صبح بخیر- ڈاکٹر صفدر محمود
میری زندگی میں ایسا بہت کم ہوا ہے کہ علم نجوم کے دو ماہرین ایک ہی جیسے راز ظاہر کریں، ایک ہی جیسی پشین گوئیاں کریں اور مستقبل کا ایک ہی جیسا نقشہ بنائیں لیکن سب سے انوکھی اور منفرد بات یہ ہےکہ میری زندگی میں ایسا کبھی بھی نہیں ہوا کہ جو باتیں ماہرین علم نجوم کہہ رہے ہوں وہی باتیں صاحبان باطن بھی کہہ دیں۔ علم نجوم تو اندازوں کا علم ہے لیکن صاحب ِ باطن تو صرف وہ بات کہتا ہے جو وہ اپنے کشف کے ذریعے، روحانی طاقت کے وسیلے اور منور باطن کے حوالے سے دیکھتا ہو بلکہ یوں سمجھئے کہ جو کچھ اسے دکھایا جاتا ہے وہ صرف وہی بیان کرتا ہے۔ نور ِ الٰہی سے فیض یافتہ صاحبان باطن کا تعلق روحانی و آسمانی طاقتوں سے ہوتا ہے اور ان کا ہر قدم حکم کے تابع ہوتا ہے۔ مجھے کئی اولیاء اکرام کی جوتیوں میں بیٹھنے کا شرف حاصل ہوا ہے اور ہمیشہ یہی احساس ہوا کہ وہ پوری طرح آزاد نہیں ہیں، وہ اپنی اپنی روحانی نسبت کے تابع ہیں اور ہر کام حکم پر کرتے ہیں۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ میں نے اپنی زندگی میں آسمانی باتیں کرنے والوں میں اس قدر مماثلت اور اشتراک کبھی نہیں دیکھا جس کا تجربہ مجھے ان دنوں ہواکیونکہ ماہرین علم نجوم الگ شعبہ ہے اور صاحبان باطن یا اللہ والے یا روحانی شخصیات بالکل دوسری دنیا ہے۔ گزشتہ دنوں پیر قیوم نظامی صاحب کے ذریعے مجھے ایک روحانی شخصیت اور صاحب ِ باطن جناب سرفراز شاہ صاحب سے ملنے کا اتفاق ہوا جن سے میں متاثر ہوا لیکن معاف کیجئے میں اس سے زیاہ کچھ نہیں لکھ سکتا سوائے اس کے کہ روحانی حوالے سے محترم سرفراز شاہ صاحب پر اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل و کرم ہے وہ برسوں کا سفر سکینڈوں میں طے کر جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انشاء اللہ پاکستان کے حالات جلد سدھریں گے، موجودہ سیاسی سیٹ اپ ختم ہو جائے گا، 40/45 سالہ نوجوانوں کا گروہ ملک کی عنان اقتدار سنبھالے گا اور پاکستان کو بھنورسے نکالے گا۔
یہ نوجوان دو ڈھائی برس میں ملک کی سیاسی اورمعاشی تقدیر بدل دیں گے، ملک میں امن استحکام انصاف اور خوشحالی آئے گی۔ 2012 میں امریکہ نہایت کمزور ہو جائے گا، سپر پاور اور ”سانڈ“ نہیں رہے گا اور پاکستان ابھر کر عالم اسلام کی قیادت تکرے گا کہ قیام پاکستان قدرت کا معجزہ ہے اورقدرت کو پاکستان سے اہم خدمات لینی ہیں۔ باتیں اوربھی ہوئیں لیکن فی الحال اتنا ہی کافی ہے کیونکہ میں پاکستان کے روشن مستقبل ، استحکام اور خوشحال پاکستان کے تصور ہی سے چہک اور مہک اٹھتا ہوں، پاکستان ہی میری پارٹی اورقائداعظم میرے قائد ہیں اس لئے پاکستان کے حوالے سے خوشگوار خبریں سن کر میں حسین خوابوں میں کھو گیا ہوں مجھے یقین ہے کہ صاحبان باطن کے منہ سے نکلنے والی باتیں سیچ ہوتی ہیں… دوستو! یہ ایک حسین اتفاق ہے کہ سبھی ایک جیسی باتیں کر رہے ہیں۔ شاید اسے ہی منشا ء الٰہی کہتے ہیں۔ زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو۔
نوٹ: اس کالم کا پہلا حصہ منگل13جولائی کو شائع ہوا۔
Recent Comments