گریبان ۔۔۔۔منوبھائی
پنجاب اسمبلی نے ایک قرار داد مذمت کے ذریعے ’’میڈیا‘‘پر خودکش حملہ کیا ہے، خودکش حملوں میں سب سے پہلے حملہ آور ہی مارے جاتے ہیں اور اس خود کش حملے میں بھی یہی ہوا ہے۔
تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ پنجاب اسمبلی میں حکومتی پارٹی کا کوئی رکن ایسی قرار داد پیش کرے گااور اسمبلی کی صدارتی کرسی اسے پیش کردینے کی اجازت دے گی جس کو حکمرانوں کی حمایت، سرپرستی یا اجازت حاصل نہیں ہوگی۔ اس کے باوجود پاکستان مسلم لیگ نون اس قرار داد مذمت سے لاتعلقی کا اعلان کرتی ہے۔ اس کے رہنما میاں نواز شریف اسے’’برے اداروں‘‘پرمبنی قراردیتے ہیں اور قرار داد پیش کرنے والے کو مسلم لیگ نون سے نکال باہر کرنے کا حکم دیتے ہیں اور وزیراعلیٰ یا خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف فرماتے ہیں کہ یہ قرار داد ضائع کردی جائے گی یا اسمبلی کی کارکردگی سے حذف کروادی جائے گی مگر کمان سے نکلا ہوا تیر واپس نہیں آیا کرتا۔
اس قرار داد مذمت یا خود کش حملے نے اب تک حکمرانوں کو جو نقصان پہنچایا ہے وہ طالبان پاکستان سے پنجاب کے صوبے کو بخش دینے کی درخواست اور سید علی ہجویریؒ کے دربار پر حملے سے بھی زیادہ نقصان زدہ ثابت ہوا ہے۔ یہاں تک کہ ٹرانس پرینسی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ سے جو سیاسی فائدے اخذ کئے گئے تھے ان پر بھی پانی پھیر دیا گیا ہے۔پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کاکہنا ہے کہ اس رپورٹ کی صداقت سراسر مشکوک ہے کیونکہ ٹرانس پرینسی انٹرنیشنل کے پاکستانی شعبہ کے سربراہ مسٹر عادل گیلانی خود مسلم لیگ نون کی ٹاسک فورس، کے رکن ہیں، چنانچہ مذکورہ بالا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب کے عوام کی اکثریت بلکہ 52فیصد سے بھی زیادہ نے’’خادم اعلیٰ‘‘کی حکومت کو پسند فرمایا ہے جبکہ47فیصد چودھری برادران کے حق میں تھے۔
سیانے کہتے ہیں اور بالکل صحیح کہتے ہیں کہ اپنے آپ سے عشق فرمانے والوں کا کوئی رقیب نہیں ہوتا اور وطن عزیز میں ا یسے احمقوں کی کمی نہیں ہے جو اپنے آپ کو دنیا کا حسین ترین، قابل ترین اور سب سے زیادہ اور بڑا دانشور سمجھتے ہیں اور اسی خوش فہمی میں اس دنیائے فانی سے رخصت ہو جاتے ہیں اور اپنے پیچھے اپنا کوئی یوم وفات، کوئی برسی اور کوئی تعزیت بھی نہیں چھوڑتے،
ایک لطیفہ کچھ یوں تھا کہ کسی شخص نے اپنے گرفتار کیا جانے پر پوچھا کہ’’میرا جرم کیا ہے؟‘‘اسے بتایا گیا کہ’’تم سوشلسٹ ہو‘‘اس شخص نے کہا ’’مگر میں تو اینٹی سوشلسٹ ہوں‘‘ جواب دیا گیا کہ’’جیسے بھی ہو سوشلسٹ تو ہونا‘‘ اس لطیفے پر اگر تھوڑی سی سنجیدگی سے غور کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ سوشلزم کی جتنی خدمت اینٹی سوشلسٹ عناصر نے کی ہے اتنی خود سوشلسٹ نہیں کرسکے اور پاکستان پیپلز پارٹی اگر اپنے قیام کے چالیس سال بعد اور اپنے قائد کے ’’عدالتی قتل‘‘ کے بعد بھی اپنا سب سے بڑا’’ووٹ بنک‘‘ برقرار رکھ سکی ہے تو اس کا سب سے زیادہ کریڈٹ اس کے مخالفین اور دشمنوں کو جاتا ہے جن کی مخالفت اور دشمنی نے اسے زندہ اور موثر بنائے رکھا اور آخری تجزئیے سے پتہ چلا کہ وطن عزیز میں صرف دو ہی سیاسی جماعتیں ہیں ۔ ایک پاکستان پیپلز پارٹی اور دوسری اینٹی پاکستان پیپلز پارٹی، اس دوسری سیاسی جماعت کے لیڈروں کو جن مشکلات کا سامنا ہے وہ یہ ہیں کہ وہ مفاہمت اور مصالحت کی سیاست اور غیر سیاسی طاقتوں کے خوف کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف اپنی دشمنی اور تصادم کی سیاست نہیں چلا سکتے۔ اپنی سابقہ سیاست کے میدان میں عمران خان کی تحریک انصاف اور بھائی الطاف حسین کی ’’ایم کیو ایم‘‘کو بڑھتے دیکھ رہے ہیں مگر کچھ نہیں کرسکتے، افسوس کہ مجنوں کا قدم اٹھ نہیں سکتا۔
ایک سوچ کچھ یوں بھی ہے کہ پارلیمنٹ نے عدلیہ کو اپنی حدود میں رہنے کا مشورہ دیا ہے تو جعلی ڈگریوں کے احتساب کے ذریعے پارلیمان کی عزت و آبرو کو ادھیڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جعلی ڈگریوں کے خلاف مہم کی مخالفت نہیں کی جاسکتی مگر اس مہم کو جعلی ڈگریوں سے آگے بڑھنا چاہئے کیونکہ وطن عزیز میں صرف ڈگریاں ہی جعلی نہیں ہیں ا ور بھی بہت کچھ سراسر نقلی، جعلی ، نام نہاد اور بنائوٹی ہے۔ صبح ہمیں جو دودھ ملتا ہے وہ بھی اصلی نہیں ہوتا ہے اور رات کو اپنے پریشان دماغ کو نیند کی گود میں سلانے کے لئے جو گولی استعمال کرتے ہیں وہ بھی نقلی ہوتی ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جعلی ڈگریاں محض پارلیمان میں ہی نہیں ہیں، انتظامیہ اور عدلیہ کے ایوانوں میں بھی ہوسکتی ہیں، احتساب کرنے والوں کی ڈگریاں بھی مشکوک قرار دی جاسکتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور اور پروگرام بھی جعلی ،نقلی اور محض دکھاوے ہوسکتے ہیں۔
عزیزہ ہما میر نے اپنے والد مرحوم وارث میر کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے اپنی وفات سے کچھ دن پہلے پاکستان کے آنے والے حالات کا جو نقشہ کھینچا تھا وہ بالکل صحیح ثابت ہورہا ہے۔ عزیزہ ہما کے اس دعوے کی تائید کروں گا کیونکہ اپنی آخری ملاقاتوں میں وارث میر بتایا کرتے تھے کہ پاکستان بہت جلد پانامہ بن جائے گا اور اپنے خلاف قرار داد مذمت کی منظوری پر خوش ہونے کی بجائے ا حتجاج کرنے والے ’’میڈیا کا ردعمل یہی ثابت کرتا ہے کہ پاکستان بہت تیزی سے’’پانامہ‘‘ کی جانب بڑھ رہا ہے یہاں یہ بات بھی دھیان میں رہنی چاہئے کہ کوئی حادثہ بھی اچانک نہیں ہوتا ۔ ایک پراسیس کے تحت، مسلسل اور متواتر کوششوں کے ذریعے وجود پاتا ہے اور پاکستان کو بھی پانامہ کی جانب دھکیلنے میں جنرل ایوب خان سے جنرل پرویز مشرف تک کی چالس سالوں کی انتہائی خوفناک کوششوں کا اعتراف کرنا پڑے گا۔
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=449607
Related posts:










Recent Comments