صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود

دوستو! دراصل سیاستدان بڑی گھاگ شے ہوتی ہے۔ سیاستدان کہتا کچھ اور ہے اور مطلب کچھ اور ہوتا ہے۔ اگر سیاستدان قدرے پڑھا لکھا اور صاحب ذوق بھی ہو تو سمجھو کہ ایک کریلا پھر نیم چڑھا۔ پنجاب کے لوگ اسے اپنی زبان میں یوں کہتے ہیں کہ اوّل تو سانپ پھراُڑتا بھی ہے۔ میرے مہربان ڈاکٹر بابر اعوان اوّل تو پڑھے لکھے اور اعلیٰ ذوق کے مالک ہیں پھر میدان سیاست کے شہسوار بھی ہیں۔ چنانچہ وہ بڑے طریقے اور سلیقے سے حس مزاح اور ذوق کا مظاہرہ سیاسی میدان میں بھی کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے ایک نقاد دوست اسے کاریگری کہتے ہیں اور جو شخص اس صلاحیت کا مظاہرہ کرے اسے کاریگر کہتے ہیں۔
آپ کو یاد ہو گا کہ گزشتہ دنوں اصولی سیاست کے شاہکار میاں نواز شریف نے کچھ وقت کے لئے فرینڈلی اپوزیشن کا لبادہ اتار کر صدر زرداری صاحب کو آنکھیں دکھائی تھیں اور بڑے دھماکہ کش انداز سے کہا تھا کہ پاکستان سے لوٹی گئی دولت بہرحال واپس آنی چاہئے۔ سپریم کورٹ کے این آر او سے متعلق فیصلے پر ہر صورت عمل ہوناچاہئے اور اگر سپریم کورٹ سے تصادم کی پالیسی اپنائی گئی تو ہم سپریم کورٹ کا ساتھ دیں گے۔ پے در پے تین چار بیانات میں میاں صاحب نے اس دولت کو ملک واپس لانے پر زور دیا تھا جو صدر صاحب نے سوئٹزر لینڈ میں چھپا رکھی ہے اور اسی طرح میاں صاحب نے ان چالیس کروڑ ڈالروں کے علاوہ فرانس سے خریدی گئی آبدوزوں کے کمیشن کی تحقیق کا بھی مطالبہ کیا تھا کیونکہ فرانس کے ایک معتبر اخبار نے یہ الزام لگایا تھا کہ آبدوزوں کے سودے میں صدر زرداری صاحب نے بھی کمیشن وصول کیا تھا۔
جب میاں صاحب نے ذرا فرینڈلی اپوزیشن کا لبادہ اتار کر تھوڑی سی اپوزیشن کی آنکھیں دکھائیں تو صدر صاحب کے دوست اور حمایتی بھی وفا کے تقاضے نبھانے کے لئے میدان میں اتر آئے۔ انہیں ایسا موقعہ خدا دے۔ اس بٹالین میں جو حضرات علم و فضل کے ذوق سے تہی دامن تھے انہوں نے میاں صاحب پر پتھر پھینکنے شروع کر دیئے لیکن ڈاکٹر بابر اعوان چونکہ باذوق انسان ہیں اس لئے ان کا انداز نرالا طنزیہ اور منفرد تھا اور جیالا ہونے کے باوجود جیالوں سے مختلف تھا جسے میں پڑھ کر لطف اندوز ہوا اور ڈاکٹر بابر اعوان صاحب کی عیارانہ معصومیت بلکہ بھولپن کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکا۔ ان کے انداز کا یہ پہلو دلچسپ تھا کہ کچھ کہہ بھی گئے اور کچھ بھی نہ کہا۔ انہوں نے لاہور آمد پر میڈیا کے سامنے کھڑے ہو کر فرمایا کہ میاں صاحب نے مطالبہ کیا ہے کہ صدر صاحب ملک سے لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں اور سوئٹزر لینڈ کے بینکوں میں رکھے گئے چالیس کروڑ ڈالر قوم کو لوٹائیں۔ بات یہ ہے کہ کبھی ہم نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ میاں صاحب لندن میں رکھے گئے پاؤنڈ واپس لائیں، کبھی ہم نے پوچھا ہے کہ انہوں نے لندن میں اتنی مہنگی پراپرٹی کیسے خریدی، کبھی ہم نے پوچھا ہے کہ انہوں نے جدہ میں سٹیل مل اور پراپرٹی کیسے بنائی، ہم نے کبھی پوچھا ہے کہ انہوں نے اربوں روپوں کی جائیداد کیسے بنائی کیونکہ ان کی جائیداد ان کے انکم ٹیکس گوشواروں اور ادا کئے گئے ٹیکس اور آمدنی کے مطابق نہیں، کبھی ہم نے پوچھا کہ جب وہ اقتدار میں آئے تو وہ اتنے بڑے صنعتکار اور رئیس نہیں تھے لیکن اقتدار میں رہ کر انہوں نے اتنی دولت کیسے اکٹھی کی اور اتنی فیکٹریاں کیسے لگا لیں۔ مختصر یہ کہ ڈاکٹر بابر اعوان صاحب نے نہایت کاریگری سے وہ سارے تیر چلا دیئے جو ان کے ترکش میں تھے اور اس خطرے کے پیش نظر کہ مسلم لیگ (ن) والے صدر زرادری صاحب کے ستر ایکڑ پر محیط سرے محل کا ذکر کرتے رہتے ہیں انہوں نے نہایت ملائم انداز سے پچیس ہزار کنال پر چھائے ہوئے رائیونڈ محل کا بھی ذکر کر دیا اور یوں سکور برابر کر دیا ۔ پنجابی محاورے کے مطابق یہ منہ بند کرنے کی ترکیب تھی جو ڈاکٹر بابر اعوان نے آزمائی۔ یہ ترکیب کسی حد تک کامیاب رہی کیونکہ دوسری طرف سے اب تک اس کا جواب نہیں آیا۔
سچی بات یہ ہے کہ میں ڈاکٹر بابر اعوان کے لطیف انداز سے لطف اندوز ہوا اور سوچنے لگا کہ جب تک میاں صاحب نے زرداری صاحب کا مالی احتساب نہیں کیا تھا اور ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے لئے نہیں کہا تھا، پی پی پی کے جیالے بھی خاموش تھے اور ڈاکٹر بابر اعوان جیسے ”باز“ بھی فرینڈلی اپوزیشن والوں کی پردہ داری کر رہے تھے لیکن جونہی میاں صاحب نے سوئٹزر لینڈ کے بینکوں میں پڑے چالیس کروڑ ڈالر ملک واپس لانے کا مطالبہ کیا، پیپلز پارٹی والے بھی اپنی ”اصل“ میں آ گئے اور جوابی مہم کے انداز میں آنکھیں دکھانے لگے بلکہ یوں سمجھئے کہ ان کا انداز اس طرح کا تھا کہ اِٹ سٹ تے پاکھڑا کوار گندل پتر اسی ہور وی بوٹیاں جاننے آں۔ مطلب یہ کہ میاں صاحب ہمیں چھیڑو نہیں ہمارے پاس کہنے کو اور بھی بہت کچھ ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جب تک میاں صاحب زرداری صاحب کے وسیع و عریض سرے محل، لندن میں پانچ قیمتی جائیدادوں، فرانس میں دو قیمتی گھروں، نیویارک میں دو پوش اپارٹمنٹوں ، دبئی میں جائیدادوں اور سوئٹزر لینڈ میں کمیشن سے اکٹھے کئے گئے چالیس کروڑ ڈالروں کا ذکر نہیں کرتے، ان کی فرینڈلی اپوزیشن کے شاہکار پی پی پی والے بھی ان کی جائیدادوں پر پردہ ڈالے رکھیں گے اور ملک و قوم کے نام پر ان سے جائیدادیں اور پاؤنڈ ڈالر واپس لانے کے لئے نہیں کہیں گے لیکن جب میاں صاحب زرداری صاحب سے لوٹ کھسوٹ کا حساب مانگنے اور جائیدادیں قوم کو لوٹانے کا مطالبہ کریں گے تو پھر پیپلز پارٹی والے بھی پتھر کا جواب اینٹ سے دیں گے۔ سوال یہ ہے کہ دولت کس کی لوٹی گئی ہے۔ سیدھا سا جواب ہے کہ قوم کی۔ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے دونوں عظیم لیڈران اس راز کو قوم سے چھپانا چاہتے ہیں حالانکہ یہ راز اب کوئی راز نہیں رہا۔
سچی بات یہ ہے کہ میں نے جب سے یہ سیاسی فلم دیکھی ہے اور سیاسی اداکاروں کے ڈائیلاگ پڑھے ہیں میں اس مخمصے میں مبتلا ہوں اور کنفیوژن کا شکار ہوں کہ بھلا ملی بھگت کسے کہتے ہیں؟ نورا کشتی کیا ہوتی ہے؟ ایسے مواقع پر مجھے فارسی کا وہ محاورہ شدت سے یاد آتا ہے:
من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگوسادہ سا مفہوم یہ ہے کہ میں تجھے حاجی کہتا ہوں تم مجھے حاجی کہو ذرا سوچئے کہ ہمیں کیسے کیسے ”حاجیوں“ سے پالا پڑا ہے؟

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=451287

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha