صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود
براہ کرم یہ بات شروع ہی سے نوٹ فرما لیں کہ یہ کہانی تو میری ہے لیکن یہ بپتا ہر اس شخص کی ہے جس کا تعلق پاکستان کی مڈل کلاس یا لوئر مڈل کلاس سے ہے چونکہ ان کے روزمرہ کے مسائل ایک ہی جیسے ہیں جبکہ حکمرانوں اور روساء کو ان مسائل کا احساس نہیں ہوتا کیونکہ وہ جس دنیا میں رہتے ہیں اس دنیا کے مسائل اور پر یشانیاں کچھ اور طرح کی ہیں۔ اسی طرح غریب اور محروم طبقوں کے مسائل کچھ اور ہیں اور ان کی اپنی ایک دنیا ہے جس کا مڈل کلاس اور روساء کی دنیاؤں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
چند روز قبل رات بھر ابر رحمت برستا رہا اور میں دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا رہا اور اس بات پر خوش ہوتا رہا کہ یہ اَبر رحمت ہماری کھیتیوں کو سیراب کرکے نہ ہی صرف فصلوں کو شاداب کر دے گا بلکہ اس پانی کی کمی بھی پوری کر دے گا جس پر صوبے لڑ رہے ہیں، ارساء کے چیئرمین نے استعفیٰ دیدیا ہے اور دو بڑے صوبوں کے وزراء اعلیٰ باقاعدہ ایک دوسرے کو طعنے اور چیلنج دے رہے ہیں۔ میں صبح اندھیرے منہ اٹھا تو بارش جاری تھی۔ کمرے میں روشنی کرنے کے لئے بجلی کا سوئچ دبایا تو بلب ایک دھماکے سے پھٹا، تڑاخ کی آواز آئی اور بلب کے جسم کے ٹکڑے فرش پر بکھر گئے۔ یہ منظر بالکل ویسا ہی تھا جیسا آپ عام طور پر بچوں کی گھوسٹ فلموں یا ڈراؤنی فلموں میں دیکھتے ہیں۔ چند لمحوں کے لئے میں حیرت اور پریشانی میں گم ہوگیا۔ پھر قسمت آزمانے کے لئے ٹیوب کا سوئچ آن کیا تو وہ دھاڑیں مار کر رونے لگی اور میں نے خوفزدہ ہو کر سوئچ فوراً آف کر دیا۔ کمرے سے باہر نکل کر دیکھا تو پنکھا بگٹٹ گھوڑے کی مانند بھاگ رہا تھا۔ میں نے فوراً پنکھے کے ریگولیٹر سے اسے بند کرنے کی کوششیں کی لیکن بری طرح ناکام رہا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا یہ کیا ماجرا ہے لیکن مجھے اتنا اندازہ ہوا کہ کچھ بجلی کی گڑ بڑ ہے شاید راجہ اشرف کے واپڈا نے میرے ساتھ کوئی ہاتھ کیا ہے چنانچہ میں نے پہلا کام یہ کیا کہ بجلی کا بل ڈھونڈھ کر اس سے شکایات کا نمبر دیکھا اور لیسکو کے ہاں شکایت درج کروائی کہ آپ کی بجلی میرے گھر میں کرتب دکھا رہی ہے خدا کے لئے اسے سمجھایئے اور اسے سنبھالیئے۔ جب دو گھنٹے تک درد مندانہ گزارش کے باوجود لیسکو میری مدد کو نہ پہنچا تو میں نے مارکیٹ سے ایک الیکٹریشن کو بلایا جس نے آتے ہی اپنی فیس وصول کرنے کے بعد فتویٰ دیا کہ کھمبے سے تاریں شاٹ ہوگئی ہیں اور یہ کام لیسکو کا ہے، ہم انہیں ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ اس کے بعد میں نے لیسکو کے لئے سفارشیں ڈھونڈھنا شروع کیں کیونکہ ہر روز کا تجربہ شاہد ہے کہ ہمارے ملک میں کسی بھی سرکاری دفتر میں کام سفارش علی خان یا رشوت علی خان کی مدد کے بغیر نہیں ہوتا۔ ایک گھنٹے کی سرتوڑ کوشش کے بعد لیسکو کے لئے سفارش ملی۔ ان صاحب نے لیسکو کے کسی ایس ڈی ا و سے سفارش کی جس کے نتیجے کے طور پر لیسکو کا لائن مین اور ایک کارندہ خاصی دیر بعد تشریف لائے۔ میں ان کے استقبال کے لئے گھر سے باہر کھمبے کے پاس موجود تھا جہاں میٹر لگا ہوا ہے۔ انہوں نے آتے ہی اعلان کیا کہ بارش سے آپ کا میٹر جل گیا ہے۔ میں نے نہایت ملائم انداز سے ان سے پوچھا کہ یہ میٹر کیسے جلا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ آپ کے گھر میں بجلی پہنچانے والی تار کا کوئی معمولی سا حصہ ننگا تھا اور یہ ساری کارستانی اس کی ہے۔ یہ تار لیسکو کے کارندے کی غفلت کے سبب ننگی رہ گئی تھی جب میں نے ان سے اس مسئلے کا حل پوچھا اور ان کی توجہ اس عذاب کی طرف دلوائی جس کے سبب میرے گھر میں بجلی کا سامان جل رہا تھا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ آپ کے ہاں بجلی بہت زیادہ جا رہی ہے اس لئے ایسا ہی ہوگا۔ یہ خبر بد سنانے کے بعد لائن مین نے ناراض اور حکمرانہ لہجے میں کہا کہ میں صبح سے ڈیوٹی پر ہوں اور تھک چکا ہوں آپ کل دفتر آئیں اور درخواست دیں اور پھر آپ کی باری پر آپ کا میٹر بھی بدلا جائے گا اور یہ نقص بھی رفع کیا جائے گا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا کہ حضور! کل تک تو گھر کی ہر شے تباہ ہوجائے گی اور ہم بجلی کے بغیر کیسے گزارہ کریں گے۔ جواب ملا یہ آپ کا پرابلم ہے۔ اس کے بعد پھر لیسکو کے لئے ذرا تگڑی سفارشیں ڈھونڈھنی شروع کیں۔ بالآخر ایک اور سفارش نے کام کیا اور مسئلہ حل ہوگیا۔ جب سارا دن اس تگ و دو میں برباد کرنے کے بعد مجھے اس بپتا سے فرصت ملی اور الیکٹریشن کو گھر آنے کی زحمت دی تو پتہ چلا کہ لیسکو کی مہربانی اور معمولی غفلت سے ایک ایئرکنڈیشنر، ایک فریج، تین یو پی ایس، بجلی کے کئی بلب اور ٹیوبیں زیادہ بجلی آنے کی وجہ سے جل چکی ہیں۔ یعنی لیسکو نے ہمیں پینتیس چالیس ہزار روپے کا ٹیکا لگا دیا تھا لیکن اصل پرابلم یہ تھا کہ نہ ہم اس نقصان پر لیسکو کے خلاف کوئی کارروائی کرسکتے تھے اور نہ ہی احتجاج کیونکہ ہم ہر حال میں لیسکو کے مرہون منت تھے۔ اگر وہ غصے میں آکر بجلی بند کردیں تو اس گرمی کے موسم میں دم گھٹنے لگے گا اور محاورے کی زبان میں نانی یاد آجائے گی۔ سچی بات یہ ہے کہ میں دوسری رات اپنی بیچارگی اور بے بسی پر غمگین رہا اور سوچتا رہا کہ حکومتیں اور حکمران تو گڈ گورننس کی بات کرتے ہیں، محلات اور عیش و عشرت کی دنیا میں رہنے والے یہ شہزادے کیا جانیں کہ ملک کی آبادی کا معتدبہ حصہ سرکاری اہلکاروں کے ہاتھوں میں یرغمال بنا ہوا ہے، کسی بھی حکومتی محکمے یا ادارے میں جائز سے جائز کام بھی سفارش اور رشوت کے بغیر نہیں ہوتا اور ہم جیسے بے بس شہری چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل کے لئے سرکاری کارندوں کے مرہون منت ہیں۔ اس بے ہنگم معاشرے میں نہ کوئی قانون کی پرواہ کرتا ہے، نہ کوئی سسٹم ہے اور نہ ہی جوابدہی کا تصور موجود ہے۔ انتشار اور زوال کے فنکار معاشروں میں ایسا ہی ہوتا ہے اور جب تک حکومت گڈ گورننس کے اصولوں کے تحت سسٹم نہیں بناتی، جوابدہی کا اطلاق نہیں کرتی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی نہیں بناتی پاکستانی قوم اس طرح سرکارکے چھوٹے بڑے اہلکاروں کے رحم و کرم پر رہے گی۔
ہم مسلمان ہر مصیبت میں خیر کا پہلو تلاش کرلیتے ہیں۔ دوسرے دن کے اخبارات سے پتہ چلا کہ بارشوں کے سبب بہت سے کھمبوں میں بجلی آگئی تھی جن سے تقریباً تیس شہری ہلاک ہوگئے ایک ماں کے دو بیٹے وفات پاگئے تھے اور اس کا گھر ہی اجڑ گیا تھا۔ موت برحق ہے لیکن یہ تیس اموات واپڈا کے اہلکاروں کی غفلت کا نتیجہ تھیں جن کی نااہلی کے سبب تاروں کا کوئی حصہ ننگا رہ گیا تھا اور کھبوں میں بجلی آگئی جس ماں کی گود ویران ہوئی تھی اور جس کا صحن ہمیشہ کے لئے اجڑ گیا تھا میں اخبار میں اس کے بین پڑھ کر آنسو ضبط نہ کرسکا۔ ماں اپنے دو بچوں کے سرہانے بیٹھی بین کر رہی تھی کہ میں نے بہت منتیں مان کر یہ دو بیٹے لئے تھے جو مجھ سے چھن گئے۔ اب میں زندہ نہ رہ سکوں گی۔ اس کے دل کو پارہ پارہ کرنے والے بین میری اآنکھوں میں آنسو بن کر تیرنے لگے۔ میں سوچنے لگا کہ میرا تو صرف مالی نقصان ہوا ہے اور مالی نقصان تو پورا ہوسکتا ہے لیکن واپڈا کی مہربانی سے اس خاتون کی گود ہی ویران ہوگئی اور گھر ہی اجڑ گیا لیکن ہم سب اس نظام میں بے بس ہیں نہ ہم ان نالائق اور کام چور کارندوں یا ان کے افسروں (جن کا کام ہی ان کی نگرانی ہے) کی جوابدہی کر سکتے ہیں۔
نہ ان کے خلاف عدالتی کارروائی ہوسکتی ہے اور نہ حکومت ہی ایسی اموات اورقیمتی جانوں کے ضیاع کا نوٹس لیتی ہے کیونکہ حکمرانوں کو اپنے شہریوں کے مال و جان کے نقصان سے کوئی ہمدردی نہیں، انہیں فقط اپنے اقتدار سے دلچسپی ہے۔ سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ مجھے حکومتی نظام میں بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آتے اور مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے عوام بدستور اسی طرح سرکاری مشینری کی چکی میں پستے رہیں گے کیونکہ حکمرانوں کے پاس نظام میں تبدیلی لانے کا ویژن ہی موجود نہیں۔ وہ محلات میں بیٹھے گڈ گورننس یعنی بہتر انداز حکومت کی رٹ لگاتے رہتے ہیں جبکہ یہاں تو اس قدر لاقانونیت ہے کہ گورننس اور حکومت کی موجودگی کا احساس ہی نہیں ہوتا کجا یہ کہ گڈ گورننس کا خواب دیکھا جائے۔ مغربی ممالک میں حکومتوں نے ہر شعبے میں نظام وضع کر رکھا ہے اور ہر شے اور ہر سرکاری اہلکار اس کا پابند اور سسٹم کے تحت کام کرتا ہے۔ ہمارے ہاں تو حکومتی شعبے سے معمولی سا مسئلہ بھی درپیش ہو حتیٰ کہ حکومت کے واجبات ہی کیوں نہ ادا کرنے ہوں ایک مصیبت اور عذاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بے پناہ وقت ضائع ہوتا ہے اور بار بار چکر لگانے پڑتے ہیں۔ خدا جانے ہمارا مقدر کب بدلے گا، اس فرسودہ نظام سے کب نجات ملے گی اور ہم حکومتی اہلکاروں کے شکنجے سے کب رہا ہوں گے؟
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=453450
Recent Comments