گزشتہ ہفتے منعقد ہونے والی کابل کانفرنس کا پیغام بالکل واضح تھا۔ نیٹو افواج کی بھی یہ خواہش ہے کہ وہ افغانستان سے ایک طے شدہ منظم انخلا کے راستے کا انتخاب کر سکیں۔ لیکن یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے کہ کیا موجودہ ڈگمگاتی اسٹرٹیجی کی بنیاد پر باقاعدہ منظم انخلا ممکن بھی ہے ؟؟ اور کیا سیاسی سمجھوتے کیلئے مذاکوات کی عدم موجودگی میں، انتقال اقتدار ہو سکتا ہے ؟؟ اس کانفرنس میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں 2014میں افغان نیشنل آرمی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس کا مقصد امریکہ کے افغان مشن کے مستقبل کے بارے میں نہ صرف مغرب کے متذبذب عوام کو یقین دلانا تھا بلکہ صدر حامد کرزئی کو بھی اشارتاً یہ باور کروانا تھا کہ ان سے اتحادی ممالک اگلے چند برسوں میں کیا توقع رکھتے ہیں۔
نویں سال میں احتیاط سے منعقد کی جانے والی نویں کانفرنس میں ستر ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ جس میں امید افزا ڈیڈ لائن اور پرعزم وعدوں کا اعلان کیا گیا ۔ لیکن یہ کانفرنس افغانستان کے مستقبل سے وابستہ غیر یقینی کی کیفیت کو نہیں چھپا سکی۔ جو ختم ہونے کے بجائے، مزید بڑھ رہی ہے۔ جس کی وجہ سے بنیادی سوالات کے جوابات کا موجود نہ ہونا ہے۔ تاہم اسکی پہلی دلیل اس حقیقت میں پوشیدہ ہے ۔ نیٹو ممالک نے2014کی ڈیڈ لائن کو جداگانہ انداز میں سمجھا ہے۔ کیا یہ ڈیڈ لائن اس سال ہونے والی پیش رفت سے مشروط ہے یا مقررہ مدت ہے۔ علاوہ ازیں اتحادی ممبران کے مابین اس حکمت عملی میں بھی اختلافات کو بھی محسوس کیا گیا ہے ۔ اتحادی افواج کا کس رفتار سے افغانستان سے انخلا ہونا چاہئے اور افغان حکومت کو انتظامی امور مستقل کرنے کی کیا رفتار ہونی چاہئے۔
روال سال کے آخر میں صوبوں کی بنیاد پر منتقلی کا آغاز ہو سکتا تھا ، تاہم افغانستان کے نئے نیٹو کمانڈر جنرل ڈیویڈ پیٹریاس کے افراد پر کانفرنس کے حتمی اعلامئے میں اس حوالے سے بظاہر کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ جنرل ڈیوڈ پیٹر یاس طالبان کی پوزیشن کمزور کرنے کیلئے زیادہ وقت چاہتے ہیں ۔
جبکہ یورپین ممالک ریفرنس کی خواہش رکھتے ہیں تاکہ نومبر میں لزبن میں ہونے والے اجلاس میں صوبوں سے متعلق اعلان کیا جا سکے۔ اس کانفرنس میں علاقائی اور بین الاقوامی خدشات کہ کیا 2014ء تک افغان نیشنل آرمی اور پولیس اتنی بہ صلاحیت ہو جائے گی کہ سکیورٹی کی ذمہ داریوں کا چارج سنبھال سکے، کو ختم کرنے کیلئے بہت محدود اقدامات کئے گئے ہیں۔ دریں اثناء پیشہ ورانہ اور نمائندہ فوج کی تشکیل کی مسلسل کوششوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان تمام مشکلات میں پشتونوں کی نمائندگی نہ ہونا ، بڑی تعداد میں فوجیوں کا فوج کی ملازمت کو چھوڑ دینا ۔ ناخواندگی ،نئے بھرتی ہونے والے فوجیوں کی نشہ آور چیزوں کے استعمال کی عادت اور مطلوبہ سطح سے گرتی ہوئی کارکردگی شامل ہیں۔ تاہم اگر آئندہ چار برس میں افغان افواج معجزانہ طور پر امن و امان کو برقرار رکھنے کیلئے مغربی افواج کی مدد کے بغیر تیار ہو بھی جاتی ہیں تو اسکو یقینی بنانے کیلئے منظم انخلاء سے زیادہ وقت درکار ہو گا ۔
منظم انخلاء کو صرف مذاکراتی سیاسی حل کے ذریعے ہی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ جس کے ذریعے جنگ کا خاتمہ بھی ہو سکے جو اپنے نویں سال میں داخل ہو چکی ہے۔ بہر کیف صدر حامد کرزئی اپنے مفاہمتی اعلان کے ذریعے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے خواہشمند ہیں۔ دریں حالیہ اتحاد کے عمل کو واشنگٹن کی حمایت حاصل ہے لیکن وہ نچلی سطح کے طالبان سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتا۔ حالانکہ افغان مفاہمتی کوششوں کو امریکا کھلے طور سے تسلیم کرتا ہے مگر وہ اب تک بغاوت کے مرکزی کرداروں سے بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اوباما انتظامیہ نے مفاہمت کیلئے شرائط کی کی وضاحت کر دی ہے۔ جن میں القاعدہ سے ہرات، افغان حکومت کے خلاف لڑائی سے گریز اور آئین کا احترام شامل ہے لیکن یہ اب بھی کافی حد تک مبہم ہے کہ یہ مذاکرات کی لازمی شرائط ہیں یا مذاکرات سے پیدا ہونے والے مشترکہ معاہدے کا حصہ ہیں۔ واشنگٹن مفاہمتی عمل میں اپنی پوزیشن کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن وہ اب بھی ،جنوبی افغانستان میں فوج میں اضافے کی اسٹرٹیجی پر قائم ہے، تاہم ،شرپسندوں کے ساتھ مذاکرات کے وقت، اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کیلئے ملٹری کمانڈروں کے احکامات پر وضع کئے جانے والے حملے میں برتری، ان عناصر سے مذاکرات میں اتحادی افواج کی پوزیشن کو مضبوط بنا دے گی۔ درحقیقت افغانستان میں اتحادی کمانڈر کی حیثیت سے جنرل پیٹر یاس کی تقرری نے اس حکمت عملی کی مزید توثیق کر دی ہے۔ پیٹریاس کے خیالات انکے گزشتہ ساتھیوں کی نسبتاً زیادہ سخت ہیں، وہ فوجی تحریک میں شدت لا کر قندھار کو محفوظ کر کے فوجی فوائد حاصل کرنے سے پہلے مفاہمت کے سخت مخالف ہیں، تاہم اسکا مقصد یہ بھی ہے کہ ایسے حالات پیدا کر لئے جائیں جو طالبان کو مذاکرات کیلئے مجبور کر سکیں اور اتحادی ایک طاقتور فریق کی حیثیت سے ان میں شامل ہوں، اس حقیقت کے باوجود کہ افغانستان میں فوجی فتح ممکن نہیں، مدبرانہ حکمت عملی پر مشتمل مقاصد کو جاری رکھنے کیلئے تیاریاں جاری ہیں۔ دریں اثناء ،واشنگٹن ،کانگریس ، میڈیا اور انتظامیہ کے اندر مزید شکوک و شہبات سامنے آنے لگے ہیں کہ کیا جنرل پیٹر یاس کا فوجی آپریشن کامیابی سے ہمکنار ہو سکتا ہے؟ امریکا کے نیٹو اتحادیوں میں سے کم ہی کو یقین ہے کہ قندھار میں بار بار موخر کئے جانے والا فوجی آپریشن افغانستان میں جاری جنگ میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی لا سکے گا۔ اسکے علاوہ یہ آپریشن طالبان کی مزاحمت میں جاری شدت، کو انکی پسپائی میں بدلنے کا موجب بھی بنے گا حتیٰ کہ امریکا کہ قریب ترین حلیف برطانیہ کو بھی اس آپریشن سے بہتر نتائج حاصل ہونے کی توقع نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر حالیہ ناکامیاں مخالف سمت میں ہی اشارہ کرتی ہیں اور ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی اور سیاسی وجوہات کے باعث کسی بھی بہتری کے امکانات کس قدر معدوم ہیں۔ تاہم ان مظاہر میں سرکشی میں اضافے کے باعث اتحادی افواج کی اموات میں حیرت انگیز اضافہ جو گزشتہ سال کی نسبت اس برس میں دو گنا ہو گیا ہے۔ ہلمند کے چھوٹے علاقے مرجاہ کو محفوظ کرنے میں ناکامی، عوامی حمایت میں کمی، جس میں امریکا میں50فیصد سے زائد افراد اس جنگ کے مخالف ہیں اور برطانیہ میں ریکارڈ اضافے کے ساتھ 77فیصد شہری اپنی فوج کو افغانستان سے واپس بلانا چاہتے ہیں اور جنرل اسٹینلے میک کرسٹل کی برطرفی جو اوباما انتظامیہ کی سکیورٹی ٹیم کے اندر گہرے تناؤ اور امریکا کی سب سے طویل جنگ کے طریقہ کار میں موافقت کے فقدان کو ظاہر کرتی ،شامل ہیں۔
جنگ کیلئے تیزی سے کم ہوتی حمایت میں بہتری لانے کے حوالے سے نتائج حاصل کرنے کیلئے سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اور یہ بھی ایک وجہ ہے کہ سمجھا جا رہا ہے کہ آخری چارہ کے طور پر ایک ایسی فوجی کارروائی کر کے کامیابی حاصل کر لی جائے ،جو اتحادی افواج کے باعزت انخلا کی بنیاد فراہم کر سکے۔ دریں اثناء یہاں پر ایک نہ ختم ہونے والی بحث ہے کہ سرکشوں کے ساتھ مذاکرات کیا رخ اختیار کرتے ہیں، اور ان کا بیڑا کیسے اٹھایا جائے گا اور مذاکرات کا طریق عمل کیا ہو گا لیکن جب تک امریکا فوجی ذرائع کے راستے کو چھوڑنے کیلئے رضا مندی ظاہر کرے گا اور کسی سیاسی حل کا انتخاب کرے گا اس وقت ،تک افغانستان کا اینڈ گیم غیر منظم کی جانب بھی جا سکتا ہے جس میں افراتفری کے پہلو بہت نمایاں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اوباما نومبر میں ہونے والے ہم وسط مدتی کانگریس کے انتخابات تک اس قسم کا فیصلہ ملتوی کرنا چاہتے ہوں جبکہ پورا ایوان نمائندگان اور سینٹ کا تین تہائی حصہ الیکشن کیلئے تیار ہے۔ تاہم معاشی مایوسیوں کے ان لمحات میں ووٹرز کے درمیان کے خلاف حالیہ موڈ کے تناظر میں ڈیمو کریٹک پارٹی سینٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے باوجود ایوان پر سے کنٹرول کھو سکتی ہے آنے والے الیکشن میں ،افغانستان کی نسبت معیشت اور بڑھتی ہوئی بیروزگاری جیسے مسائل زیادہ حاوی رہیں گے۔ جیسا کہ صدر اوباما ان مسائل میں مدافعتی پوزیشن میں ہیں۔ لہٰذا وہ دیگر مسائل کو نظر انداز کرنا چاہیں جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ریپبلکن ان پر تنقید کر سکتے ہیں کہ وہ قومی سکیورٹی کے مسئلے پر امریکا کے دشمنوں کے ساتھ بہت کمزور یا سمجھوتے کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ تاہم دائیں بازو والے اس بحث سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔
طالبان کے ساتھ ،آج کی نسبت مستقبل میں مذاکرات کا آغاز اوباما کیلئے سیاسی خطرات کو بڑھا دے گا ۔ فوجی آپشن کے ختم ہونے پر امریکی عوام کو دھوکا دینے کیلئے سرکشوں کے ساتھ مذاکرات شاید انتظامیہ کیلئے آسان ہوں ۔ تاہم صدر اوبامہ کا دسمبر کیلئے افغان اسٹرٹیجی پر نظر ثانی کا اعلان گیئر کو شفٹ کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔
ان سیاسی عوامل کے علاوہ امریکا کے کچھ مزید خدشات بھی ہیں کہ طالبان کے ساتھ فوجی اقدامات کی راہ عمل کو نظر انداز کر کے سیاسی اسٹرٹیجی کی راہ اختیار کرتے ہوئے شکست کے تاثر کو کیسے نظر انداز کیا جائے گا۔ لیکن ناکام پالیسی پر عمل پیرا رہتے ہوئے شاید ہی وہ اس پریشان کن صورتحال کی جانب توجہ دے سکیں اور نہ ہی پالیسی کس طرح افغانستان سے مغربی افواج کے معقول انخلا کا سبب ہو سکتی ہے۔
صرف مذاکرات کے ذریعے عمل میں آنے والا سمجھوتہ ہی اس مشکل کو حل کر سکتا ہے۔ اور اسکو آگے بڑھانے کیلئے جتنی فوری کوشش کی جائیں گی اتنے ہی منظم انخلا کے امکانات ہو سکیں گے۔ لیکن اسطرح کا معاہدہ طے پانا آسان نہیں ہے اگر مفاہمت کے حصول میں کامیابی ہو جاتی ہے تو پھر اسے افغانستان کے غیر پشتونوں کے درمیان اس منصوبے کی مخالفت پر قابو پانا ہو گا ۔ تاہم اسطرح کے معاہدے کو پڑوسی ممالک کی جانب سے حمایت اور یقین دہانی کی ضرورت بھی ہو گی۔لہٰذا یہی اس پروسس کے آغاز کا وقت ہے نہ کہ مشکل الحصول فوجی فتح کے بعد

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=454987

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha