گریبان …منوبھائی

گزشتہ روز ان کالموں میں کھلی اور جاگتی آنکھوں کے ایک خواب کی باتیں کی گئی تھیں۔ یہ باتیں پنجاب اور ملک کے دیگر صوبوں کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات کو دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں اور معاشروں کے دورے اور وہاں کے تعلیمی نظام کو قریب سے دیکھنے کاموقع دینے کے بارے میں تھا۔ اس کالم کے سلسلے میں موصول ہونے والے ردعمل سے اندازہ ہوتا ہے کہ بہت سے علاقوں کے بہت سے لوگوں تک اس جاگتی آنکھوں کے خواب کا تذکرہ پہنچاہے مگر ”نیکی برباد گناہ لازم“ کے مصداق جن لوگوں کو یہ خواب اچھا اور خوش آئند لگا ہے انہوں نے اپنی پسندیدگی کا اظہار نہیں کیا مگر جن لوگوں کو اس خواب سے تعلیم کے میدان میں اپنے خوابوں کے پریشان ہونے کا دکھ ہے انہوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور تعلیم کے شعبے میں پورے صوبے اور ملک کے دیگر علاقوں میں پائی جانے والی خرابیوں، کمزوریوں اور غفلتوں کا شکوہ کیا ہے۔
بہت سارے والدین کا کہنا ہے کہ تعلیمی امتحانوں میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ایک یا دو فیصد ہی ہوسکتی ہے جبکہ ننانوے اور نوے فیصد طلباء اور طالبات اگر اپنی تعداد کے لحاظ سے توجہ کی مستحق نہیں ہیں تو کم از کم ایک فیصد نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والوں جیسی توجہ کی مستحق تو ضرور ہوں گی۔طلباء اور طالبات کی اس قدر بڑی تعداد کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی ساری محبت اور تمام وسائل ایک فیصد نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والوں پر نچھاور کردینا کہاں کی اور کیسی جمہوریت کا نمونہ ہے۔
بہت سارے والدین نے یہ شکایت بھی کی ہے کہ موجودہ حکومت نے سابقہ حکومت کے دور میں بنائے جانے والے بہت سے سکولوں کو ختم کردیا ہے، ان کو دوسرے پہلے سے موجود سکولوں میں ضم کردیا ہے جس سے طلباء اور طالبات سفری مشکلات میں مبتلا ہوگئے ہیں اور بہت سے استادوں کو روزگار سے محروم کردیا گیا ہے۔ اس نوعیت کی شکایات کی بھی بھرمار ہے کہ سرکاری سکولوں کی حالت دن بدن بہتر ہونے کی بجائے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ بے شمار سرکاری سکولوں میں استادوں کا وجود ہی نہیں ہے۔ ان گنت سرکاری سکولوں میں پینے کے پانی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ بچیوں کے بہت سارے سکولوں کی چار دیواری نہیں ہے۔ رفع حاجت کا کوئی انتظام نہیں ہے چنانچہ کھلی اور جاگتی آنکھوں سے دیکھے جانے والے سہانے خوابوں سے لطف اندوز ہونے کے علاوہ ان پریشان کردینے والے ڈراؤنے سپنوں کی طرف توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ بلا شبہ تعلیم اور صحت کے میدانوں میں بے شمار اور ان گنت مسائل موجود ہیں جو پوری توجہ اور عجلت سے حل ہونے چاہئیں لیکن اگر تعلیم کے شعبے میں کوئی اچھا کام ہورہا ہے تو اس کا اعتراف بھی کرلینا چاہئے۔ ان کالموں میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سابق حکومت پنجاب کے وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کی کوششوں کے علاوہ ان کے خوابوں کی موجودگی کا بھی اعتراف کیا گیا ہے مگر قومی زندگی کے تعلیم اور صحت جیسے سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والے شعبوں کو غیر جمہوری حکومتوں اور خاص طور پر فوجی حکومتوں میں جس بے دردی کے ساتھ نظرانداز کیا گیا ہے اس کا بھی برابر ذکر کیا گیا ہے۔بدقسمتی کی بات ہے کہ وطن عزیز میں جمہوری اور عوامی سیاست کے ذریعے وجود میں آنے والی حکومتوں کا عرصہ بہت ہی مختصر اور غیر جمہوری فوجی حکومتوں کا عرصہ قومی زندگی کے نصف سے زیادہ عرصے پر پھیلا ہوا ہے مگر گالیاں سب کی سب ان سیاستدانوں کے حصہ میں آئی ہیں جن کو عملی سیاست میں داخل ہونے سے ہی روکا گیا۔ عدالتی فیصلوں کے ذریعے پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔جلسہ عام سے خطاب کے دوران گولی مار کر شہید کردیا گیا یا جلا وطنی اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا۔بھاری عوامی مینڈیٹ کی موجودگی میں اقتدار سے محروم کردیا گیا اور اس سلسلے میں آئین اور قانون کے تمام تقاضوں کو نظرانداز کردیا گیا۔ اس کے باوجود کسی بھی حالت میں عوام کو درپیش مسائل کی اہمیت اور ان کے حل کی ضرورت کو نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونا چاہئے۔کھلی اور جاگتی آنکھوں سے دیکھنے والے خوابوں کے بیان میں دکھی انسانیت کی تکالیف کی طرف سے آنکھیں بند نہیں ہونی چاہئے ۔ وہاڑی کے چودھری نور محمد صاحب نے بالکل صحیح کہا ہے کہ منو بھائی فیض احمد فیض کی بیان کردہ اس معروضی حقیقت اور قدرتی مجبوری سے انکار نہیں کرسکتے کہ۔
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=454416

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks
  • Add to favorites
  • email

Related posts:

  1. پاکستان کی فوڈ سٹریٹ / جناب صدر ایک تمغہ ادھر بھی۔ حافظ محمد طاہر اشرفی
  2. اچھاوقت بھی دیکھا ہے اب براوقت بھی دیکھ لیں گے پرویز مشرف
  3. ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
  4. خلا نوردوں کی جسمانی قوت چند ماہ میں کم ہوکر 80 سال کے بوڑھے جتنی رہ جاتی ہے

Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha