صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود
یہی آموں کا موسم تھا پھر یوں ہوا کہ آموں کی پیٹیاں پھٹ گئیں، جنرل ضیاء الحق کا طیارہ ہوا میں پھڑپھڑانے لگا اور پھر آگ کے گولے کی مانند زمین پر آن گرا۔نتیجے کے طور پر پاکستان کے تیسرے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور فوجی صدر جناب ضیاء الحق صاحب اپنے ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے ۔ جنرل اسلم بیگ اس وقت آمی چیف تھے انہوں نے عقلمندی کی کہ صدر صاحب کے کہنے کے باوجود ان کے طیارے میں قدم نہ رکھا اور اپنے طیارے پر پرواز کرتے ہوئے خیروعافیت سے راولپنڈی پہنچ گئے ۔ انہوں نے دوسری عقلمندی یہ کی کہ ملک میں مارشل لاء نہ لگایا ۔ حالات ایسے تھے کہ وہ چاہتے تو مارشل لاء لگا کر چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن جاتے ۔ الیکشن ہوئے اور میاں نواز شریف اکثریت کے ساتھ ملک کے وزیر اعظم بن گئے نہ جانے آمی چیف مرزا اسلم بیگ صاحب کو میاں صاحب کی کونسی ادا اچھی نہ لگی اور وہ دل ہی دل میں پچھتانے لگے ۔ ایک موقعہ پر مرزا صاحب نے حکومت تبدیل کرنے اور جتوئی صاحب کو وزیر اعظم بنانے کا تقریباً فیصلہ کرلیا۔ جب یہ خبریں وزیر اعظم تک پہنچیں تو وہ پریشان ہو کر اپنے دوستوں سے مشورے کرنے لگے اس زمانے میں اسلام آباد چھوٹا شہر تھا اور وہاں خبریں ہوا کے دوش پر بڑی تیزی سے سفر کرتی تھیں ۔ میاں صاحب کے سیانے دوستوں نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ وہ مرزا اسلم بیگ کے گرم ارادوں پر ٹھنڈا پانی ڈالنے کے لئے ابھی سے نیا آرمی چیف نامزد کر دیں ۔ مشکل یہ تھی کہ ابھی مرزا اسلم بیگ کی ریٹائرمنٹ میں چار پانچ ماہ باقی تھے اور روایت ، اصول اور حکومتی اسلوب کے مطابق اتنا عرصہ قبل نہ کسی کا جانشین نامزد ہوتا ہے نہ آرمی چیف کی نامزدگی عمل میں آتی ہے ۔ میاں صاحب کو سمجھانے والوں نے انہیں سمجھایا کہ یہ ہنگامی صورتحال ہے یعنی ایمرجنسی ہے اور ایمرجنسی میں معمول کے اقدامات کو ترک کرکے ہنگامی اقدامات کئے جاتے ہیں چنانچہ میاں صاحب نے اپنی عا فیت اسی میں سمجھی کہ وہ مرزا اسلم بیگ صاحب کی پیدا کردہ ایمرجنسی میں ہنگامی نوعیت کا اقدام کریں۔ انہوں نے سوچ بچار کے بعد جنرل آصف جنجوعہ کو بیگ صاحب کی ریٹائرمنٹ سے کئی ماہ قبل آرمی چیف نامزد کر دیا اور تیزی سے یہ خبر اخبارات میں چھپوا دی ۔یہ ایک الگ کہانی ہے کہ جنرل آصف جنجوعہ نے آرمی چیف بننے کے بعد کیا گل کھلائے، اس کا تھوڑا تھوڑا علم مجھے اور زیادہ علم چودھری نثار علی ، بریگیڈیئر امتیاز بلا اور ڈاکٹر ملیحہ لودھی کو ہے۔ کہنے کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ ایک انوکھا واقعہ تھا منفرد اقدام تھا کہ آرمی چیف کا جانشین اسکی ریٹائرمنٹ سے پانچ ماہ قبل ہی نامزد کر دیا گیا تھا لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ یہ ایک ایمرجنسی تھی ۔ موجودہ حالات میں کیا ایمرجنسی، کیا دباؤ اور کیا مجبوری تھی کہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ریٹائرمنٹ سے چار ماہ قبل ہی انہیں تین سال کی توسیع دے دی گئی؟ میں کچھ نہیں کہہ سکتا میں فقط اتنا جانتا ہوں کہ جنرل کیانی ایک سلجھے ہوئے خاموش طبع اور غیر سیاسی جنرل لگتے ہیں ۔ انہوں نے اس عرصے میں عزت کمائی ہے اور فوج کا امیج بہتر بنایا ہے۔کہا جاسکتا ہے کہ وہ خالصتاً پروفیشنل سولجر ہیں اور آزمودہ ہیں اس لئے حکمرانوں نے نیا آرمی چیف لانے کا رسک لینے کی بجائے ایک آزمودہ جنرل کو اپنی ٹرم پوری ہونے تک توسیع دیکر اپنی حفاظت کا انتظام کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم صاحب نے قوم کو یہ مژدہ سنایا ہے کہ 2013ء تک صدر، وزیر اعظم، چیف جسٹس اور آرمی چیف محفوظ ہیں یعنی یہی ٹیم بلاخوف و خطر 2013ء تک حکومت کریگی ، نہ مڈٹرم انتخابات ہوں گے اور نہ ہی کسی غیر آئینی طریقے سے تبدیلی آئے گی یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ جنرل کیانی پس پردہ رہ کر حکمرانوں کو بحرانوں سے نکالتے رہے ہیں اس لئے حکمرانوں نے انہیں ان کی وفا اور خلوص کا انعام دیا ہے ۔ ان بحرانوں میں خاص طور پر ججوں کی بحالی کا بحران قابل ذکر ہے جس کے سبب عدلیہ بھی جنرل صاحب کی ممنون اور مرہون منت ہے امریکہ کی رانی اور سابق امریکی صدر کی اہلیہ ہلیری بھی ابھی چند روز قبل ہی پاکستان کو فتح کرکے واپس لوٹی ہیں۔ ہلیری کلنٹن جب بھی پاکستان آتی ہے تو مجھے قلو پطرہ کی آمد یاد آ جاتی ہے ایک مصنف نے قلو پطرہ کی آمد کو تین فقروں میں سمو دیا تھا اور وہی تین فقرے ہلیری کلنٹن کے لئے بھی لکھے جا سکتے ہیں کہ وہ آئیں انہوں نے نگاہ ڈالی اور انہوں نے فتح کر لیا۔ اسے کہتے ہیں ابروچشم سے فتح کرنا، اس بار پاکستان کو افغان ٹریڈ ٹرانزٹ معاہدے میں پھنسا کر اور بھارت کو بے پناہ رعایات دیکر جس طرح فتح کے نشے میں مسکراتی ہوئی ہلیری کلنٹن واپس لوٹیں اس پر امریکہ کے چند ایک معتبر اخبارات نے انہیں شاباش دیتے ہوئے اس معاہدے کو ہلیری کی کامیابی قرار دیا اور یوں تاثر دیا جیسے ہلیری کلنٹن پاکستان کی وائسرائے ہے اور وہ جو چاہتی ہے حاصل کر لیتی ہے ۔ پاکستان بھی عجیب صوفیوں کا ملک ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پچاس ارب ڈالر گنوا کر ہلیری کے ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ پر خوش اور مطمئن ہو جاتا ہے اور بھارت سے کوئی بھی رعایت لئے بغیر اسے افغانستان سے زمینی ہوائی اور بحری تجارت کی اجازت دیکر اپنے ہمسایہ افغانستان کو بھارت کی جھولی میں ڈال دیتا ہے۔
گویا پاکستان کے حکمرانوں کا حساب بہت کمزور ہے اور اس کمزوری کے سبب پاکستان افغانستان سے دو ارب ڈالر سالانہ کی تجارت سے بھی محروم ہو جائے گا اور بھارت جو پہلے ہی افغانستان کے اندر گھس چکا ہے نہ صرف اسکی مارکیٹ پر قبضہ کر لے گا بلکہ افغانستان کے معاملات میں زیادہ دخیل ہو کر پاکستان کے لئے خطرہ بن جائے گا ۔ بہرحال اس بار رانی ہلیری کلنٹن نے خاص طور پر ہمارے مقبول جنرل اور آرمی چیف سے بھی ملاقات کی اور اس ملاقات کی تصویر بھی چھپوائی۔ مجھے خدشہ ہے کہ ہلیری کی واپسی کے فوراً بعد آرمی چیف کی ملازمت میں تین سالہ توسیع بھی ہلیری ہی کا کارنامہ سمجھا جائے گا اور امریکی پریس اس پر بھی ہلیری کوشاباش دے گی کیونکہ امریکی حکمران اور انتظامیہ جنرل کیانی سے مطمئن ہیں ۔ خوش تو وہ کسی سے بھی نہیں ہوتے چاہے وہ شاہ ایران ہی کیوں نہ بن جائے، خوش تو وہ ہمارے حکمرانوں سے بھی نہیں حالانکہ وہ بیچارے ان کے ہر حکم کو بجا لانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
ذکر ہو رہا تھا کہ وزیر اعظم صاحب کے بقول انہوں نے جنرل کیانی کو تین سال کی توسیع دے کر اپنی حکومت اور موجودہ ٹیم کو 2013ء تک پکا اور محفوظ کر لیا ہے ۔ اس پس منظر میں یار لوگ پوچھتے ہیں کہ اس احسات تحفظ پر تو وزیراعظم کو خوش ہونا چاہتے تھا لیکن وہ قوم کو صرف تین منٹوں کے لئے خطاب کرتے ہوئے گھبرائے گھبرائے اور خوفزدہ کیوں لگ رہے تھے ؟ اس نوجوانی میں ان سے تین منٹ کی تقریر عینک کے بغیر نہیں پڑھی جار رہی تھی اور یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ان پر کوئی دباؤ ہے پھر انہوں نے قانون اور روایت کو توڑتے ہوئے ایک دم تین سال کی توسیع کیوں دے دی ، کیا مجبوری تھی کیونکہ رولز کے مطابق توسیع ایک سال کے لئے دی جاتی ہے چاہے وہ کئی سال مسلسل دی جائے ۔ رہا یہ کہ انہوں نے اپنی حکومت کو پوری ٹرم کے لئے محفوظ کر لیا ہے اس پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں کیونکہ بھٹو صاحب نے بھی اپنے نہایت وفادار جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف بنا کر یہی سوچا تھا اور میاں نواز شریف نے بھی اسی جذبے کے تحت جنرل پرویز مشرف کے کندھوں پر آرمی چیف کے ستارے سجائے تھے ۔
سکندر مرزا لکھتا ہے کہ پاکستانی فوج کے پہلے مسلمان کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان اپنی ٹرم پوری کرنے کے بعد توسیع لینے کے لئے اکثر میرے دفتر کے چکر لگا کر جوتیاں گھسایا کرتے تھے اور میرے آفس کی انتظار گاہ میں مجھ سے ملاقات کے لئے انتظار کیا کرتے تھے یہ اس دور کی بات ہے جب پاکستان ایک سویلین اور جمہوری ریاست تھی اور کمانڈر انچیف کو سیکرٹری دفاع سے ملنے کے لئے انتظار کرنا پڑتا تھا بعدازاں سکندر مرزا وزیر بن گئے اور یہی سلسلہ جاری رہا مگر حکومت کمانڈر انچیف کو رولز کے مطابق صرف ایک سال کی توسیع دیتی رہی ۔ جنرل ایوب خان کی شاید تیسری یا چوتھی یک سالہ توسیع ختم ہونے کو تھی جب 1958ء میں مارشل لاء لگ گیا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ حکمرانوں نے ہمارے مقبول آرمی چیف کو ایک دم تین سال کی توسیع کیوں دی اور ایوب خان کی مانند توسیع ہر سال کیوں نہیں دی۔
یہ سب اندر کی باتیں ہیں جن کا مجھے علم نہیں ۔ اندر کے لوگ اندر کی خبریں لائیں گے مجھے تو فقط یہ کہنا ہے کہ وزیر اعظم صاحب نے اس توسیع کا جواز دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بنا کر ہمیں یہ بد خبری سنائی ہے کہ ابھی آئندہ تین سال تک ہمیں خودکش حملوں اور دہشت گردی کی وارداتوں سے نجات نہیں ملے گی۔ رہا ان کا یہ کہنا کہ انہوں نے اپنے اقتدار کو محفوظ کر لیا ہے، یہ راز اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کیونکہ تاریخ اسکی نفی کرتی ہے اور تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے ۔ امید ہے آپ سمجھ گئے ہونگے ۔
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=453486
Recent Comments