مشتاق احمد قریشی
وطنِ عزیز میں تو اہلِ سیاست نے اگر جعلی ڈگریوں کا سہارا لے کر اسمبلیوں میں داخلہ لے لیا تو یہ کوئی انوکھی یا غیر معمولی بات نہیں بلکہ یہ تو ان کی ذہانت کی بات ہے۔ ہر کسی کو تو یہ فن نہیں آتا کہ ہلدی لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے۔ دیکھا اور سمجھا جائے تو جعلی ڈگریاں حاصل کرنیوالے دراصل ذہین لوگ ہی ہوتے ہیں جو اپنی ذہانت کو کام میں لا کر تعلیمی مدارج و مدارس میں اپنا وقت ضائع کئے بغیر ہی وہ کام کر لیتے ہیں جو ان کے مقابلے میں کم ذہن لوگ برسوں رات دن محنت مشقت کر کے کرتے ہیں اور پھر نہ ملنے والی نوکریوں کے چکر میں مارے مارے پھرتے ہیں اور پھر تنگ آمد بجنگ کے مصداق نوکری نہ ملنے کے غم میں خود کشی کر کے موت کے گلے لگ جاتے ہیں۔ یہ ان کی کم عقلی کم فہمی ہی تو ہوتی ہے کہ پہلے وہ اپناوقت پڑھنے لکھنے میں گنوا دیتے ہیں اور پھر جب پڑھ لکھ کر فارغ ہوجاتے ہیں تو نوکری نوکری گاتے پھرتے ہیں۔ آخر یہ بھی تو لوگ ہیں جو ساری زندگی عیش میں گزارتے ہیں اپنا طالب علمی کا دور بھی ہنستے کھیلتے، موج مستی کرتے، باپوں کی کمائی اُڑاتے عیش کرتے گزارتے ہیں امتحان دیا دیا نہ دیا نہ دیا اور اگر امتحان دے بھی دیا اور اس میں فیل ہو بھی گئے تو انہیں کوئی فرق اس لئے نہیں پڑتا کہ کون سی انہیں نوکری کرنا ہوتی ہے۔ ڈگری تو ان لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جنہیں نوکری کرنا ہوتی ہے۔ رہی سیاست تو ان کے گھر کی لونڈی ہوتی ہے ان کے باپ دادا کی میراث ہوتی ہے بلکہ اکثر کی تو پیر کی جوتی ہوتی ہے۔سب سے اہم بات جو سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ جعلی ڈگری ہر کسی کے بس کی نہیں ہے۔ جعلی ڈگری ہونے کا یہ مقصد بھی ہوتا ہے کہ بندہ ذہین ہے‘ ہوشیار ہے‘ چالاک ہے اور سیاست میں یہی چیزیں کار آمد ہوتی ہیں۔ یہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا کہ لوہے کو لوہا ہی کاٹتا ہے۔ بڑے بڑے بے ایمانوں‘ چال بازوں‘ جعل سازوں سے انہی کی ٹکر کا کوئی مقابلہ کر سکتا ہے۔ جب دنیا بھر کی سیاست کا مقابلہ کرنا ہو اور واسطہ غیر ملکی فریبیوں سے پڑنا ہو تو ان سے نمٹنے، مقابلہ کرنے کے لئے ان سے زیادہ طاقتور جعل سازی میں بے ایمانی دھوکا دہی میں ہونا چاہئے۔ جب اہلِ سیاست کا مشن ہی ملک و قوم کو لوٹنا کھسوٹنا ہو تو پھر تو اہل سیاست کو ایک سے بڑھ کر ایک ہوشیار و چالاک ہونا ہی پڑتا ہے۔اب جب کہ دنیا بھر میں سیاست‘ کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اہل سیاست اب ہزاروں لاکھوں نہیں کروڑوں بلکہ اربوں روپے کی سرمایہ کاری کر کے اسمبلی میں جاتے ہیں۔ جس طرح کوئی تاجر اپنے کسی منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے سے قبل اس کی پوری منصوبہ بندی کرتا ہے‘ ایسے ہی اہل سیاست جب کسی اسمبلی میں داخلے کے لئے الیکشن کمیشن کو درخواست دیتے ہیں تو چار کھونٹ مضبوط کر کے نکلتے ہیں۔ جو جتنا بڑا چالاک ہوشیار چال باز بلکہ جعل ساز ہوگا اسے اتنی ہی بڑی کامیابی میسر آئے گی۔کہنے والے کہتے ہیں کہ سیاست تو نام ہی چالاکی دھوکے بازی چال بازی کا ہے ۔ معصوم بھولے بھالے عوام کو کس طرح بے وقوف بنانا ہے۔ عوام کی فلاح و بہبود اور بھلائی کے نام پر کیسے ان کا استحصال کرنا ہے۔سیاست دان اگر سچا کھرا ہوجائے سچ بول کر عوام کا وہ بھی غریب عوام کا بھلا کرنے لگ جائے تو اپنے پاپی پیٹ کا کیا کرے گا پھر سب سے اہم بات اس نے اسمبلی میں داخلہ حاصل کرنے کے لئے کروڑوں بلکہ کہیں کہیں تو اربوں لٹائے ہوتے ہیں اگلے الیکشن کے لئے رقم بھی تو جمع کرنی ہوتی ہے‘ ورنہ آئندہ الیکشن میں کوشش کے باوجود اسمبلی میں داخلے سے محروم رہ جائیں گے۔ ایسے ماحول میں ایسی منڈی میں اصل ڈگری کی کیا اہمیت اور وقعت ہوسکتی ہے اور پھر قانون ساز اداروں میں تو قانون ہی بنانا ہوتے ہیں بچّوں کو پڑھانا نہیں ہوتا جو کسی ڈگری کی ضرورت پڑے اور قانون سازی کے لئے قانون کا جاننا اس کا سمجھنا بھی ضروری نہیں ہوتا بس لیڈر آف دی ہاؤس جیسا کہ اس کی ہاں میں ہاں ملاؤ۔ بس یہی سب سے بڑی اہلیت و قابلیت ہوتی ہے ۔کبھی کبھی کسی وزیر سے اپنا کوئی کام نکلوانا ہو تو ذرا سی آنا کانی کرنا یا آنکھیں دکھانا پڑتی ہیں اور یہ کام کوئی عام آدمی نہیں کرسکتا اسمبلیوں میں داخلے کے لئے کسی تعلیمی سند کی شرط کی کوئی ضرورت ہی نہیں، سند کی ضرورت تو نوکری کے لئے پڑتی ہے اور اسمبلیوں میں نوکر نہیں حکمران داخلہ لیتے ہیں
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=455226
Recent Comments