گریبان …منوبھائی

بتایا جاتا ہے کہ بازار کی معیشت اپنی معاشرت کو بھی بازاری بنا دیتی ہے۔ عالمی شہرت کے تمثیل نگار ژان ژینے کے مشہور کھیل ”بالکونی“ سے پتہ چلتا ہے کہ مغربی معاشرتی زندگی کے تمام پہلو کوٹھے کی ایک رات کے دوران واضح ہو جاتے ہیں۔ دادا امیر حیدر اپنے تلخ تجربات کے حوالے سے بتایا کرتے تھے کہ ہمارے جیسے تیسری دنیا کے نام نہاد ترقی پذیر اور دراصل پسماندہ ملکوں کی معاشرت کے تمام پہلو جیل کی کوٹھڑی میں ایک رات گزارنے سے ننگے ہو جاتے ہیں۔
ہمارے ایک شاعر نے کہا تھا کہ:
پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
یہ شعر اس خبر کو پڑھ کر یاد آیا کہ ایک انٹیلی جنس ادارے کی رپورٹ کے ذریعے جیل خانوں کے اعلیٰ افسران کو پتہ چلا ہے کہ وطن عزیز کی جیلوں میں کیا کچھ ہو رہا ہے لاہور کی ایک جیل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہاں کے بااثر قیدیوں کو موبائل فون سے لے کر منشیات تک کی سہولتیں میسر ہیں۔
انٹیلی جنس ادارے نے یہ رپورٹ ہوم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے پولیس کی سپیشل برانچ کے ذریعے تیار کروائی گئی ہے مذکورہ بالا جیل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کے اندر خلاف قانون قرار دی جانے والی بعض تنظیموں کے کارکن اور عہدیداران قید ہیں ان کارکنوں اور عہدیداروں کے اپنے جیل کے اندر اور باہر کے تمام لوگوں، عہدیداروں اور روپوش لوگوں کے ساتھ باقاعدہ رابطے ہیں اور اندر اور باہر کی دنیا کے تمام واقعات اور معلومات سے آگاہی رکھتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے وہ موبائل فون استعمال کرتے ہیں جن کا کرایہ جیل حکام وصول کرتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اس سے پہلے قیدیوں کو ان کے باہر سے بھیجے جانے والے کھانوں اور دیگر ضروریات زندگی کی چیزوں میں چھپا کر موبائل فون فراہم کئے جاتے تھے مگر جب سے ان غیر قانونی رابطوں کے بارے میں عدالت کو آگاہی حاصل ہوئی ہے اور عدالت کی جانب سے موبائل فون کے استعمال پر پابندیاں عائد ہوئی ہیں جیل حکام نے تمام قیدیوں سے موبائل چھین لئے ہیں۔ اب یہ قیدی جیل حکام کی اجازت سے اور کرایہ ادا کرکے اس نوعیت کے رابطے استعمال کرتے ہیں جن کا کرایہ دس روپے فی منٹ سے پانچ سو روپے فی منٹ جیل حکام وصول کرتے ہیں۔ انٹیلی جنس کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جیل کے اندر تمام غیر قانونی تنظیموں کے کارکن اپنے لیڈروں سے مسلسل اور متواتر رابطے میں رہتے ہیں اور ان رابطوں کے ذریعے جیل کے اندر بند قیدی جیل سے باہر کی مجرمانہ وارداتوں میں حصہ لیتے ہیں اور قانون کی نگاہوں اور ہاتھوں سے بھی بچے رہتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جیل کے اندر منشیات، دودھ اور جوس میں ملا کر لائی جاتی تھیں مگر اب یہ کاروبار کھلم کھلا ہور ہا ہے اور وافر مقدار میں منشیات جیل کے اندر پہنچ رہی ہیں اور تقریباً بلا ناغہ استعمال کی جا رہی ہیں۔ جیل حکام منشیات کے اس کاروبار کے ذریعے بھاری رشوت وصول کرتے ہیں۔ جیل کے اندر ہیروئن بھی بھاری مقدار میں کیپسول میں بھرکر بھیجی جاتی ہے۔ جیل حکام ان غیر قانونی کاروبار یا رشوت خوری کے ذریعے اپنی تنخواہوں سے کہیں زیادہ بلکہ کئی گنا زیادہ معاوضہ وصول کرتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جیل کے بعض چھوٹے ملازمین نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ غیر قانونی سیاسی تنظیموں کے کارکنوں کو جیل کی بارکوں کو جن میں خطرناک یا بہت زیادہ سیاسی اہمیت رکھنے والے دہشت گرد بند کئے گئے ہیں ”چیمبرز“ کے ذریعے اس قدر محفوظ بنایا گیا ہے کہ ان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں نہیں ہوسکتیں۔
مذکورہ بالا رپورٹ میں شاید نہیں بتایا گیا ہوگا مگر جن لوگوں کے عزیزو اقارب جیل کی قید سے گزر رہے ہیں پوری طرح آگاہی رکھتے ہیں کہ جیل کے اندر کوٹھڑیاں بھی ہوٹلوں کے کمروں کی طرح فروخت ہوتی ہیں۔ جو قیدی جیل حکام کو ماہانہ رشوت فراہم کر سکتے ہیں وہ بہت کم قیدیوں کے ساتھ جیل کی کوٹھڑیوں میں بند کئے جاتے ہیں مگر جو قیدی ماہانہ رشوت ادا نہیں کرسکتے ان کے ساتھ دس دس ،بارہ بارہ قیدیوں کو بند کیا جاتا ہے اور یوں وہ ان کوٹھڑیوں میں سونے کی سہولت سے بھی محروم رہتے ہیں اور جیل کی راتیں جاگ کر گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت کسی تحقیقات کی محتاج نہیں ہوسکتی کہ جس معاشرے میں رشوت اور سفارش چلتی ہے اس میں سب کچھ چلتا ہے۔ کوئی پابندی سختی اپنا اثر نہیں دکھا سکتی اور بقول جنرل ضیاء الحق قانون کی سختی سے صرف اور صرف رشوت کے بھاؤ میں اضافہ ہوتا ہے چنانچہ جب تک رشوت کی وبا ختم نہیں ہوتی اور سفارش کی بدعت سے نجات نہیں پائی جاتی کسی خرابی، کمزوری، جرم اور گناہ سے بچاؤ ممکن نہیں ہے اور جیلوں کے اندر بھی وہی حالات دکھائی دیتے رہیں گے جو جیلوں کے باہر کے معاشرے میں نظر آتے ہیں۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=455303

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks
  • Add to favorites
  • email

Related posts:

  1. جہنم کو جانے والا راستہ ،یا اسی طرح کی منزل – ایازا میر
  2. ہمارا انداز تجارت اور اللہ کا غضب

Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha