چوراہا…حسن نثار

سوائے غموں، دکھوں، بھوک، بے روزگاری، بدامنی، سیلابوں اور عذابوں کے یہاں کچھ بھی اصلی نہیں۔ سب کچھ جعلی ہے جعلی جمہوریت، جعلی آمریت، جعلی دوائیاں، جعلی نمبر پلیٹیں، جعلی پولیس مقابلے، جعلی عامل بابے اور پیر، فقیر، جعلی ڈگریاں، جعلی وصیتیں، جعلی نکاح نامے، جعلی برتھ سرٹیفکیٹ، جعلی کرنسی… صرف مہنگائی اصلی ہے اور خودکشیاں خالص ہیں۔ یہاں تو لاٹریاں بھی صرف لٹیروں کی نکلتی ہیں، جنہیں پکڑنے کا حکم ہوتا ہے وہ پروٹوکول کی پروٹیکشن میں ہوتے ہیں۔ عوام کے لئے استری ٹھنڈی ہو تو استرا گرم اور تیز ہو جاتا ہے۔ زخموں پر نمک ہی نہیں چھڑکا جاتا بلکہ لیموں بھی نچوڑا جاتا ہے۔ تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں کیرم بورڈ پر بورک کی جگہ گرم ریت ڈال کر کھیل رہی ہیں اور ان سب نے مل جل کر جمہوریت کو رکھیل بنایا ہوا ہے۔ اس کی حیثیت اک ایسے کھیل سے زیادہ نہیں جس کے کوئی قواعد و ضوابط نہیں ہوتے۔
مرکز میں انتقام کے شعلے عروج پر ہیں کیونکہ …”جمہوریت بہترین انتقام ہے“ جبکہ صوبوں میں خودکشیوں کے میلے لگے ہوئے ہیں۔ ماضی کے فرعونوں نے نوزائیدہ بچوں کے قتل عام کا حکم دیا تھا پھر انسانوں نے ایسے فرعون دیکھے جو باقاعدہ حکم دینے کی زحمت بھی نہیں اٹھاتے بلکہ حالات ہی ایسے پیدا کر دیتے ہیں کہ پیدا ہونے والا خودکشی کرے تو پچھتائے اور نہ کرے تو پچھتائے۔ آج خودکشیاں حلال ہو چکیں اور مایوسی ثواب بن چکی۔ دونوں نام نہاد بڑی سیاسی جماعتوں نے ماضی کے صدموں سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا بلکہ جو پہلے کے سبق تھے وہ بھی بھلا دیئے گئے ہیں۔ ان کی حالت وہ ہے کہ گرے تو گدھی سے لیکن غصہ کمہار پر نکالتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہاتھ تو کوئی اور کرتا ہے لیکن یہ غصہ عوام پر نکالتے ہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ غصے کے ساتھ ساتھ لیٹ بھی نکالتے ہیں۔ عوام بری طرح رل رہے ہیں یہ آپس میں گھل مل رہے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب ان کی ضمانتوں کے مچلکے بری طرح مسل دیئے جائیں گے اور رہائی کی جگہ پھر دہائی کی صدائیں سنائی دیں گی۔ اس ملک میں کوئی ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہے اور باقی لوگ ”ٹارگٹ بلنگ“ سے مارے جا رہے ہیں۔ بجلی آتی نہیں لیکن بل عین وقت پر پہنچ جاتے ہیں۔
علامہ اقبال لاہور کے حالات دیکھ کر پریشان ہوں گے تو دوسری طرف کراچی میں حضرت قائداعظم موجودہ صورتحال پر کڑھتے ہوں گے کہ… میں کن لوگوں کو کیا دے آیا۔ عوام کا جنازہ نکل رہا ہے اور ادھر راجہ رنٹیل کی بارات آئی ہوئی ہے اور پس منظر میں فلم ”آوارہ“ کا یہ گیت بج رہا ہے۔
راجہ کی آئے گی بارات
رنگیلی ہوگی رات
مگن میں ناچوں گی
پوری قوم گرم توے پر ناچ رہی ہے یا سیلابی ریلوں کے ساتھ بہہ رہی ہے۔ ریلیں بند اور سیلابی ریلے شروع ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ دو ہیں جبکہ 18کروڑ عوام اکیلے ہیں۔ ایک طرف متاثرین سیلاب کی امداد کے لئے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی ہو رہی ہے تو دوسری طرف چرچا یہ ہے کہ صدر مملکت چرچل ہوٹل کے رائیل سوئٹ میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ ٹیلی کام کمپنیوں سے لے کر ٹیکسٹائیل تک ہر کوئی نقصان اٹھا رہا ہے… فائدہ صرف ان حکمرانوں کو ہے جو ”وعدہ“ کو ”واعدہ“ کہتے ہیں… باقی سب کا اللہ حافظ۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=456950

  One Response to “بلاعنوان”

  1. A person appeal to all the journalists in the name of Humanity, Pakistaniat, and Islam.
    Since the chains were unlocked by President Musharaf on the media our media seems to have gone mad.
    They have no doubt become rich and richer every day. They were previously living on the bones provided to them by vested interest in 100 or 1000 Rupees but now people like Hamid Mir and Shahid massood are getting in Millions. Yes they are disloyal Dogs and bite the person who gave them the opportunity. Dogs are loyal to the master but Snake can not be. Nation has become Hyper and ultimately children of every body would suffer.
    I know Hassan Nisat and many like him are sincere and patriotic. I appeal to them to save the country from the Snakes who have started ruling the Pakistani nation and destroying it every day.

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha