گریبان …منوبھائی
وزیر قانون، انصاف اور پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے جنگ گروپ کے خصوصی پینل انٹرویو میں ملک کے سیاسی معروض کے بارے میں اپنی پارٹی کے موقف کا حسب معمول بھرپور ہمت اور جرات مندانہ بے تکلفی کے ساتھ دفاع کیا ہے اور بتایا ہے کہ” ڈگری ڈرامہ“ جمہوری نظام کا بوریا بستر اگول کرنے کی سازش کے تحت رچایا گیاہے جس کا مقصد ملک میں مڈ ٹرم انتخابات برپا کرنے کے حالات پیدا کرنا تھا جن کے دوران قومی سیاست کی جمہوری بساط لپیٹی جاسکتی ہے مگر وزیر اعظم گیلانی نے اس سازش کو ناکام بناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے یا ہٹائے جانے والوں کی خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات کروائے جائیں گے۔
اگر اس مفروضے کو صحیح مان لیا جائے کہ ہمارے سیاستدانوں نے تاریخ سے سبق حاصل کرنا شروع کردیا ہے اور تھانوں، حوالاتوں اور جیلوں کی سلاخوں میں برباد ہونے والی تصادم کی انتقامی سیاست سے گریز اور پرہیز کی راہ اختیار کرلی ہے تو مذکورہ بالا ڈ گری ڈرائے کی سازش کو ملک کے غیرجمہوری عناصر کا ملک کی جمہوری بساط پر خودکش حملہ کیوں نہیں قرار دیا گیا جبکہ واضح طور پر دکھائی دے سکتا ہے کہ ا گر اب کے جمہوری نظام کا بوریا بسترا گول کرنے کی حماقت کی گئی تو اس میں پورا سسٹم ہی نہیں سب کچھ لپٹ جائے گا اور اس سب کچھ میں سب کچھ شامل ہے۔ سیاست کے قومی صحن میں میوزیکل چیئر بھی بچھی ہوئی نہیں ہوں گی اور کسی دوست ملک کے شاہی مہمان خانے میں سیاسی استراحت کی گنجائش بھی نہیں ہوگی۔
فوجی وردیوں کی ابتدائی حکومتوں میں ذرائع ابلاغ کو لگام دینے یا پٹے باندھنے والی محکمہ اطلاعات کی پریس ایڈوائس عام طور پر ایک گھٹیا درجے کے بوسیدہ پیلے لفافے میں آتی تھی اور تھانے سے آنے والے سمن سے بھی زیادہ واجب العمل قرار پاتی تھی۔ اب ٹی وی چینلز اخبارات کے نیوز رومز سے کچھ زیادہ اہمیت کے حامل ہوگئے ہیں مگر ان کی گرد و نواح کی ہوا سونگھ کر پتہ چل جاتا ہے کہ پریس ایڈوائس کیا ہے، کہاں سے آئی ہے اور اس کا لب لباب کیا ہے۔ مقصد کیا ہے ۔
گزشتہ روز ایک ٹی وی چینل پر کچھ ماہرین ضمنی انتخابات کے بے پناہ اخراجات پر اپنی پریشانی ظاہر کررہے تھے ان کا کہنا تھا کہ وزیر قانون و انصاف نے مختلف سیاسی جماعتوں کے تعاون سے ڈگری ڈرامہ سے پیدا کئے جانے والے حالات کو قابو میں لانے کی تجاویز میں سے یہ تجویز بھی پیش کی کہ ”ڈگری ڈرامہ“کی زد میں آنے والے اسمبلی کے ارکان کی جگہ ان کے انتخابی ”رنراپ“ کو منتخب قرار دے دیا جائے مگر پوچھنے والے یہ بھی پوچھتے ہیں کہ اس کی کیا ضمانت ہوگی۔ جعلی ڈگری کے ساتھ منتخب ہونے والے رکن اسمبلی سے شکست کھانے والے امیدوار کی ڈگری جعلی نہیں تھی۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ ڈگری ڈرامہ قومی سیاستدانوں اور عوام کی منتخب اسمبلیوں کو بدنام بلکہ چشم زمانہ میں ذلیل و خوار کرنے اور عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو ”سافٹ“ اور شفاف بنانے کے لئے رچایا گیا ہے۔ پوچھنے والے یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ ملک کے چوتھے فوجی غاصب جنرل پرویز مشرف کا فراہم کردہ ”این آر او“ اگر ہماری اعلیٰ عدلیہ کے مطابق ناپاک اور لائق استرداد ہے تو پھر”ڈگری ڈرامہ“ کیسے اور کیو نکر مقدس، قابل تعظیم اور نظریہ پاکستان کے بنیادی اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ یہ ڈگری ڈرامے کا شوشہ یا درفنطنی بھی تو اس ذہن رسا کی چھوڑی ہوئی ہے جس نے ”این آر او“ کے گناہ کا ارتکاب کیا تھا اور جس کے تحت قومی سیاست سے تعلق رکھنے والی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت وطن عزیز میں واپس آئی، ورنہ سپریم کورٹ کے حکم سے لاہور کے ہوائی اڈے تک پہنچ جانے والے ہوائی اڈے سے باہر قدم رکھنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔ ہمارے انصاف پسند اور انصاف پرور ادارے اگر”این آر او“کے تحت ہزاروں سیاسی کارکنوں کے خلاف انتقامی مقدمات کو ختم کرنے کو انصاف کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں تو عام انتخابات میں حصہ لینے کے لئے بی اے کی ڈگری کو لازمی قرار دینے کی پابندی پر بدنیتی کا شبہ کیوں نہیں کرتے۔ اس پر احتجاج کیوں نہیں کیا جاتا کہ اس وقت ملک میں کوئی ایک بھی سیاسی قیدی نہیں ہے۔
”ڈگری ڈرامے“سے لطف اندوز ہونے والے یہ بھی جانتے ہوں گے کہ کالجوں ، میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے ٹیسٹ لازمی قرار دینے والوں نے عملی طور پر یہ اعتراف کرلیا تھا کہ ہمارے ملک کا امتحانی نظام ناقابل اعتبار ہے مگر سوچنے کی بات ہے کہ یہ”انٹری ٹیسٹ“ ایوان عدل میں داخل ہونے والوں اور قانون ساز اسمبلیوں میں داخل ہونے والوں کے لئے کیوں نہیں ضروری سمجھا گیا۔ ہمیں اپنے ملک کے معیار تعلیم پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے اپنے ملک کے پی ایح ڈی ڈاکٹروں کی علمی نبض دیکھنے کی بھی ضرورت ہے۔اور سب سے زیادہ ضرورت نبض دیکھنے والوں کی نبض پر انگلی رکھنے کی ہے۔ وما علینہ علی البلاغ
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=452953
Recent Comments