صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود
میں آج کل یہ سوچ سوچ کر پریشان بلکہ لہولہان ہو رہا ہوں کہ کہیں یہ سارا میلہ میرے دوست کا کمبل چوری کرنے کے لئے تو نہیں لگایا گیا۔ جوں جوں معاملات آگے بڑھ رہے ہیں اور لوگ مٹھیاں بھینچ بھینچ کر میڈیا کے سامنے تقریریں کرتے ہیں تو میرا شک یقین میں بدلتا جا رہا ہے کہ ہو نہ ہو یہ سارا ڈرامہ میرے دوست کو ڈس کوالیفائی کروانے کے لئے رچایا گیا ہے۔ اگرچہ میں جانتا ہوں کہ میرا دوست سخت جان ہے اور وہ آسانی سے ہار ماننے والا نہیں لیکن مجھے یوں لگتا ہے جیسے شیر اور چیتے مل کر اسے گھیرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ وہ اس کے سلطان راہی کے انداز میں ”تڑیاں“ دیتے ہوئے بیانات برداشت نہیں کرسکتے۔
ویسے اس میں قصور میرے دوست ڈاکٹر بابر اعوان کا بھی ہے جو بنیادی طور پر صوفی اور عالم و فاضل انسان ہیں بھلا انہیں کیا مجبوری لاحق تھی کہ انہوں نے الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی دیتے ہوئے اپنی ڈگریوں میں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی لکھ دی جو انہیں از راہ مروت کسی جعلی امریکی یونیورسٹی نے دی تھی۔ پارلیمینٹ کا رکن منتخب ہونے کے لئے تو صرف گریجویشن یعنی بی اے کی ڈگری درکار تھی مجھے کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے پرویز مشرف نامی کمانڈو نے بی اے کی شرط رکھوا کر بارودی سرنگ بچھا دی تھی تاکہ لوگ اس پر پاؤں رکھتے رہیں اور ”ٹھاہ“ ہوتے رہیں کیونکہ اسے اچھی طرح علم تھا کہ یہ جعل ساز قوم ہے لوگ ”ضرور بہ ضرور“ جعلی ڈگریاں بنوائیں گے اور ”باشعور“ عوام کے ووٹوں سے منتخب بھی ہو جائیں گے۔ سچی بات یہ ہے کہ حلقے کے ووٹروں کو اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ ان کے امیدوار کی تعلیم اور صلاحیت کیا ہے۔ اس کے باوجود وہ جعلی ڈگری والے کو اگر اس کی دوسری صلاحیتوں کی وجہ سے ووٹ دے کر پارلیمینٹ میں بھجوا دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اس جعل سازی میں بالواسطہ طور پر شریک ہیں۔ اسے میں بارودی سرنگ اس لئے سمجھتا ہوں کہ پرویز مشرف جعلی ڈگری والوں کی دکھتی رگ سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا وہ یوں کہ جب کوئی ایسا امیدوار سر اٹھائے اور بغاوت پر آمادہ ہو تو اس کی دکھتی رگ پر انگلی رکھ کر اسے یاد دلا دیا جائے کہ حضور آ پکو چند دنوں میں ڈس کوالیفائی کروایا جاسکتا ہے ،ذرا ہوش سے کام لیں، جوش مہنگا پڑے گا۔ اسی بارودی سرنگ کا فائدہ اٹھا کرپرویز مشرف 2002ء کی پارلیمینٹ کو اپنی مرضی کے مطابق چلاتا رہا اور اسی بارودی سرنگ کے ذریعے اس نے موجودہ پارلیمینٹ کو بھی چلانا تھا لیکن اللہ کا کرنا یوں ہوا کہ صدر پرویز مشرف اپنی اصلی ڈگری کے باوجود چھٹی کر گئے اور جعلی ڈگری رکھنے والے ساتھیوں کو ”میوزک“ کا سامنا کرنے کے لئے پیچھے چھوڑ گئے۔ جعلی ڈگری والوں کی توقعات کے بالکل برعکس اب اس میوزک کا باجا زور سے بجنا شروع ہوا ہے تو وہ کھسیانی بلی کی طرح پوچھتے پھرتے ہیں کہ صاحبو، جعلی ڈگری والے مشرف کے دور میں بھی پارلیمینٹ میں تھے، کابینہ میں بھی تھے اور ہر روز اپنے علم و فضل سے قوم کو متاثر کرتے تھے اس وقت کسی نے شور نہ مچایا۔ اب ایک دم جعلی ڈگری کا باجا اونچی آواز سے کیوں بجنا شروع ہوگیا ہے؟ یہ ضرور کوئی سازش ہے اس طرح کے کھسیانے حضرات یہ سوچنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے کہ چوری بہرحال چوری ہوتی ہے چاہے وہ پہلی واردات پر پکڑی جائے یا پھر پانچ سال کے بعد پکڑی جائے۔ آپ کو علم ہے 2002ء کے انتخابات پہلے انتخابات تھے جن میں بی اے کی شرط رکھی گئی تھی۔ لوگوں کو حسن ظن تھا کہ اگرچہ ہمار ے اراکین اسمبلیاں ہر قسم کی کرپشن کرتے ہیں لیکن وہ جعلی ڈگری نہیں بنوائیں گے۔ پھر یہ بھی خیال تھا کہ الیکشن کمیشن نے ڈگریاں چیک کرکے نامزدگی فارم منظوری کئے ہوں گے۔ یہ راز اس وقت عیاں ہوا اور پھر میڈیا کے ہتھے چڑھ گیا جب جیتنے والے امیدواروں کے مخالفین نے ان پر جعلی ڈگری کا الزام لگا کر مقدمات کر دیئے۔ ان مقدمات میں جعلی ڈگریاں ثابت ہونے پر شور برپا ہوگیا کہ اراکین پارلیمینٹ کی ڈگریاں چیک کرو، یہ قوم کے ساتھ ہاتھ کر گئے ہیں اب ایک طرف جعلی ڈگریوں والے ہیں اور دوسری طرف میڈیا اور عدلیہ ہے۔ اسی لئے میں اسے بارودی سرنگ کہتا ہوں کیونکہ بارودی سرنگ خود بخود نہیں پھٹتی، یہ اس وقت پھٹتی ہے جب اس پر پاؤں رکھا جائے اور یہ پاؤں خود سیاستدانوں نے رکھا نہ کہ میڈیا نے۔
ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ میں یہ سوچ سوچ کر پریشان بلکہ لہولہان ہو رہا ہوں کہ کہیں یہ سارا میلہ میرے دوست ڈاکٹر بابر اعوان کا کمبل چوری کرنے کے لئے تو نہیں لگایا گیا۔ کیونکہ اب الیکشن کمیشن نے اعلان کر دیا ہے کہ تمام اراکین اسمبلیوں کی وہ ڈگریاں چیک کی جائیں گی جن کا انہوں نے اپنے نامزدگی کے کاغذات میں ذکر کیا ہے۔ بس یہی وہ نازک موڑ تھا جہاں میرا دوست راستہ بھول گیا۔ ڈاکٹر بابر اعوان کو چاہئے تھا کہ ان کاغذات میں صرف بی اے ایل ایل بی کا ذکر کرتا، آج نہ خود پریشان ہوتا نہ ہم لہو لہان ہوتے۔ ان کے سامنے ایک زندہ مثال ڈاکٹر رحمان ملک کی ہے جس نے لندن کی کسی جعلی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری خرید رکھی ہے لیکن عقلمندی سے کام لیتے ہوئے اس نے اپنی اس ڈگری کا ذکر الیکشن کمیشن کے کاغذات میں نہیں کیا ورنہ اگر وہ بھی شیخی بگھار دیتا تو آج ہم اس کے لئے بھی پریشان اور لہو لہان ہو رہے ہوتے کیونکہ رحمان ملک ہمارا اس وقت سے مہربان ہے جب وہ مرکزی حکومت میں ایک معمولی اہلکار ہوا کرتا تھا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ڈاکٹر بابر اعوان کو الیکشن کمیشن کے کاغدات میں پی ایچ ڈی لکھنے کا مشورہ رحمان ملک نے دیا ہوگا اور کہا ہوگا ۔
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=454962
No related posts.










Recent Comments