سب جھوٹ…امر جلیل

جھوٹی اور جعلی ڈگریاں رکھنے والے ایم این ایز، ایم پی ایز اور ان کے حمایتی وزیروں اور وزراء کے مشیران کا جارحانہ رویّہ دیکھ کر مجھے کئی دہائیاں پرانی ایک فلم کا گانا یاد آتا ہے:
”دیکھ تیرے سنسار کی حالت کیا ہو گئی بھگوان،
کتنا بدل گیا انسان“
تب کراچی میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، یہودی، پارسی، بہائی، جئن اور بدھ مت کے پیروکار امن اور شانتی سے رہتے تھے۔ کوئی کسی کو قتل نہیں کرتا تھا، کوئی کسی کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی نہیں کرتا تھا۔ لوگ ایک دوسرے کے سماجی اور ثقافتی تہواروں میں شامل ہوتے تھے۔ ایک دوسرے کی عزت اور احترام کرتے تھے۔آپس میں تحفے تحائف دیتے رہتے تھے۔ اس زمانے میں فلمیں صرف تفریح کا ذریعہ نہیں ہوتی تھیں۔ عام طور پر فلمیں تاریخی کہانیوں پر بنائی جاتی تھیں۔ ایسی فلمیں بھی بنتی تھیں جن میں سماجی اونچ نیچ، طبقات کی دوریاں، شراب خوری اور سگریٹ نوشی کی علتیں اور ان کے منفی اثرات، جہالت کے اندھیروں کو تعلیم اور علم کی روشنی سے دور کرنا، ایثار، قربانی اور حب الوطنی جیسے موضوعات زیر بحث آتے تھے۔ ایسی ایسی فلمیں دیکھنے کو ملتی تھیں جو آپ کے نہ چاہنے کے باوجود آپ کو سوچنے پر مجبور کر دیتی تھیں جیسے ”ڈاکٹر کو مٹن کی امر کہانی“، ”اچھوت کنیا“، ”روٹی“ وغیرہ۔ کسی ایسی ہی فلم کا کلاسک گانا تھا جو مجھے آجکل کے سیاسی اور سماجی رویّوں کو دیکھ کر بہت یاد آ رہا ہے۔
دیکھ تیرے سنسار کی حالت کیا ہو گئی بھگوان
کتنا بدل گیا انسان
یہ کہنا کہ چھ سات دہائیاں پہلے یہاں سب کچھ ٹھیک تھا۔ معاشرے میں فرشتے بستے تھے۔ چوری، ڈاکے، قتل و غارت گری، بے ایمانی، رشوت خوری نام کو نہیں تھی، غلط ہے۔ انسان اچھائیوں، برائیوں، گناہوں، ثوابوں، اندھیروں، اجالوں، وسوسوں اور عقیدوں کے درمیان پنپتا ہے۔ یہ کہنا کہ چھ سات دہائیاں پہلے سب کچھ اچھا تھا، غلط بیانی کے مترادف ہے۔ معاشرے میں سب لوگ اچھے یا سب لوگ برے نہیں ہوتے۔ ہاں، پچھلے اور موجودہ دور میں ایک نمایاں فرق نظر آیا ہے۔ پچھلے دور میں رشوت خور لوگوں سے دور دور رہتا تھا۔ وہ لوگوں کے رویّوں اور نگاہوں میں اپنے لئے ناپسندیدگی اور نفرت دیکھ سکتا تھا۔ عام طور پر لوگ کسی رشوت خور سے ملنا جلنا اور راہ و رسم بڑھانے سے گریز کرتے تھے۔ رشوت خور کی طرح خوردبرد کرنے والے کو لوگ حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔
اب حالات بدل گئے ہیں۔ معاشرے میں خوردبرد کرنے والوں اور رشوت خوروں کی تعداد اس قدر بڑھ گئی ہے اور ان کا اثر و رسوخ اس قدر چھا گیا ہے کہ لوگ رشوت خور کو برا نہیں سمجھتے۔ رشتہ آئے تو ہنسی خوشی اور فخر سے اپنی بہن یا بیٹی کی شادی رشوت خور سے کرا دیتے ہیں۔ یہ سوچ کر کہ دولت کی ریل پیل میں بچی عیش کرے گی۔ اب چونکہ کسی کے معزز ہونے کا پیمانہ اس کی دولت ہے اس لئے خوردبرد کرنے والوں اور رشوت خوروں کو معاشرے کا معزز فرد سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح فراڈیئے، چور اور ڈکیت لوگوں سے چھپتے پھرتے تھے، پچھلے دور کے برعکس موجودہ دور میں فراڈیئے، چور اور ڈکیت معاشرے کے بیچوں بیچ دندناتے پھرتے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں مٹر گشت کرتے رہتے ہیں، املاک ہتھیاتے ہیں، دس دس بینکوں میں پیسے رکھتے ہیں، لینڈ مافیا سے مل کر لوگوں کی اور سرکاری زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں۔ آج کے دور میں ایسے لوگ عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ وہ الیکشن لڑتے ہیں، جیتتے ہیں، اسمبلیوں کے ممبر بنتے ہیں، وہ اپنی ذات میں قانون ہوتے ہیں اس لئے قانون ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اگر قانون بگاڑنا بھی چاہے تو وہ قانون کو بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ چور، اچکے، ٹھگ، ڈکیت ہمارے مائی باپ بن چکے ہیں۔ پچھلی چھ سات دہائیوں میں اقدار Values تہس نہس ہو گئے ہیں۔ پہلے شریف آدمی کی عزت ہوتی تھی اب غنڈوں اور جرائم پیشہ لوگوں کی عزت ہوتی ہے۔ شریف آدمی کو بزدل، ڈرپوک اور بیوقوف سمجھا جاتا ہے۔بہت پہلے کی بات ہے تب ہندوستان کا بٹوارہ نہیں ہوا تھا۔ کراچی کی مارکیٹوں میں کپڑے، لباس سے لے کر کھانے پینے کی اشیاء اور کراکری تک بکنے کیلئے یورپ سے آتی تھیں۔ پیتل اور تانبے کے برتن، دیگچیاں، کورا کپڑا، کھدر اور اسی طرح کی دیگر اشیاء ہندوستان کے چھوٹے بڑے شہروں سے آتی تھیں۔ ان ہی دنوں پہلے ڈبوں میں بند بناسپتی گھی کراچی کی مارکیٹوں میں آیا کرتا تھا۔ ڈبے پر کھجور کے درخت کی تصویر نمایاں تھی۔ یہ کراچی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تھا کہ شکل و صورت میں خالص گھی جیسی کوئی چیز کھانا پکانے کیلئے لوگوں کو ملتی تھی۔ بناسپتی گھی دیکھنے میں خالص گھی جیسا تھا مگر خالص گھی نہیں تھا۔ زبردست تشہیر نے اپنا اثر دکھایا۔ لوگ بناسپتی گھی کھانے پر آمادہ تو ہوئے مگر چھپتے چھپاتے۔ دکاندار بھی بناسپتی گھی کا ڈبا پرانے اخبارات میں لپیٹ کر بیچتے تھے۔ لوگ اخبارات میں لپٹا ہوا بناسپتی گھی کا ڈبا کپڑے کی تھیلی میں چھپا کر گھر لے جاتے تھے۔ اصل کی نقل کو بہت برا سمجھا جاتا تھا، دھوکہ سمجھا جاتا تھا، ٹھگی سمجھا جاتا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے لفظ بناسپتی کراچی میں محاورہ بن گیا۔ دو نمبر کا کام کرنے والوں کو بناسپتی کہا جاتا تھا۔ انجانے میں کسی ٹھگ کیلئے آپ کے منہ سے اگر تعریف کے دو بول نکلتے تھے تو آپ کو فوراً ٹوک دیا جاتا تھا۔ ”یار کمال کرتے ہو، وہ تو بڑا بناسپتی ہے اور تم ایک بناسپتی کی تعریف کر رہے ہو۔“
آج کے دور میں مشتہرین نے بناسپتی کو آپ کی صحت کا ضامن بنا دیا ہے۔ مشتہرین کے مطابق لذیز کھانے اب صرف بناسپتی گھی میں بنتے ہیں، خالص گھی مضر صحت ہے، خالص گھی کھانے سے آپ بہت جلد مر جاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے خالص گھی میں پکے ہوئے قورمے کا ایک ہی نوالہ منہ میں ڈالنے سے آپ اللہ کو پیارے ہو جائیں اور اپنے پیاروں سے منہ موڑ لیں، انہیں روتا بلکتا چھوڑ جائیں۔ ہمارا معاشرا مکمل طور پر بناسپتی بن چکا ہے۔ اب سے نہیں، پچھلے 63 برسوں سے ہم بناسپتی ہیں، ہمارے حکمران بناسپتی ہیں۔ جعلی ڈگریاں رکھنے والوں کو ہم میڈیا والوں نے اس قدر اچھالا ہے جیسے اس سے پہلے حکومتوں میں شامل فراڈیوں نے اس طرح کا کوئی فراڈ کیا ہی نہیں تھا۔
ہمارے ایم پی ایز اور ایم این ایز انکم ٹیکس نہیں دیتے۔ میڈیا نے اس معاملے پر فوکس کیا تھا۔ کچھ عرصے بعد بات آئی گئی ہو گئی۔ ہم بھول گئے کہ اسمبلی ارکان زیادہ تر انکم ٹیکس نہیں دیتے۔ اسمبلی ممبر ہونے کے ناطے ممبران کو اپنی املاک ظاہر کرنی پڑتی ہے۔ اکثر ممبران کے پاس رہنے کو مکان نہیں ہوتا۔ موٹر گاڑی نہیں ہوتی۔ بینک میں اکاؤنٹ نہیں ہوتا۔ گھر میں زیور اور نادر اشیاء نہیں ہوتیں۔ اس طرح کی دانستہ غلط بیانی، چیٹنگ اور فراڈ کے زمرے میں آتی ہے۔
چند دہائیاں پہلے کی بات ہے، ماں، بیٹا اسمبلی کے ممبر بنے تھے۔ ماں کوائف کے مطابق بیٹے سے پانچ سال بڑی تھی یعنی بیٹا اپنی ماں سے پانچ برس چھوٹا تھا۔
سب سے مضحکہ خیز خبر، جعلی ڈگریوں کے حوالے سے حال ہی میں سامنے آئی ہے۔ ایک اسمبلی ممبر نے ایم اے 2003ء میں، بی اے 2005ء اور میٹرک 2007ء میں پاس کیا تھا۔ پاکستان فراڈیوں کے ہاتھ لگ گیا ہے، ڈکیتوں کے قبضے میں آ گیا ہے۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=454069

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha