اسلام آباد (عمر چیمہ) ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری‘ اسپیکر سندھ اسمبلی نثار کھوڑو اور دوسرے سندھی وڈیرے براہ راست پانی چوری کرتے ہیں۔ پانی چوری کے اس طریقے کی وجہ سے نہروں کے ٹیل پر واقع اراضی بنجر ہو رہی ہے۔ یہ رپورٹ سیاسی اشرافیہ کے خلاف ایک سنگین فرد جرم ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روہڑی کینال کے نصیر ڈویژن‘ جہاں صدر زرداری کی اراضی ہے‘ میں بااثر جاگیردار 354 فیصد پانی براہ راست طریقے سے چوری کر لیتے ہیں اور اس طرح سے وہ 3.23 کیوسک فی ایکڑ کے بجائے 11.43 کیوسک فی ایکڑ پانی حاصل کر رہے ہیں۔ صدر زرداری کی اراضی کو آبپاشی کے لئے 138 فیصد پانی زیادہ مل رہا ہے۔ نثار کھوڑو کی اراضی کو مرکزی کینال سے براہ راست پانی چوری کے ذریعے 292 فیصد پانی زیادہ مل رہا ہے۔ آبپاشی کے قوانین کے مطابق کسی کو بھی براہ راست پانی حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ سندھ محکمہ آبپاشی کے ایک سابق اہلکار کے مطابق براہ راست پانی حاصل کرنا چوری کے زمرے میں آتا ہے۔ اگرچہ پانی کی کمی اور بااثر لوگوں کی طرف سے اس کی چوری دیہی سندھ میں ایک اہم معاملہ ہے تاہم قومی میڈیا کی اس پر کبھی توجہ نہیں رہی۔ سندھی اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس پر مبنی ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف جون کے مہینے میں پانی چوری کے خلاف مظاہرے ایک ہزار سے زائد مقامات پر ہوئے۔ سندھ حکومت نے معاملہ کی چھان بین کے بجائے ایشیائی بینک کی رپورٹ کو مسترد کر دیا۔ یہ رپورٹ سندھ کے پانی کے ذرائع کی ترقی اور مینجمنٹ انویسٹمنٹ پروگرام کے لئے تیار کی گئی تھی اور اس کے لئے فنڈز بھی ایشیائی بینک نے ہی دینے تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ ایشیائی بینک نے اپنی پیشکش واپس لے لی ہے۔ یہ رپورٹ 17 قومی اور عالمی ماہرین نے مارچ سے جون 2009ء تک کام کر کے تیار کی تھی، اس وقت کے سندھ کے وزیر آبپاشی اور موجودہ وزیر خزانہ مراد علی شاہ نے دی نیوز کو اس بات کی تصدیق کی‘ ایشیائی بینک نے رپورٹ پیش کی تھی تاہم حکومت نے اسے مسترد کر دیا اس میں بے شمار غلطیاں تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس میں بہت سی چیزیں غلط ہیں۔ انہوں نے صدر زرداری سمیت وہ تمام لوگ جو براہ راست پانی حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں، کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔ صدر زرداری کے ترجمان نے ٹیلی فون کالز اور پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا تاہم رپورٹ کے مسودے میں ان کا اور نثار کھوڑو کا نام شامل ہے۔ ایم این اے ماروی میمن جو ماحولیاتی تبدیلی پر قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی کی سربراہ ہیں اور پانی چوری کے معاملے پر بھی کام کرتی رہی ہیں، نے بتایا کہ انہوں نے سندھ اور پنجاب کے علاقوں کا دورہ کیا ہے، جاگیرداروں کی طرف سے چوری دونوں صوبوں میں عام ہے۔ انہوں نے دونوں صوبوں کے اریگیشن حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ کمیٹی کو بتائیں کہ کتنے زمیندار براہ راست پانی حاصل کرنے کے عمل میں ملوث ہیں“۔ ذیلی کمیٹی کا اجلاس آج (بدھ کو) ہو گا۔ ایشیائی بینک کی رپورٹ کا مسودہ دی نیوز کے پاس ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتظامی کنٹرول کمزور ہونے کی بناء پر پانی چوری ہوتا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس کی وجہ سے کاشتکاروں کا طریقہ بدل گیا ہے اب بڑے جاگیردار ایسی فصلیں اگاتے ہیں جن کے لئے زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن پانی کے لئے ان کا اقتصادی فائدہ کم ہوتا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ پانی زیادہ دیئے جانے کے باوجود مخصوص طبقے کے پانی لینے کے نتیجے میں کاشتکاروں کو کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے تاثر پیدا ہوتا ہے کہ محکمہ آبپاشی کے حکام پانی کرائے پر لینے کے مواقع پیدا کرتے ہیں حالانکہ دراصل ان کا آبپاشی نظام پر کنٹرول ختم ہو چکا ہے اور وہ صرف ایک حد تک ہی آبپاشی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ روہڑی کینال کے نصیر ڈویژن جہاں صدر زرداری کی اراضی ہے، کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ ”عام کسانوں سے بااثر جاگیرداروں کو براہ راست طریقے سے پانی کی منتقلی اور غیر قانونی نکاس کے راستے نہ صرف غیر منصفانہ ہیں بلکہ معاشی طور پر بھی نقصان دہ ہیں اور پانی کی غلط تقسیم کی بناء پر بہت زیادہ معاشی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ ایشیائی بینک کی رپورٹ میں صدر زرداری اور نثار کھوڑو سمیت 147 جاگیرداروں کے نام شامل ہیں جو روہڑی کینال کے نصیر ڈویژن میں براہ راست پانی حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں۔ اگرچہ سندھ حکومت نے رپورٹ مسترد کی ہے تاہم سندھ محکمہ آبپاشی کے سابق ڈی جی پروفیسر اعجاز قریشی نے رپورٹ کی تفصیلات کی تصدیق کی ہے۔ حکومت نے رپورٹ کو دبانے کی کوشش کی ہے تاہم رپورٹ حقائق پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ براہ راست پانی حاصل کرنا چوری میں شمار ہوتا ہے اور سنگین نوعیت کی شرانگیزی ہے۔ ایک عام کسان کھالوں کے ذریعے پانی حاصل کرتا ہے جبکہ لینڈ لارڈز براہ راست پانی حاصل کرتے ہیں اس لئے منظور شدہ زمین پانی حاصل نہیں کر پاتی‘ آبپاشی قوانین کے تحت براہ راست پانی حاصل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ماروی میمن نے کہا کہ یہ سیدھا سادا جرم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے گزشتہ 10 روز میں سندھ اور پنجاب کا دورہ کیا ہے تاکہ جان سکوں کہ دونوں صوبوں کے لوگ پانی کمی کا شکار کیوں ہیں اور ان کو پانی کے تنازعات میں کس طرح استعمال کیا جاتا ہے اور اشرافیہ آبپاشی کے افسروں کی مدد سے کس طرح پانی چوری کر رہی ہے۔
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=454456
Recent Comments