صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود

ہم ہر روز زمینی باتیں کرتے اور لکھتے ہیں لیکن آج میرا جی چاہتا ہے کہ میں آپ کو آسمانی باتوں کی جھلک دکھاؤں کیونکہ یہ باتیں میرے دل کو اچھی لگتی ہیں اور میرے خوابوں کورنگ و خوشبو سے سجاتی ہیں۔ بس شرط ایک ہے کہ آپ مجھ سے نام نہیں پوچھیں گے اور میری طرح نام کی بجائے کام سے غرض رکھیں گے کیونکہ میرے نزدیک کام نام سے بڑا ہوتا ہے اور کام ہی نام بناتا ہے۔
آپ کو حق پہنچتاہے کہ آسمانی باتوں کو ہوائی باتیں کہہ لیں لیکن میرا تجربہ بتاتا ہے کہ اکثر اوقات یہ ہوائی یا آسمانی باتیں زمینی حقائق بن جاتی ہیں، جو باتیں ہم سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں وہ ہمارے سامنے حقیقت کاروپ دھار کر ایک فلم کی مانند چل جاتی ہیں اور پھر زمین کی کہانی بن کر تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔
آسمانی باتیں سنانے سے قبل ایک وضاحت ضروری ہے او ر وہ یہ کہ آسمانی باتوں کے ذرائع عام طور پر دو ہوتے ہیں۔ اول علم نجوم دوم صاحبان باطن یاروحانی شخصیات… میرے مشاہدے کے مطابق علم نجوم ایک مکمل سائنس ہے لیکن اس کے ماہرین بہت کم ہیں۔ بدقسمتی سے یہ علم دکانداروں کے ہتھے چڑھ گیا ہے ورنہ تو یہ علم پیغمبروں کی ملکیت ہوتا تھا اور نظام قدرت کو سمجھنے میں مدد دیتا تھا۔ یہی وجہ ہے اسلامی نقطہ نظر سے ایسے علوم کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے کیونکہ یہ توہم پھیلاتے اور بعض اوقات گمراہ کرتے ہیں۔ توہم اور گمراہی کا امکان وہاں ہوتا ہے جہاں اس کاکمرشل استعمال ہواور جادو ٹونے کے ذریعے لوگوں کی جیبیں خالی کی جائیں۔ جہاں ملکی و قومی حوالے سے تجسس کی تسکین کے لئے کسی صحیح صاحب ِ علم سے تبادلہ خیال کیا جائے وہاں گمراہی یا تو ہم کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ یہ چسکا ہوتا ہے، گپ شپ ہوتی ہے اور بس…!!
ان صاحب کا نام نہ پوچھیں کیونکہ یہ کینیڈا میں ہوتے ہیں۔ علم نجوم کے ماہر ہیں اور عام طور پر مستقبل کا جو نقشہ بناتے ہیں وہ کافی حدتک صحیح نکلتا ہے لیکن سو فیصد ہرگز نہیں۔ انہیں علم ہے کہ میں ملک و قوم کے حوالے سے متفکر بھی رہتا ہوں او رتجسس کا شکا ر بھی ہوں اگرچہ اس بات پر میرا مکمل ایمان ہے کہ انشاء اللہ کوئی قوت بھی پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی بلاشبہ فی الحال ہم گٹوں اور ٹخنوں تک خون میں ڈوبے ہوئے ہیں لیکن انشاء اللہ ہم اس آگ اور خون کے دریا سے بہتر قوم بن کر نکلیں گے اور پاکستان استحکام و خوشحالی کی راہ پرگامزن ہوگا۔ بس تھوڑا عرصہ امتحان اور مشکلات کا ہے۔ ہاں تو میں ذکر کر رہا تھا کہ ہمارے یہ مہربان کینیڈا سے پاکستان تشریف لائے کہ یہ ان کا وطن اور محبتوں کاگہوارہ ہے۔ ملاقات ہوئی تو ہاتھ ملاتے ہی کہنے لگے ”ڈاکٹرصاحب! قدرت کو پاکستان پررحم آ گیا ہے۔ میں علم نجوم کے ذریعے آسمانوں پر کچھ مثبت تبدیلیاں رونما ہوتے دیکھ رہا ہوں۔ انشاء اللہ پاکستان کے حالات بدل جائیں گے، مایوسی کی جگہ امید اور اعتماد کا غلبہ ہوگا اور انصاف کا سورج طلوع ہوگا“ میں نے انہیں کریدتے ہوئے پوچھا کہ آپ واضح طور پربتائیں کہ آپ کیا دیکھ رہے ہیں۔ ان کا جواب مختصر لیکن جامع تھا۔ کہنے لگے آسمانوں پر تبدیلی آ چکی، زمین پر آنی باقی ہے۔ آئندہ چند ماہ میں موجودہ سیاسی نظام اور حکمرانوں کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ وطن کی خدمت کے جذبے سے سرشار، نہایت ایماندار اور قابل نوجوان برسراقتدار آئیں گے بلکہ پردہ غیب سے ظاہر ہوں گے۔ وہ کوئی دو ڈھائی برس اقتدار میں رہیں گے اور ملک سے کرپشن، لاقانونیت اور کافی حد تک غربت کا خاتمہ کریں گے، بے لاگ احتساب ہوگا، ملک میں استحکام آئے گا اور خوشحالی کے دور کا آغاز ہوگا، معیشت میں بہتری آئے گی، عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوگا۔ وہ باربار مستقبل کے قابل اور نوجوان حکمرانوں کے لئے Saviours ملک کو بچانے والے کی اصطلاح استعمال کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصے کے بعدعدلیہ مضبوط ہوگی اور عدلیہ ہی بہتر تبدیلیوں کا ذریعہ بنے گی۔ فوج بہرحال سامنے نہیں آئے گی اوراس کا کردار پس پردہ رہے گا۔ مختصر سی ملاقات میں انہوں نے چند ایک اورباتیں بھی بتائیں جو وقت آنے پر عرض کروں گا فی الحال تھوڑے لکھے کو بہت سمجھیں۔
دوسرے مہربان شاہ جی میرے دیرینہ دوست اور سکول فیلو ہیں۔ نہایت مخلص، شریف النفس اور نیک انسان ہیں۔ انہیں علم نجوم کا ادراک ہے یا کسی اورعلم کا، مجھے اس کا صحیح اندازہ نہیں لیکن مجھے اتنا پتہ ہے کہ وہ اپنے علم کے ذریعے کچھ نہ کچھ آسمانی خبریں چرا لاتے ہیں جن میں سے کچھ سو فیصد درست اور تھو ڑی سی غلط بھی نکل آتی ہیں میرا چونکہ ان سے یارانہ ہے اس لئے میں ان سے چسکا لیتا رہتا ہوں اور اکثر اوقات ان کی پشین گوئیوں کی سچائی پرحیرت زدہ رہ جاتا ہوں۔ کینیڈا والے صاحب سے میری بے تکلفی نہیں اس لئے میں ان سے سوالات پوچھنے سے گریز کرتا ہوں لیکن شاہ جی چونکہ برادر خورد ہیں اس لئے ان سے لبرٹی لے لیتا ہوں ۔ پاکستان کے حوالے سے گفتگو ہو رہی تھی تو پتہ چلا کہ شاہ جی بھی آسمانوں سے کچھ خبریں چرالاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ چند ماہ کے اندر اندر بدل جائے گا اور کوئی عبوری حکومت آئے گی جو دو ڈھائی برس برسراقتدار رہے گی۔ یہ قابل، مخلص ، ایماندار اور محنتی لوگ ہوں گے جو ملکی مسائل کو حل کریں گے، معیشت کو خوشحالی کی راہ پر ڈالیں گے۔ شاہ جی کا کہنا تھا کہ 2011 کے اواخر سے ملک میں امن اوراستحکام کا دور طلوع ہوگااور 2012 میں پاکستان ایک مستحکم اور معاشی طور پر مضبوط ملک بن کر ابھر ے گا اور عالمی سطح پر وقار کمائے گا۔ شاہ جی کا کہنا ہے کہ جولائی کے تیسرے ہفتے سے لے کر نومبر تک عدلیہ پر دباؤ ڈالا جائے گا، عدلیہ پرحملے ہوں گے لیکن نومبر کے بعد انصاف اور عدلیہ راج کریں گے، حکومتی تبدیلی عدلیہ کے ذریعے آئے گی اور انشاء اللہ 2012 سے عدلیہ اورپارلیمینٹ نہایت مضبوط اداروں کی حیثیت سے ابھریں گی۔ شاہ جی کا کہنا ہے کہ 2011 میں امریکہ میں نسلی فسادات اور خون ریزی کا خدشہ ہے جس سے امریکہ کمزور ہوگا، 2012 میں امریکہ سپرپاور نہیں رہے گا اور وہاں داخلی طور پر ٹوٹ پھوٹ کے عمل کا آغاز ہوجائے گا۔ (جاری ہے)

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=449786

  One Response to “ذکرآسمانی باتوں کا(I)”

  1. Kaash Aesa ho jaye tou hum log bhi apney Des ko wapis ayein aur Un jawanoo ka saath dain jo hamarey mulk me Aman qayem kar sakain

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha