گریبان …منوبھائی

یہ کیسی بات ہے کہ گزشتہ صدی کے شروع میں پوری دنیا میں پھیلی ہوئی سلطنت تاج برطانیہ پر سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا اور کرہ ارض کے کسی نہ کسی ملک میں برطانیہ کا یونین جیک لہرا رہا ہوتا تھا مگر اگلے چالیس سالوں میں اس کے گوری چمڑی والے انگریز اپنے ہی ملک میں اقلیت بن کر رہ جائیں گے اور اگر اس وقت مغربی طرز کی موجودہ طبقاتی بنیادوں پر برپا کی گئی نام نہاد جمہوریت برقرار رہ سکی تو انگلستان کے سفید فام لوگوں پر گندمی ،کالے، سانولے اور پیلی رنگت کے لوگ حکمرانی کررہے ہوں گے۔
یہ کوئی درفنطنی نہیں انگریز ماہرین عمرانیات کی جدید ترین تحقیق ہے کہ برطانیہ عظمی ٰمیں رواں صدی کی پانچویں دہائی سے پہلے ہی سفید فام انگریزی آبادی اپنے ملک کے اندر اقلیت میں چلی جائے گی اور گندمی،کالے،سانولے اور پیلی رنگت کے لوگ جو یہاں غلام بنا کر لائے گئے تھے یا محنت مزدوری سے روزگار کمانے آئے تھے ان کی اولاد اکثریت میں آجائے گی اور غلاموں کی بجائے آقا بن جائے گی۔
برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق اگلے چالیس سالوں میں برطانیہ میں نسلی نسبت تناسب میں اتنی زبردست تبدیلیاں آجائیں گی کہ سب کچھ زیر و زبر ہوجائے گا۔ گزشتہ صدیوں میں جو گورے لوگ اپنے آپ کو اعلیٰ اور ارفع نسل سمجھتے ہوئے اپنے سے مختلف رنگت کے لوگوں پر حکومت اور حاکمیت کرتے چلے آئے ہیں وہ ”رنگین“لوگوں کی رعیت بن جائیں گے اور”بے رنگ“ گورے لوگ اپنے ہی ملک میں ”بیرنگ“ ہو کر رہ جائیں گے۔
”بی بی سی“نے اس تحقیق کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ چند صدیوں میں سب سے زیادہ فراغ دلی سے اپنے معاشرے کو کثیر التعداد نسلوں کی آماجگاہ بنانے والے انگلینڈ میں غیر ملکی پیدائش رکھنے والوں کی اکثریت ہوجائے گی۔ لیڈز کی تحقیق کے مطابق سال2051ء میں اگرچہ گوری چمڑی والے انگریز ایک بڑے گروپ کے طور پر موجود ہوں گے مگر دیگر نسلوں اور رنگوں سے تعلق رکھنے والے گروپوں کی مجموعی تعداد کے سامنے گورے اقلیت میں چلے جائیں گے۔ سال 2001 ء میں انگلستان میں نقل وطن کرکے آنے والے ”رنگدار“ لوگوں کا اصل آبادی سے تناسب آٹھ فیصد تھا،2051ء میں یہ تناسب تین گنا بڑھ جائے گا۔
انگلستان میں گوری چمڑی والے لوگوں کی آبادی سال2001ء میں پانچ کروڑ نوے لاکھ تھی جو سال2051 ء تک چالیس سالوں میں سات کروڑ80لاکھ تک بڑھ جائے گی۔ سفید فام انگریز اور گوری رنگت کے آئرش اپنی آبادی بڑھانے میں کچھ زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔انگلستان کے کالے بھی اپنی آبادی میں اضافہ کرتے دکھائی نہیں دے رہے جبکہ آسٹریلیا، امریکہ اور دیگر یورپی ملکوں کے لوگوں کی صورتحال مختلف ہے مگر اگلے چالیس سالوں میں برطانیہ عظمیٰ میں غیر ملکی پیدائش یا آبائی تعلق رکھنے والوں کی آبادی آٹھ فیصد سے بڑھ کر بیس فیصد ہوجائے گی۔
اپنی آبادی کے تناسب میں اس قدر اضافے کے بعد غیر ممالک سے روزگار کی تلاش میں آئے ہوئے لوگوں کی نئی نسل کو نئے اور بہتر حالات اور زیادہ ترقی یافتہ علاقوں میں منتقل ہونے کا حوصلہ اور توفیق ہوگی۔انگلستان کے امیگریشن گروپ میں ساؤتھ ایشیا یعنی ہندوستان پاکستان اور بنگلہ دیش کے محنت کشوں کی آبادی میں سب سے زیادہ اضافہ ہورہا ہے جبکہ سفید فام انگریزوں اور آئرش آبادی میں اضافہ بہت سست رہے گا۔ پاکستان سے آبائی تعلق رکھنے والے لوگوں کی زیادہ تر تعداد ویسٹ مڈلینڈز ،یارک شائر اور ہمبر کے علاقے میں آباد ہیں جبکہ ہندوستان سے آبائی تعلق والے ایسٹ مڈ لینڈز میں رہتے ہیں۔
جس طرح گزشتہ صدی کے آغاز میں کچھ پتہ نہیں تھا کہ اس صدی کے دوران عالمی سطح پر کیسے کیسے خونی واقعات رونما ہوں گے، کیسے کیسے انقلابات اپنے سراٹھائیں گے غیر ممالک پر قبضہ کرنے والی عالمی طاقتیں ان ممالک کو آزاد کرنے اور وہاں سے اپنا بوریا بستر باندھنے پرمجبور ہوں گی۔ ویسے ہی موجودہ صدی کے آغاز میں کوئی جوتشی، ستارہ شناس اور غائب کا علم رکھنے والا بلکہ ”آکٹوپس“ بھی موجودہ صدی کے اہم واقعات اور حادثات پر روشنی ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔
سرمایہ داری نظام جس مالیاتی بحران سے گزرہا ہے اس کو اصل بحران کے محض ایک آئس برگ کا سرا قرار دیا جارہا ہے۔ اس آئس برگ کے اصل حجم کا کسی کو کوئی اندازہ نہیں ہے۔ یہ بھی کسی کو پتہ نہیں ہے کہ یہ بحران کہاں تک اور کب تک مسلط رہے گا، چنانچہ محنت کشوں کی عالمی مارکیٹوں میں آبادی کے مد و جزر یا عروج و زوال کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا مشکل ہی ناممکن بھی ہوگا۔
گزشتہ صدی کے آغاز پر سرمایہ داری نظام کو سب سے زیادہ خطرہ روس اور چین سے ابھرنے والے سوشلزم سے تھا چنانچہ مغربی دنیا میں اپنی بیشتر توجہ عالمی سرد جنگ پر مرکوز رکھی اور اس عرصہ میں سب سے زیادہ جنگی سازو سامان خریدا اور تیار کیا گیا۔ اصل پریشان کرنے والی حقیقت یہ ہے کہ سرد جنگ کے بعد کے عرصے میں سب سے زیادہ جنگی اخراجات عالمی معیشت کو تہہ وبالا کررہے ہیں۔ عالمی سرمایہ داری نظام کے علاوہ مغربی طرز کے جمہوری نظام کی بھی بہت زیادہ خامیاں منظر عام پر آرہی ہیں، اگر ان خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی گئی تو پوری دنیا کا جمہوری نظام تبدیل ہوسکتا ہے اور جمہوری نظام کی تبدیلی سے طبقاتی امتیازات بھی دور ہوسکتے ہیں اور ملکوں کے ا ندر اصل باشندوں کو باہر سے آنے والے لوگوں میں ا متیازات بھی ختم ہوسکتے ہیں۔ نسلوں کے علاوہ رنگوں کی تفریق اور امتیازات بھی بے معنی ہوسکتے ہیں، یہاں تک کہ دنیا کے ملکوں میں نظریاتی ا ور مذہبی تفریق اور تقسیم کے ساتھ وابستہ امتیازات بھی غائب ہوسکتے ہیں۔ انگلستان میں رہنے والے تمام لوگوں میں جلد کی رنگت اور نسلوں کا فرق بے معنی ہوسکتا ہے۔ اسی طرح پاکستان میں رہنے والے تمام لوگ پاکستانی کہلا سکتے ہیں اور انہیں کسی اور امتیازی خصوصیت کی ضرورت نہیں ہوسکتی ۔ موجودہ صدی اپنے اندر کون کون سے اندیشے اور کس نوعیت کی امیدیں اور توقعات رکھتی ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے مگر یقین کیا جاسکتا ہے کہ حالات بہتری کا رخ اور راستہ اختیار کریں گے، ورنہ ارض خاکی پر زندگی کا چراغ بجھ سکتا ہے۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=451628

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha