چوراہا … حسن نثار
یہ وسیع و عریض ناقابل تسخیر قلعہ سطح سمندر سے تقریباً 1230فٹ مستقیماً بلند اور اس کا محیط لگ بھگ 5میل تھا ۔ اس کے اور نزدیک ترین پہاڑی کے درمیان 1200گز چوڑی خندق تھی۔ قلعہ کی دیواریں زمین سے عمودی اٹھی ہوئی تھیں جن کی اونچائی 150فٹ سے 180فٹ تک تھی یعنی تقریباً ناقابل رسائی۔ قلعہ کے چاروں جانب فصیل تھی جو پہاڑیوں کی تلہٹی سے شروع ہو کر اوپر تک جاتی۔ اول تو اس فصیل پر چڑھنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی لیکن اگر کہیں تھی تو وہاں ایک اور دیوار کھڑی کر دی گئی تھی۔ اس مورچہ بند پہاڑی تک پہنچنے کا صرف ایک ہی راستہ تھا اور وہ بھی پہاڑ کی ڈھال پر سے ترچھا ہو کر جنوب مشرق پہنچتا۔ یہ راستہ تنگ و ناہموار ہی نہیں کانٹے دار جھاڑیوں سے پر تھا اور کہیں کہیں تو بالکل عمودی ہو کر پہلے یا نچلے دروازے تک پہنچتا۔
قلعہ کی یہ تفصیل 19ویں صدی میں لکھی گئی جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ16ویں صدی میں یہ قلعہ کس قدر مستحکم اور ناقابل تسخیر ہوگا۔ قلعہ کی فصیل پر جمائے ہوئے بڑے بڑے پتھر کسی توپخانے سے بھی زیادہ خوفناک تھے کیونکہ وہ بڑے سے بڑے لشکر کو گھاس کی طرح کچل اور مسل سکتے تھے۔ ہاتھیوں، اونٹوں اور گھوڑوں کو قیمے کے ڈھیروں میں تبدیل کرسکتے تھے۔
دوسری طرف عظیم فاتح جنگی تیاریوں میں مصروف تھا۔ فارغ ہوتے ہی اس نے حملہ کے دن کا اعلان کیا۔ دس ربیع الاول 952ھ بمطابق 22مئی 1545ء ناشتہ کے بعد فوج نے یلغار شروع کی۔ بادشاہ نے خود لکڑی کے مینار پر چڑھ کر تیر چھوڑتے ہوئے حملہ شروع کرنے کی رسم پوری کی تھی۔ تیروں کی بوچھاڑ فصیل پر بے اثر دیکھ کر اس نے اپنے جانبازوں کو ”حقہ“ لانے کا حکم دیا۔ ”حقہ“ ایک بھدی شکل کا دستی گولہ تھا جس سے اس زمانے میں ہینڈ گرنیڈ قسم کا کام لیا جاتا۔ اب تیروں کی جگہ ”حقوں“ کی برسات شروع ہوئی۔ بادشاہ جو سپہ سالار بھی تھا… لکڑی کے مینار سے نیچے اترا اور خود اس کام کی نگرانی کرنے لگا کہ اچانک ایک حقہ قلعہ کی دیوار سے ٹکرا کر جلتا ہوا واپس آکر حقوں کی انبار پر گر پڑا تو جیسے قیامت آگئی۔ شجاعت اور دانش کا پیکر، رعایا کے لئے گھنا سایہ آگ کے طوفان میں گھر گیا اور جب اسے باہر نکالا گیا تو وہ آدھا جل چکا تھا اور صرف اپنی بے پناہ قوت ارادی اور کاز کے ساتھ اپنی حیرت انگیز کمٹمنٹ کے سبب زندہ بھی تھا اور پورے ہوش میں بھی۔ اسے شاہی خیمہ میں لے جایا گیا تو اذیت کی انتہاؤں میں اس نے اپنے امیروں اور سرداروں کو طلب کیا اور مضبوط لہجے میں عیسیٰ خان کو حکم دیا… ”میں موت سے پہلے اس ناقابل تسخیر قلعہ کو سرنگوں دیکھنا چاہتا ہوں تاکہ اطمینان سے اور جلد از جلد رخصت ہو سکوں اور میری اذیت ختم ہو“۔ لشکر تک پیغام پہنچنے کی دیر تھی کہ اس کے سپاہی دیوانہ وار اک عالم وحشت میں قلعہ پر ٹوٹ پڑے۔
ہندوستان کی کل تاریخ کے تین عظیم ترین بادشاہوں میں بھی نمایاں شیر شاہ سوری بستر مرگ پر ناقابل یقین اذیت میں مبتلا ہونے کے باوجود فتح کی خبر کا منتظر تھا۔ اس کے کان میدان کارزار کی آوازوں پر اور آنکھیں شاہی خیمہ کے دروازوں پر لگی تھیں۔ کوئی امیر، کوئی سردار، کوئی مصاحب عیادت کے لئے خیمہ میں آتا تو وہ اسے گھورتے ہوئے میدان جنگ کی طرف جانے کا حکم دیتا۔ ادھر نوبت دو بدو جنگ تک پہنچ چکی تھی۔ آخر میں راجہ کرت سنگھ ستر سرفروشوں کو لے کر سر دھڑ کی بازی لگاتے ہوئے قلعہ میں گھس گیا۔ بالآخر جب شیرشاہ سوری کو فتح کی خبر ملی تو چہرے کی بے پناہ اذیت اطمینان میں ڈھل گئی اور اس کی زبان سے بے ساختہ نکلا… ”اللہ تیرا شکر ہے یہ میری آخری خواہش تھی“۔ پھر اُسی رات وسط شب برصغیر کی تاریخ کا بہترین منتظم، اعلیٰ ترین منصف، دلیر ترین سپاہی،عاقل ترین بادشاہ… بادشاہوں کے بادشاہ کے دربار میں پیش ہوگیا۔ شیر شاہ سوری کو صرف پانچ سال کی مہلت یعنی ٹرم ملی اور وہ برصغیر کو اتنا کچھ دے گیا کہ مغلوں کے بعد انگریز بھی اس سے استفادہ کرتے رہے۔ وہ 16ویں صدی کا طوفانی انسان تھا جو مرگ ناگہانی کا شکار نہ ہوتا تو شاید برصغیر کی تاریخ بالکل ہی مختلف ہوتی۔ وہ دیندار اور پرہیزگار ہونے کے باوجود اورنگ زیب کی طرح جنونی اور انتہا پسند نہیں تھا تو دوسری طرف انتہائی روشن خیال ہونے کے باوجود اکبر کی طرح بہکا اور بھٹکا ہوا نہیں تھا۔ صرف 5سال کی حکومت، اتنی بڑی سلطنت اتنی فتوحات، اتنے انتظامات، اتنی اصلاحات اور یہ سب صرف 5سال میں تو اس کی اکلوتی وجہ تھی کمٹمنٹ، کمٹمنٹ اور صرف کمٹمنٹ اللہ سے عوام سے اور اپنے کام سے کمٹمنٹ۔ کہاں وہ … کہاں یہ جو سیاسی یتیم اور مسکین لگتے ہیں کہ ہر وقت اپنی ٹرم (Term)کو ہی روتے رہتے ہیں۔ ا نہیں 500سال کی ٹرم بھی مل جائے تو یہ شیر شاہ سوری کی پانچ سالہ ٹرم کی خاک تک نہ پہنچ سکیں۔
کہاں شیر شاہ… کہاں یہ کاغذی شیر۔
کہاں سوری… کہاں زرداری۔
کہاں کالنجر کافاتح… کہاں بیرون ملک جائیدادوں کے یہ شوقین۔
کہاں وہ … کہاں یہ
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=457176
Recent Comments