روزن دیوار سے …عطاء الحق قاسمی
مجھے کبھی کبھی سچ بولنے کا دورہ پڑتا ہے اور آج میں اسی موڈ میں ہوں۔ میں یونس جاوید کو 1970ء کی دہائی سے جانتا ہوں۔ اس کے بارے میں میرا خیال تھا کہ یہ مجھ ایسے دانا شخص کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے چنانچہ یہ خود بھی دانا ہو گا لیکن گزشتہ ہفتے جب اس کے افسانوں کا نیا مجموعہ ”ربا سچیا ربِ قدیر“ شائع ہوا تو میں اپنے خیال پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو گیا۔ کوئی اس بھولے شخص سے پوچھے کہ بھائی کیا یہ دور تخلیقی ادب کے مجموعے شائع کرنے کا ہے؟ تم نے اپنے افسانے کتابی شکل میں شائع تو کر دیئے ہیں لیکن انہیں پڑھنے والے کہاں سے لاؤ گے۔ تم ابھی تک سینکڑوں افسانے، مضامین اور ٹی وی ڈرامہ سیریل لکھ چکے ہو اب ایک اور کتاب لے آئے ہو۔ اب اس کا ایک ہزار کا ایڈیشن فروخت ہونے کا دو چار سال انتظار کرو کیونکہ ان دنوں تو عام قارئین کیا خود ادیبوں نے بھی پڑھنا چھوڑ رکھا ہے۔ معافی چاہتا ہوں مجھ سے تھوڑی سی غلط بیانی سرزد ہو گئی، ادیبوں نے پڑھنا نہیں چھوڑا بلکہ وہ پڑھتے بھی ہیں اور دوسروں کو پڑھاتے بھی ہیں لیکن یہ ان کی اپنی تحریریں ہوتی ہیں جس کے لئے وہ ایس ایم ایس کرتے ہیں کہ ان کا فلاں مضمون فلاں اخبار یا رسالے میں شائع ہوا ہے وہ ضرور پڑھیں بلکہ مجھے تو کئی ایسی ایس ایم ایس بھی موصول ہوئی ہیں جس میں ان کا وہ خط پڑھنے کی درخواست بھی کی گئی ہوتی ہے جو کسی اخبار کے مراسلات کے کالم میں شائع ہوا ہوتا ہے۔ کبھی کسی نے یہ اطلاع نہیں دی کہ مارکیٹ میں فلاں نئی کتاب آئی ہے وہ ضرور پڑھیں۔ سو پیارے یونس جاوید تم نے اگر لکھنے پڑھنے کو اپنی زندگی کا وطیرہ بنا ہی لیا ہے تو پھر جب کبھی پڑھنے کا موڈ بنے تو خواجہ اسلام کی کتاب ”مرنے کے بعد کیا ہو گا؟“ یا ”حسن پرستوں کا انجام“ پڑھو بلکہ تمہارے لئے دوسری کتاب پڑھنا تو لازم ہے کہ تمہیں ”حسن“ جہاں نظر آتا ہے اس کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ”پھاوا“ ہو جاتے ہو اور ہاں جب کبھی تم کچھ لکھنا چاہو تو بھی ادب لکھنے کی بجائے وظائف کا کوئی مجموعہ مرتب کرو، مارکیٹ میں اس کی بہت مانگ ہے، میری بات کا یقین نہ آئے تو اردو بازار کے کسی پبلشر سے پوچھ لو وہ تمہیں بتائے گا کہ اس نوع کی کتابیں لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوتی ہیں چنانچہ پورا ملک وظیفوں پر لگا ہوا ہے لیکن اپنا معاشرتی وظیفہ کوئی ادا نہیں کرتا۔ تاہم مجھے یقین ہے کہ تم میرے ان قیمتی مشوروں پر جو میں تمہیں مفت دے رہا ہوں کبھی عمل نہیں کرو گے شاید اس کی وجہ پاک ٹی ہاؤس کی وہ میز ہے جس پر تم ناصر کاظمی، انتظار حسین، انجم رومانی، انیس ناگی، شہرت بخاری اور اس ”قماش“ کے ان دوسرے ادیبوں کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملائے بیٹھے ہوتے تھے جنہوں نے خود بھی دنیا نہیں کمائی اور تمہاری بیڑیوں میں بھی ”وٹے“ ڈال دیئے۔
باقی جہاں تک یونس جاوید کو جاننے کا تعلق ہے تو کسی شخص کے بارے میں یہ دعویٰ کرنا کہ میں اسے جانتا ہوں یہ خدائی دعویٰ ہے کیونکہ کسی دوسرے شخص تو کیا انسان تو اپنے بارے میں بھی جاننے کا دعویٰ نہیں کر سکتا چنانچہ 1970ء میں یونس جاوید سے تعلق خاطر کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ آج 2010ء تک جاری ہے لیکن اگر سچی بات پوچھیں تو اس کی شخصیت کی خوبصورت پرتیں زیادہ وضاحت کے ساتھ صرف چند ماہ قبل سامنے آئیں بلکہ سچی بات یہ ہے کہ یونس جاوید کے علاوہ ہمدم دیرینہ اصغر ندیم سید کے ساتھ بھی میرا ایک مختلف نوعیت کا تعارف چند ماہ پیشتر اس وقت ہوا جب میں نے الحمراء آرٹس کونسل کے زیر اہتمام جشن انتظار حسین اور پھر سہ روزہ بین الاقوامی ادبی و ثقافتی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ میں نے تو ادیبوں کے متعلق سن رکھا تھا کہ یہ بے فکرے اور کاہل قسم کے لوگ ہوتے ہیں نیز یہ کہ اپنی ذات کے باہر کچھ سوچتے ہی نہیں لیکن متذکرہ تقریبات کے دوران جہاں اصغر ندیم سید کی تخلیقی اُپج سچی دوستی اور اس کی خوبصورت شخصیت کے لازوال نقش میرے دل پر ثبت ہوئے وہاں یونس جاوید کی بے غرضی اور بے لوث شخصیت نے بھی مجھے بے حد متاثر کیا۔ میں یونس جاوید کے ان افسانوں، اس کی تحقیق اور اس کے ڈرامہ سیریل ”اندھیرا اجالا“ کا پہلے سے فین تھا اور اس کی پُر خلوص دوستی کا بھی پہلے دن سے قائل تھا لیکن گزشتہ چند ماہ کی مسلسل رفاقت نے تو مجھے قائل کے علاوہ اس کا گھائل بھی کر دیا ہے۔ وہ ہنس مکھ ہے، بذلہ سنج ہے۔ دوستوں کے لئے سراپا محبت ہے لیکن متذکرہ تقریبات کے دنوں میں اس نے اپنی ان ساری خصوصیات کے ساتھ خود کو پس پردہ رکھتے ہوئے جس دل جمعی اور محنت کے ساتھ ان تقریبات کو کامیاب بنانے میں میری مدد کی میں اس کے اس پہلو سے واقف نہ تھا اس کے اس ”موو اوور“ نے تو میرے ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں۔
باقی جہاں تک یونس جاوید کے تازہ افسانوی مجموعے کا تعلق ہے تو میرا پرابلم یہ ہے کہ میں نقاد نہیں ہوں میں کسی تخلیق کے حوالے سے اپنے تاثرات تو بیان کر سکتا لیکن میرے لئے اس کا تجزیہ اور مصنف کی تحلیل نفسی وغیرہ ممکن نہیں تاثرات بیان کرنے سے مقصد تو پورا ہو جاتا ہے لیکن قاری پر رعب نہیں پڑتا چنانچہ یونس کے متذکرہ افسانوی مجموعے میں اپنے پڑھے لکھے دوست اور مسلمہ نقاد ڈاکٹر سعادت سعید کے طویل دیباچے پر نظر پڑی تو خوشی سے میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ میں نے سوچا کہ حکمت مومن کی گم شدہ میراث ہے یہ جہاں سے ملے، حاصل کرو چنانچہ میں نے ڈاکٹر سعادت سعید کے مضمون میں سے کچھ پیرے لفظوں کے ہیر پھیر کے ساتھ اپنے نام سے نقل کرنے کا ارادہ کیا لیکن یہ اتنا عالمانہ مضمون تھا کہ میں اس میں سے کوئی پیرا سرقہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا اورینٹیل کالج میں ایم اے اردو کرنے کے دوران ہمیں تنقید کا پرچہ پڑھنے کا شرف دو اساتذہ یعنی ڈاکٹر سید عبداللہ اور پروفیسر سجاد باقر رضوی سے حاصل ہوا۔ ڈاکٹر سید عبداللہ مشکل سے مشکل بات کو آسان ترین پیرائے میں بیان کرتے تھے جبکہ سجاد باقر رضوی آسان ترین بات کو اپنے عالمانہ وفور کی وجہ سے مشکل ترین بنانے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔ یہ دونوں کام آسان نہیں ہیں سو میں کہ سہل پسند انسان ہوں اس سے بھی زیادہ آسان ذریعہ استعمال کرتے ہوئے صرف اپنا یہ تاثر بیان کرنا چاہتا ہوں کہ یونس جاوید نے افسانے کی کلاسیکی روایت کو بہت خوبصضورتی سے نبھایا ہے۔ ”افسانہ“ کوئی علیحدہ صنف نہیں یہ کہانی کو ہی کہتے ہیں اور باکمال کہانی یہ ہوتی ہے کہ یہ سننے والے کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے۔
خوبصورت نثر لکھنے والے یونس جاوید نے اپنی کہانیوں کو اپنے باکمال انداز سے خود کو ایسا داستان گو ثابت کیا ہے جس کے گرد سننے والوں کا جھمگٹا لگا رہتا ہے اور صرف یہی نہیں، وہ ترقی پسند بھی تو ہے چنانچہ سماج کے دکھ اس کی کہانیوں سے کیسے دور رہ سکتے تھے سو کہانی میں یہ حساس افسانہ نگار دکھوں کی آگ میں جلتا اور اپنے ساتھ ہمیں بھی جلاتا چلا جاتا ہے یونس عام زندگی میں بھی کوئی عام سا واقعہ بھی اتنی جزئیات اور اتنے دلچسپ انداز میں سناتا ہے کہ سننے والے ہمہ تن گوش نظر آتے ہیں۔ یونس کا سب سے موثر ہتھیار اس کی کردار نگاری ہے۔ ”اندھیرا اجالا“ کے کردار خصوصاً ”ڈائریکٹ حوالدار“آج بھی ناظرین کے ذہنوں میں زندہ ہیں، اس سے بھی زیادہ زندہ کردار اس کے افسانوں میں موجود ہیں لیکن اب ان سے متعارف ہونے کے لئے ہمارے پاس وقت نہیں۔ بہرحال کہانی اس کا پہلا اور آخری عشق ہے اور سچی بات یہ ہے کہ اتنا کامیاب عاشق میں نے اپنی زندگی میں کم ہی دیکھا ہے۔
آخر میں ایک ایس ایم ایس جو مجھے یہ کالم لکھنے کے دوران موصول ہوا اور وہ یہ کہ ایک طوفانی بارش کے دوران ایک شخص نے بس سٹاپ پر کھڑی ایک خوبصورت لڑکی کو اپنی کار میں لفٹ دی مگر طوفان کی شدت کی وجہ سے لفٹ دینے والے شخص نے رات ہوٹل میں بسر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اتفاق سے ہوٹل میں صرف ایک ہی کمرہ خالی تھا چنانچہ وہ دونوں اس کمرے میں سوئے اور صبح ہونے پر اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔ ایس ایم ایس بھیجنے والے نے آخر میں لکھا تھا کہ یہ ایس ایم ایس پڑھنے کے بعد آپ کو یقین ہو گیا ہو گا کہ میں کوئی صاف ستھری ایس ایم ایس بھی بھیج سکتا ہوں۔ ایس ایم ایس ختم اب میری طرف سے یونس جاوید کے افسانوی مجموعے کے قارئین کے لئے یہ اطلاع عام ہے کہ یونس کے کچھ افسانوں کے آغاز اور درمیان میں آپ کو وہ سب کچھ ملے گا جس طرف آلودہ ذہنوں کا خیال متذکرہ ایس ایم ایس کے مطالعہ کے دوران جا سکتا تھا مگر یاد رکھیں افسانے کے اختتام پر وہ آپ کو رلا بھی دے گا۔ سو اگر آپ ان کیفیات سے گزرنے کے لئے تیار ہیں تو ”ربا سچیا ربِ قدیر“ ضرور پڑھیں!
(لاہور میں منعقدہ تعارفی تقریب میں پڑھا گیا)
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=451601
Recent Comments