آخر کیوں؟…رؤف کلاسرا
میرا خیال تھا کہ 2006ء میں اپنے ساتھ ہونے والے ایک ہزار پاؤنڈ فراڈ کے بعد میرے دوست ثناء اللہ مستی خیل کو عقل آ گئی ہوگی اور اسے اب پتہ چل گیا ہوگا کہ وہ ایک سادہ لوح انسان ہے اور دنیا تیز ترین اور چالاک لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ تاہم ثناء اللہ مستی خیل نے میرے اس خیال کو پنجاب اسمبلی میں اپنے نئے سیاسی آقاؤں کے ہاتھوں استعمال ہوکر نہ صرف غلط کر دیا ہے بلکہ اپنے ساتھ ایک بڑا فراڈ بھی کرا لیا ہے۔ اس تازہ ترین سیاسی فراڈ سے مستی خیل نے ایک اور بات بھی ثابت کی ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دوسری بار نہیں ڈسا جا سکتا۔پہلے آپ ثناء اللہ مستی خیل کے ساتھ ہونے والے 2006ء کے فراڈ کی کہانی سن لیں پھر آپ کو نواز شریف کی یہ بات بخوبی سمجھ آ جائے گی کہ کیسے بھکر سے آنے والے اس چالاک سیاستدان نے راتوں رات پوری کی پوری پنجاب اسمبلی کو سامری جادوگر کی طرح اپنا ہمنوا بنا کر بیچارے نواز شریف اور شہباز شریف کی عزت خاک میں ملانے کی مذموم سازش کی تھی۔ 2006ء کی ایک سرد شام کی بات ہے۔ میرا ان دنوں میانوالی کے اپنے دوست ڈاکٹر شیر افگن نیازی کے پاس ان کے پارلیمنٹ لاجز میں آنا جانا معمول تھا۔ میں شام ڈھلے وہاں جاتا اور ڈاکٹر صاحب کے ساتھ سیاست پر ان کے خیالات اور فلاسفی پر لڑائی جھگڑا کر کے رات گئے ان کے فلیٹ سے اپنے گھر جاتا۔ ایک دن وہاں گیا تو ڈاکٹر صاحب اپنے فلیٹ میں نہیں تھے۔ میں وہاں سے اٹھا اور ایم این اے ثناء اللہ مستی خیل کے کمرے میں چلا گیا۔ وہاں ایک جشن کا سا سماں تھا۔ ثناء اللہ مستی خیل نے مجھے دیکھ کر کہا لالہ رؤف مبارکباد دو میری لاٹری نکل آئی ہے۔ مٹھائی کے ڈبے وہاں تقسیم ہو رہے تھے۔ میں نے بات کرنے کی کوشش کی تو کہا گیا کہ پہلے مبارکباد دو پھر لڈو کھاؤ۔ لڈو کھا کر فارغ ہوا تو بڑی مشکل سے بتایا گیا کہ میرے لالہ ثناء اللہ مستی خیل کی کروڑوں ڈالر کی لاٹری نکل آئی تھی۔ میں نے تفصیل پوچھی تو پتہ چلا کہ لالہ مستی خیل کو لندن سے ایک بہت بڑے ادارے نے ای میل بھیجی تھی۔ اس ای میل کے مطابق ثناء اللہ مستی خیل کی لاٹری نکل آئی تھی۔ میں بڑا حیران ہوا کہ آخر اسلام آباد میں بیٹھے بٹھائے ایک شخص کی لاٹری کیسے نکل آئی تھی۔ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے یہ بھی کہا گیا کہ دراصل خان صاحب نے یہ لاٹری کسی دور میں خود خریدی تھی اور اب وہ لاٹری نکل آئی تھی۔ میں نے لڈو کھائے اور لالہ ثناء اللہ کو مبارکباد دیکر ان کے فلیٹ سے نکل آیا۔ کچھ دن گزرے تو میرے ذہن سے لالہ ثناء اللہ مستی خیل کی کروڑوں ڈالر کی لاٹری والی بات نکل گئی۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ ثناء اللہ نے خصوصاً مجھ سے درخواست کی تھی کہ اس کی کروڑوں ڈالر کی لاٹری کی خبر اخبار میں نہ دوں۔ ان کے ذہن میں شاید یہ بات تھی کہ کہیں حکومت پاکستان ان سے ڈالروں میں قرضہ نہ مانگ لے۔ایک دن میں پھر پارلیمنٹ لاجز ڈاکٹر شیر افگن سے ملنے گیا تو بائی چانس وہاں لالہ ثناء اللہ مستی خیل سے بھی ملاقات ہو گئی۔ اچانک مجھے ان کی کروڑوں ڈالر کی لاٹری یاد آ گئی۔ میں نے پوچھا لالہ ثناء اللہ لاٹری کا کیا بنا؟ کوئی ہمارا بھی حصہ ان ڈالروں میں ہوگا کہ نہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ ثناء اللہ مجھ سے منہ چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں بڑا حیران ہوا۔ کچھ دیر جب میں نے ٹٹولا تو پتہ چلا کہ میرے لالہ ثناء اللہ مستی خیل کے ساتھ فراڈ ہو گیا تھا۔ اس معصوم شخص کو کسی فراڈیے نے لندن سے ای میل کی تھی کہ اس کی لاٹری نکل آئی تھی۔ ان دنوں اس طرح کے فراڈ نئے نئے ہونے شروع ہوئے تھے کہ لوگوں کی انٹرنیٹ سے ای میل لیکر انہیں کہا جاتا تھا کہ ان کی ای میل نے لاٹری جیتی تھی۔ راتوں رات کروڑ پتی بن جانے کے شوقین یہ سن کر پاگل ہو جاتے۔ لالہ ثناء اللہ مستی خیل کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ انہیں کہا گیا کہ وہ فوری طور پر اپنی لاٹری لینے کیلئے انہیں ایک ہزار پاؤنڈ بھیجیں۔ لالہ مستی خیل نے بھی یہی کچھ کیا۔ چپکے سے ایک ہزار پاؤنڈ مارکیٹ سے خرید کر فوراً لندن بھجوا دیئے اور پھر انتظار کرنے بیٹھ گئے کہ کب انہیں کروڑوں کی لاٹری کا چیک ملنے والا تھا۔ کچھ دن تو مستی خیل کروڑوں ڈالروں کی لاٹری کی مستی میں گم رہے۔ پتہ نہیں کیا کیا خواب دیکھ بیٹھے۔ پورا بھکر فتح کر لیا۔ اچانک پتہ چلا کہ وہ سب فراڈ تھا۔ کسی نے محض ایک ای میل بھیج کر انہیں ایک ہزار پاؤنڈ سے محروم کر دیا تھا۔ اب لالہ ثناء اللہ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے۔ ایک طرف کروڑوں ڈالر کی لاٹری کا خواب ٹوٹا تو دوسری طرف ایک ہزار پاؤنڈ چلے گئے۔ اس سے بڑھ کر یہ احساس کہ کسی نے ان کے خوابوں کے ساتھ کھیل کر ان کے ساتھ فراڈ کیا تھا۔
پہلے پورے جہان کو لاٹری کی خبر سنائی تھی اور اب چھپانے کی کوششں کی جا رہی تھی۔ میں نے لالہ ثناء اللہ مستی خیل کو خاصی دیر تک حوصلہ دیا۔ جان ہے تو جہان ہے کی کہانیاں سنائیں۔ وہ بھی سرجھکائے میری نصیحتیں سنتے رہے کہ بیچارہ اور کیا بولتا۔ آخر میں جانے لگا تو لالہ ثناء اللہ صرف اتنا بولا لالہ رؤف مجھے پتہ نہیں تھا کہ دنیا میں اس طرح کے فراڈ بھی ہوتے ہیں۔ آئندہ میں فراڈیوں سے دور رہوں گا۔میں مسکرا کر آگے بڑھ گیا۔
میرا خیال تھا کہ ایک ہزار پاؤنڈ گنوا کر میرے لالہ ثناء اللہ مستی خیل کو عقل آ گئی ہوگی کہ فراڈی صرف لندن میں نہیں رہتے وہ ہمارے اندر رہتے ہیں۔ شاید لالہ مستی خیل ایک سادہ انسان ہے۔ اب نواز شریف کہتے ہیں کہ انہوں نے ان کی پارٹی کے ساتھ میڈیا کے خلاف قرارداد پیش کر کے ان کے ساتھ فراڈ کیا تھا۔ اب آپ ہی مجھے بتائیں کہ کیا لالہ مستی خیل جیسے کردار فراڈ کھانے کیلئے پیدا ہوئے ہیں یا فراڈ کرنے کیلئے؟ نواز شریف صاحب! ہمارے سادہ لوح لالہ مستی خیل کے ساتھ فراڈ کرنے کے بعد آپ ہمارے ساتھ تو فراڈ مت کریں۔ آپ کچھ لوگوں کو کچھ دیر کیلئے بیوقوف بنا سکتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو ساری عمر کیلئے بیوقوف بنایا جا سکتا ہے لیکن سب لوگوں کو ساری عمر کیلئے بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ آپ نے سادہ لوح انسان لالہ مستی خیل کو تو بیوقوف بنا لیا اب خدارا ہمیں تو مت بنائیں۔ میرا خیال تھا کہ لالہ مستی خیل کو لندن کے فراڈیوں کے ہاتھوں ایک ہزار پاؤنڈ فراڈیوں سے گنوا کر عقل آ گئی ہو گی لیکن میرے لالہ نے ڈارون کی تھیوری کو بھی غلط ثابت کر دیا کہ انسان وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔
امید ہے کہ لالہ ثناء اللہ مستی خیل لندن کے فراڈیوں کے ہاتھوں پھر بھی لٹتا رہے گا کہ آخر خدا نے کسی کو تو ان فراڈیوں کی روٹی پانی چلانے کیلئے استعمال کرنا ہے۔ اور کوئی نہیں تو ہمارا لالہ مستی خیل ہی سہی
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=452653
Recent Comments