لندن (مرتضیٰ علی شاہ)بلاول زرداری 7/اگست کو بحیثیت چیئرمین پیپلز پارٹی رسمی طور پر اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کریں گے جب صدر پاکستان اور ان کے صاحبزادے برمنگھم میں برٹش پاکستانیوں کی ایک بڑی ریلی سے خطاب کریں گے جس سے نوجوان زرداری کے سرگرم سیاسی کیریئر کا آغاز ہو گا۔ صدر کا دورہ۰ برطانیہ اور 21 سالہ بلاول کے کیریئر کی ابتدا ایسے موقع پر ہو رہی ہے جب برطانیہ میں پیپلز پارٹی کئی دھڑوں میں تقسیم ہے۔ مشہور آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے والے جہاں ان کی والدہ اور ان کے ماموں بھی زیرتعلیم رہے بلاول بھٹو جوکہ پاکستانی سیاست سے زیادہ فیس بک اور ہپ ہاپ میوزک میں دلچسپی رکھتے ہیں کی پاکستانی سیاست کے حوالے سے تربیت کی جائے گی۔ الیکشن میں حصہ لینے کیلئے انہیں 25 سال کی عمر تک پہنچنے کا انتظار کرنا پڑے گا لیکن اپنے والد کی شراکت کے بغیر مکمل طور پر پارٹی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے طاقتور نوجوان سیاستدان بن جائیں گے۔ دو سال قبل راولپنڈی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بلاول سیاست سے دور رہے اور صرف وی آئی پی سرکاری دوروں کے دوران ہی اپنے والد اور بہنوں کے ہمراہ شریک ہوئے۔ ہائی کمشنر واجد شمس الحسن اور مقامی پی پی قیادت کی طرف سے منعقد کی جانے والی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فوزیہ حبیب نے کہا کہ صدر زرداری نے برطانیہ میں مقیم پارٹی کارکنوں کی درخواست پر برطانیہ میں عوامی اجتماع سے خطاب کرنے کا فیصلہ کیا جوکہ آمریت کیخلاف جدوجہد کی طویل تاریخ رکھتے ہیں اور صدر ایسے کارکنوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ اس سوال پر کہ ان انتظامات اور سیکورٹی کا بل کون ادا کرے گا واجد شمس الحسن نے کہا کہ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ صدر پاکستان کی تقریب منعقد ہونے جا رہی ہے۔انہوں نے اتفاق کیا کہ اس کا خرچ حکومت پاکستان ادا کرے گی تاہم اس کا خرچ سابق صدور بشمول پرویز مشرف کے دوروں کے مقابلے میں کم ہو گا۔ انٹرنیشنل کنونشن سنٹر جہاں اس تقریب کا انعقاد متوقع ہے وہاں اگست کے مصروف مہینے میں ایک کانفرنس کے اخراجات 30 ہزار پونڈ ہیں لیکن اگر اس سنٹر کو پورے دن کیلئے حاصل کیا جائے تو اس کا کرایہ 60 ہزار پونڈ سے تجاوز کر جاتا ہے۔ مختص کئے گئے ہزاروں پاؤنڈز کے عوض پارٹی مشنری ایم این اے فوزیہ حبیب کی سربراہی میں صدر کی اسسٹنٹ پولیٹیکل سیکرٹری، پی پی اوورسیز ڈیسک کے انچارج اور کشمیری سیاستدان چوہدری یٰسین اور چوہدری مجید کو برطانیہ روانہ کر دیا گیا ہے تاکہ بلاول بھٹو کیلئے اس بڑے دن پر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اکٹھا کر سکیں۔ فوزیہ حبیب نے کہا کہ صدر اس موقع پر پارٹی کارکنوں کو اپنی حکومت کے اہم کاموں سے آگاہ کریں گے۔ واجد شمس الحسن کے مطابق برطانوی حکومت نے منتظمین سے کہا ہے کہ وہ اعلیٰ سطح کی سیکورٹی کا انتظام کریں جوکہ عام طور پر تیل کی دولت سے مالا مال عرب شیوخ کی آمد پر کئے جاتے ہیں لیکن برطانیہ کے سیاستدان جن میں کابینہ کے وزراء اور شاہی خاندان کے افراد بھی شامل ہیں کو ایسی سیکورٹی نہیں دی جاتی۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=455150


Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks
  • Add to favorites
  • email

Related posts:

  1. سیاسی قیادت کی سیاسی خودکشی- سلیم صافی
  2. زرداری کا کترینا؟ -فاطمہ بھٹو
  3. پرویز مشرف کی سیاسی پارٹی آل پاکستان مسلم لیگ برطانیہ میں بھی قائم
  4. نواز شریف بنام آصف زرداری
  5. صدر زرداری کی کارکردگی۔۔۔۔ نجم سیٹھی

Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha