چوراہا …حسن نثار
یہاں پیشہ ور ”امیدیئے “ بہت ہیں جو بغیر کسی وجہ کے امید کی اندھی اور اندھیری کرنیں بکھیرتے رہتے ہیں تاکہ ”مثبت “ دکھائی دیں جبکہ ہم جیسے حالات میں ”حقیقت “ اور ”حقائق “ پر نظر رکھنا زیادہ ضروری ہے چاہے کسی کو آگ لگے یا مرچیں، کوئی بھی انسانی معاشرہ سو فیصد شیطانی یا سو فیصد رحمانی نہیں ہوتا نہ ہو سکتا ہے کیونکہ جہاں انسان ہو گا وہاں گناہ اور جرم بھی ہو گا، خیر کے ساتھ ساتھ شر بھی ہو گا۔ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ کسی بھی معاشرہ میں خیروشر …خوبصورتی و بدصورتی … اچھا ئی اور برائی … نیکی اور بدی کا تناسب کیا ہے ؟ اگر کسی معاشرہ میں خیر، خوبصورتی، اچھائی اور نیکی کا تناسب بڑھ جائے ، خیر کا غلبہ ہو، نیکی کے ”شیئرز “ اکیاون فیصد ہو جائیں اور بدی کے ”شیئرز “ 49فیصد رہ جائیں تو وہ بہتر معاشرہ کہلائے گا ۔بدی ڈومینیٹ کر جائے تو یہ ”بد“ کہلائے گا ۔ ہمارے معاشرہ میں خیر تو ہے لیکن بدقسمتی سے اسے پاس مارکس بھی نہیں دیئے جا سکتے کیونکہ معاشرہ میں فیصلہ کن ”شیئرز “ …شر کے پاس ہیں اور جس کے ”شیئرز“ زیادہ ہوں، فیصلے بھی اسی کی مرضی کے مطابق ہوتے ہیں اور ان پر عملدرآمد بھی طاغوث اور شیطان ہی کرتا ہے ۔ پھر معاشرہ اک ایسے مرحلہ میں داخل ہو جاتا ہے جہاں عموماً نمبر ایک ہونے کیلئے دو نمبری بنیادی شرط قرار پاتی ہے اور اس طرح کے محاروے جنم لیتے ہیں کہ … ”چور اچکا چودھری تے غنڈی رن پردھان“ یا یہ کہ طاقتور کا سو سات ضرب بیس کے برابر ہوتا ہے یا علامہ اقبال سے شکوہ ہوتا ہے ۔
ہم نے اقبال کا کہا مانا اور فاقوں کے ہاتھ مرتے رہے
جھکنے والوں نے رفعتیں پائیں ہم خودی کو بلند کرتے رہے
تب یوں بھی ہوتا ہے کہ جن کے خلاف چالیس چالیس ایف آئی آرز ہوں وہ دھڑلے سے ایم این اے منتخب ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ ماحول اور حالات ہیں جن کے سبب نہ میں امید کی کوئی کرن دیکھتا ہوں نہ دکھاتا ہوں۔ میرے نزدیک امید کی کرن دکھانے سے بہتر ہے کہ آئینہ دکھایا جائے لیکن آج اوپر نیچے کچھ ایسی حوصلہ افزا باتیں سامنے آئی ہیں کہ اس انتہائی سوگوار ماحول میں بھی مہک محسوس ہوئی تو سوچا جہاں اپنے قارئین کے ساتھ ڈپریشن ، فرسٹریشن، مایوسی اور نا امیدی شیئر کرتا ہوں وہاں کچھ پازیٹو باتیں بھی شیئر کر لوں مثلاً
میں نے خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کو ٹی وی سکرین کے علاوہ کبھی دیکھا تک نہیں لیکن اس شخص کیلئے میری محبت، عقیدت میں بدلنے لگی ہے ۔ اکلوتے جواں سال بیٹے کی شہادت کو اس مرد مومن نے جتنی طاقت اور استقامت کے ساتھ فیس کیا ہے وہ کوئی انتہائی غیر معمولی انسان ہی کر سکتا ہے اور اس عظیم المیہ کے فوراً بعد یہ مرد آہن جس طرح سیلاب کی تباہ کاریوں میں اپنے ہم وطنوں کے شانہ بشانہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں غرق ہے اسے لفظوں میں بیان کرنا کم از کم میرے لئے تو ممکن نہیں ۔
”ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی “
میں دل کی گہرائیوں سے میاں افتخار کو سلام عقیدت پیش کرتا ہوں ۔
ادھر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کمال کر دیا کہ انگلینڈ میں ”مہاجر“ ہوتے ہوئے بھی لگی لپٹی رکھے بغیر وہاں کے وزیر اعظم کو ایسی شٹ اپ کال دی جو پاکستان میں بیٹھے ہوئے بہت سے سیاسی ہیوی ویٹس کو بھی نصیب نہیں ہوئی۔
یہی نہیں بلکہ ڈیوڈ کیمرون کی سرزنش کے ساتھ ساتھ اپنے اتحادی صدر زرداری کو بھی یہ ”نصیحت“ کر دی کہ حضور ! برطانیہ کے دورے پر نظرثانی کریں۔ پاکستانی ہونے کا ایسا حق ادا کرنے پر تھینک یو الطاف بھائی ! تھینک یو ویری مچ
اور کون نہیں جانتا کہ چودھری شجاعت حسین مختلف امراض میں مبتلا ایک بیمار آدمی ہے لیکن محلات اور محل سراؤں میں چھپ کر بیٹھے ہوئے صحت مندوں کے برعکس یہ بیمار مردانہ وار ہم وطنوں کے دکھ میں عملاً شریک ہوا ۔ چودھری شجاعت کا قافلہ پشاور چارسدہ روڈ پر خوفناک سیلابی ریلے میں پھنس گیا تو ساتھیوں سمیت ٹرک پر چڑھ کر جان بچائی اور کہا … ”میں نے پہلی بار موت کو اتنے قریب سے دیکھا “ اس طرح کے حالات میں جب لیڈر عوام کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو وہ گرتا ہوا آسمان نہیں تھام لیتے یا پاؤں کے نیچے سے کھسکتی زمین نہیں سنبھال لیتے لیکن اس کی ایک ” سمبالک ویلیو “ ہوتی ہے…وہ کون ہیں جو لیڈری کے دعوؤں سمیت ابھی تک اپنے محلات میں دبکے بیٹھے ہیں بلکہ بیرون ملک دوروں کیلئے بھی پرتول رہے ہیں ۔ صدر مملکت کو بطور صدر نہ سہی بطور شریک چیئرمین پیپلز پارٹی تو سیلاب زدگان کو اپنا درشن کراناچاہئے کہ شاید ان کی مشہور زمانہ مسکراہٹ ہی تباہ حالوں کیلئے مرہم کا کام کر سکے۔
چلتے چلتے یار غار ابرار بھٹی کا یہ تبصرہ بھی سن لیں کہ چند روز پہلے ہم پاکستانی آپس میں پانی پر جھگڑ رہے تھے …قدرت نے اس کی اتنی فراوانی کر دی کہ اب کوئی اسے قبولنے سنبھالنے پر تیار نہیں۔
شاید قدرت کچھ آخری وارننگز دیکر اتمام حجت کر رہی ہے تو ان وارننگز کو بھی امید کی کرنیں سمجھیں اور ان سے فائدہ اٹھائیں
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=455774
A personal appeal to all Pakistanis:
Dear Pakistani Businessmen:
World is changing fast and new economic opportunities are opening very near to our borders. But we are so much aloof to the situation that we are failing to take advantage of the opportunities and then blame the others for our misfortunes. Unless we will take situation in our own hands we will remain slaves of our destiny. Recent 2nd meeting of 4 Presidents in Sochi Russia (Russia, Pakistan, Afghanistan, Tajikistan) is the greatest event in last 100 years and opens the Economic opportunities for Pakistani Businessmen to the 280 Million Soviet Republics through Afghanistan & Tajikistan.
• Afghanistan against widely held perceptions is a much safer country than even Pakistan and is offering great business opportunities but we are failing to take advantage.
• Today one Afghani is equal to 2 Pakistani Rupees.
• Afghanistan is the 2nd biggest Export Market of Pakistani Products after only to USA.
• Every day and Night Thousands of Pakistanis travel to Afghanistan and Afghan Embassy issues daily more than 500 Visas and 90% people getting Afghan Visa belong to Punjab.
• At Bagram Base Near Kabul Thousands of Pakistanis belonging to Punjab are employed.
• In Afghanistan Road conditions are much better than our GT Road.
• During late night Kabul is full of street Lights and traffic flows the whole night.
Do not be influenced from the Opinions of those who have never visited Afghanistan but are writing about the internal situation.
Just Visit Afghan Embassy in Islamabad and see with your own eyes thousands of Punjabis standing in lines waiting for Afghan Visa.
Just Visit Torkham and see with your own eyes Thousands of Trucks Loaded with Export Goods waiting for Custom Clearance.
Harley Tourism Pvt Limited has its own offices in Pakistan, Afghanistan, Tajikistan, and Uzbekistan and ready to help you to take advantage of the new opportunities in Afghanistan, Central Asia, and Russian Republics