چوراہا …حسن نثار
انسانی جسم کی کہانی دراصل پانی کے گرد ہی گھومتی ہے کہ اس میں باقی سب کچھ بہت ہی کم اور باقی سب پانی ہی پانی ہوتا ہے۔ یہی حال اس کرہ ارض کا ہے جس کا زیادہ تر حصہ پانی سے ڈھکا ہوا ہے۔ دوسرے لفظوں میں پانی زندگی ہے لیکن ہمارے لئے یہی زندگی موت کا پیغام بن گئی اوپر ڈرون کا عذاب نیچے سیلاب۔
میں کہ خوش ہوتا تھا دریا کی روانی دیکھ کر
کانپ اٹھا ہوں گلی کوچوں میں پانی دیکھ کر
سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا، اک تازہ ترین خبر کے مطابق دیربالا میں آسمانی بجلی گرنے سے پورے کا پورا گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گیا اور ایک ہی خاندان کے بارہ افراد سمیت 30افراد ہلاک ہوگئے جن میں سے 23کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ ادھر سٹیٹ بینک سے ملنے والی ”نوید مسرت“ اپنی جگہ کہ مہنگائی اس سال بھی بڑھے گی۔ بجٹ خسارہ پورا کرنا مشکل ہوگا۔ قرضے اقتصادی استحکام پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
سنگین ترین حالات کی ان معمولی ترین جھلکیوں کے درمیان ان دو خبروں پر توجہ فرمایئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ایم این اے جمشید دستی کو بچانے کے لئے ”مشترکہ“ کوششیں شروع کر دی ہیں اور مظفر گڑھ ڈسٹرکٹ ہسپتال میں ایم این اے اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والے ڈاکٹروں اور نرسوں پر ”صلح“ کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ متاثرین کو ”صلح“ نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ ادھر پولیس بھی جمشید دستی کو گرفتار کرنے سے گریزاں ہے۔ ذرائع کے مطابق 2008ء میں جمشید دستی کے ایم این اے منتخب ہونے کے وقت ان کے خلاف چالیس ایف آئی آر درج تھیں۔
قارئین!
مختلف قسم کی زمینی و آسمانی قیامتوں میں سے گزرتے ہوئے اس ملک میں یہ ہے اصلی گوڈ گورننس، لا اینڈ آرڈر اور انصاف کی صورتحال تو پھر قدرت منیر نیازی کی بددعا کیوں نہ سنے :
اس شہر سنگ دل کو جلا دینا چاہئے
پھر اس کی راکھ کو بھی اڑا دینا چاہئے
ملتی نہیں امان ہمیں جس زمین پر
اک حشر اس زمیں پر اٹھا دینا چاہئے
منیر کی اسی غزل کا ایک مصرعہ ہے:
”لوگوں کو ان کے گھر میں ڈرا دینا چاہئے“
گھروں میں ڈرنے کے لئے تو گھروں کا ہونا ضروری ہے جبکہ یہاں تو گھروں کے گھر تہہ آب ہوگئے، بیسیوں دیہات خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے اور لوگ کھلے آسمانوں کے نیچے ڈرے بیٹھے ہیں کہ سیلاب کے بعد اس عذاب کے ”آفٹر ایفیکٹس“ نے بھی نمودار ہونا ہے۔ نجانے کون کون سی وبائیں اور امراض ابھی پائپ لائن میں ہیں اور کسی پاپی کو کوئی اندازہ نہیں ہوگا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے انہیں کیسی تیاریاں کرنی چاہئیں؟ کون کون سی دواؤں، ویکسینز وغیرہ کا بندوبست ہونا چاہئے۔
جمشید دستی کی ”صلح“ والی خبر کے بعد دوسری خبر اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے یا دردناک؟ اس کا فیصلہ آپ خودکر لیں کہ خودکشیوں اور خودکش بمباروں، سیلابوں اور آسمانی بجلیوں میں گھرے اس ملک کے سربراہ اور اس کے ساتھیوں کے لئے لندن کے ایک لگژری ہوٹل میں مہنگے ترین کمرے بک ہوچکے ہیں اور بلاول برمنگھم کے جس کنونشن سنٹر میں خطاب کرینگے ، اس کا کرایہ چالیس ہزار پاؤنڈ ہے۔
ابھی کل ہی کامران خان نے اپنے مقبول پروگرام میں بذریعہ فون انگلینڈ میں بلاول کی لانچنگ پر میری رائے طلب کی تو کہا کہ ”سرے پیلس“ سے ”پارک لین“ تک یہی تو ہمارے حکمرانوں کا اصل وطن ہے جہاں ”میثاق جمہوریت“ جیسی مقدس دستاویزات پر دستخط ہوتے ہیں۔ پاکستان تو ان لوگوں نے صرف حکومت کرنے کے لئے رکھا ہوا ہے۔
بے شک… بے شک”جیسی قوم ہو ویسے ہی حکمران ان پر مسلط کر دیئے جاتے ہیں“ تو پھر اس بات کا شکوہ یا گلہ کیسا کہ کسی بھی ”ابنارمل سچویشن“ کو فیس نہ کرسکنا ہماری ”انتظامی ناکامی“ ہے… نہیں کیونکہ تھوڑی سی گہرائی میں اتر کر دیکھیں تو یہ سیاسی یا انتظامی نہیں سو فیصد ”عوامی ناکامی“ ہے۔ عوام جیسے نمائندے چنتے ہیں، ویسے ہی نتائج کا سامنا ان کا مقدر بن جاتا ہے سو کسی سے بھی ہمدرد ی کیسی؟ جیسی فصل ہم نے بوئی تھی ویسی ہی کاٹ رہے ہیں…… یہ سیلاب تو قدرت کے آنسو ہیں جو وہ ہماری حماقتوں پر بہا رہی ہے۔
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=455578
Recent Comments