمانی اور اس کی غم زدہ اینکر پرسن دوست کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ چنانچہ ایک ایسے ہی ستم ظریف نے بجائے اس کے کہ ان کے مشن کا ساتھ دیتے ہوئے زندگی سے بیزاری کا اظہار کرے، الٹا ان کے ”دکھوں“ کا مداوا کرنے کی ایک تجویز سامنے رکھی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ رب کی ملائی ہوئی یہ جوڑی ایک نارمل سوچ کی حامل ہو سکتی ہے، اگر ان کی شادی کر دی جائے، دوستوں نے اس ستم ظریف کو بتایا کہ غمگین سلیمانی شادی کے بھی خلاف ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اس صورت میں اس کے اہل خاندان خوش ہو سکتے ہیں۔ جس پر یہ ستم ظریف سوچ میں پڑ گیا، وہ کافی دیر سر نیہوڑائے بیٹھا رہا پھر اس نے اپنا سر اوپر اٹھایا اور بولا ”اب میرے پاس کہنے کی کچھ گنجائش نہیں سوائے اس کے کہ غمگین سلیمانی کا میڈیکل چیک اپ کرایا جائے تاکہ اس کی ”مایوسی “ کی اگر کوئی طبی وجہ ہے تو وہ سامنے آئے بصورت دیگر وہ اور اس کی اینکر پرسن دوست پوری قوم کو اپنی طرح ”مایوسی کا مریض“ بنا کر چھوڑیں گے
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=457722
Recent Comments