…چوراہا حسن نثار
صدقہ رد بلا ہے
قوم کو صدقہ دینا ہوگا، مختلف مصائب، اذیتوں، عذابوں اور بلاؤں میں گھری ہوئی قوم کو اجتماعی صدقہ دینا ہوگا اور صدقہ کے لئے بیش قیمت، صحت مند، خوب پلے ہوئے وی وی آئی پی قسم کے بکروں، چھتروں، دبنوں، مینڈھوں، بیلوں اور مقدس قسم کے بچھڑوں کی قربانی دینا ہوگی ورنہ بلاؤں کی یلغار نہ صرف جاری رہے گی بلکہ اس کی وحشت اور شدت میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔
ایک زخم مندمل نہیں ہوتا کہ دوسری ضرب ہلا کے رکھ دیتی ہے اور ابھی اس سے سنبھلے نہیں ہوتے کہ تیسرا کاری وار، چوتھا حملہ، پانچویں چوٹ،چھٹا کچوکا نان سٹاپ زخم درزخم در خم…صدمہ در صدمہ ۔
بلوچستان میں حبیب جالب کا قتل، خیبر پختونخوا سے میاں افتخار کے اکلوتے صاحبزادے کی شہادت اور اب مارگلہ کی پہاڑیوں میں طیارے کی تباہی، بچوں عورتوں سمیت152انسانوں کی المناک موت اور کائرہ کا یہ بیان کہ افواہیں پھیلانے سے گریز کیا جائے، سانحہ میں جو بھی ملوث ہوا اسے قوم کے سامنے سزا دیں گے، یعنی اس میں بھی کسی کے ملوث ہونے کا امکان اور یہ سانحہ ہی نہیں سازش بھی ہے…
الامان الحفیظ، الامان الحفیظ
عجیب و غریب کہانیاں منظر عام پر آرہی ہیں مثلاً یہ کہ ایئر بلیو انتظامی اعتبار سے کمزور ائیر لائن ہے جس کے متعدد عہدے خالی پڑے ہیں اور یہ کہ حادثہ کا شکار ہونے والا بدنصیب طیارہ جنوری2006ء میں لیز پر لیا گیا جو دس سال پرانا ہے۔ دوسری طرف یہ خبر کہ سول ایو ایشن اتھارٹی نے ائیر نیوی گیشن آرڈر میں تبدیلی کردی تھی جس کے تحت پائلٹ کے ریسٹ ٹائم میں کمی ہوئی اور آرام کے وقفہ میں اس کمی سے پائلٹوں پر منفی ذہنی اور جسمانی اثرات مرتب ہونے لگے۔ پائلٹوں کی ایسوسی ایشن(پالپا)کے صدر سہیل بلوچ کا کہنا ہے کہ پائلٹوں کو بارہ بارہ گھنٹے کی فلائیٹس دی جاتی ہیں اور اے این او فور بھی غیر قانونی ہے۔ ایک نیوز ایجنسی کے مطابق طیارے کا بلیک بوکس مل چکا لیکن اسے خفیہ رکھا جارہا ہے ۔ ادھر مسلم لیگ(ق)سندھ کے جنرل سیکرٹری حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ خراب موسم میں پرواز کو فتح جنگ کی جانب سے رن وے پر اتارا جاتا ہے، یعنی ٹریفک کنٹرول کی غلط ڈائیریکشن کے سبب حادثہ پیش آیا۔
خدا جانے مسافروں پر آخری لمحے کیسے گزرے ہوں گے اور ان خاندانوں پر کیا بیت رہی ہوگی جن کے مسافر اب کبھی واپس نہیں آئیں گے کہ نت نئی نحوستیں ہمیں گھیرے ہوئے ہیں اور پورا ملک مختلف بلاؤں کی زد میں کہ ایک ضرب سے سنبھلتے نہیں دوسری تیار ہوتی ہے۔ وکی لیکس رپورٹ کا جال پھینکا جاچکا اور برطانیہ کا وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون بنگلور میں پاکستان کو خبردار کرتا اور دھمکی دیتا ہے کہ …”پاکستان کو دوطرف نہیں چلنے دینگے۔ دہشتگردوں سے روابط ختم کئے جائیں۔ اسلام آباد کو دہشتگردی کے پھیلاؤ کی اجازت نہیں دے سکتے۔ دہرے رویے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا“۔
دنیا میں کوئی ایک ملک بھی ایسا ہے جسے ہم جیسے حالات کا سامنا ہو؟ کوئی شے یہ شعبہ جو قرار اور سکون کی حالت میں ہو؟مختلف قسم کے شیطانی چکر انڈے بچے دئیے جاتے ہیں۔ روم کل روں روں جل رہا ہے اور نیروز کے درمیان بانسریاں بجانے کا مقابلہ اپنے عروج پر ہے۔ ان نام نہاد سیاسی قائدین کے ڈرامے دیکھو اور ڈائیلاگ سنو تو یقین ہوجاتا ہے کہ اس ملک ،اس کے عوام اور ان کے مسائل کا انہیں سرے سے ہی کوئی ادراک نہیں۔ کسٹم میڈ گھڑیاں،”سائیولرو“ کے ہاتھ سے سلے سوٹ، بلٹ پروف گاڑیاں، بیرون ملک جائیدادیں اور اکاؤنٹس ،شترمرغ یا سانپ کی کھال کے جوتے تو بھلا اس آسمانی مخلوق کو کیا پرواہ کہ کس پہر فی یونٹ بجلی کتنی مہنگی ہوئی اور کس پل چینی فی کلو کتنے روپے آگے نکل گئی۔ ان کی لاٹریاں لگی ہوئی ہیں۔ ان کے بونڈز نکل رہے ہیں۔ یہ مٹی کو ہاتھ لگائیں سونا اور سونے کو چھولیں تو پلاٹینم جبکہ عوام کے لئے گردنوں کے گرد تنگ ہوتا ہوا خاردار تار کا پھندا۔
بسے ہوئے توہیں لیکن دلیل کوئی نہیں
کچھ ایسے شہر ہیں جن کی فصیل کوئی نہیں
کسی سے کس لئے انصاف مانگنے جائیں
عدالتیں ہیں بہت اور وکیل کوئی نہیں
ابھی سے ڈھونڈلو راہیں بھی بچ نکلنے کی
وگر نہ پیاسے مروگے سبیل کوئی نہیں
سفر کرے تو بھلا کس طرح کرے کوئی
کہ راستوں پہ یہاں سنگ میل کو ئی نہیں
قوم کو اجتماعی صدقہ دینا ہوگا اور صدقہ کے لئے بیش قیمت، صحت مند خوب پلے ہوئے وی وی آئی پی قسم کے بکروں، چھتروں، دنبوں، مینڈھوں ،بیلوں اور مقدس قسم کے بیلوں کا انتخاب کرنا ہوگا ورنہ زخم در زخم اور صدمہ در صدمہ کا یہ سلسلہ ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=455038
No related posts.










Recent Comments