گریبان ۔۔۔۔ منوبھائی
اَج آکھاں وارث شاہ نوں کِتوں قبراں وچوں بول
تے اَج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول
زبان دانی کا دعویٰ نہیں ہے مگر میرے خیال اور سمجھ کے مطابق عشق کی کتاب کا اگلا ورقہ عام کتابوں کے اگلے ورق سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ اگلا ورقہ The Next Pageنہیں ہوتا The Other Pageیعنی دیگر صفحات سے الگ، مختلف ، نیا اور وکھری ٹائپ کا ہوتا ہے جو نصیبوں کی کتاب اور نوشتہ تقدیر کی طرح پہلے سے لکھا ہوا نہیں ہوتا خون اور پسینے سے آنسوئوں اور قربانیوں سے خلوص، جذبے اور سچائی سے ’’دکھاں دی روٹی‘‘ اور ’’سولاں دا سالن‘‘ کھا کر لکھا جاتا ہے جیسے مرزا غالب اور سید وارث شاہ نے سعادت حسن منٹو اور فیض احمد فیض نے لکھا، ناصر کاظمی، حبیب جالب، استاد دامن، مظہر علی خاں، احمد ندیم قاسمی، عبد اللہ ملک اور وارث میر نے لکھا۔ کتاب عشق کا نیا باب کھولا اور حقائق کا نیا ورق اٹھایا۔ کتاب عشق کے اس اگلے ورقے کا جہاں معروضی اور زمینی حقائق سے تعلق ہوتا ہے وہاں ہر اگلے ورقے کا پچھلے ورقے سے بھی گہرا رابطہ ہوتا ہے۔
سید وارث شاہ کے حوالے سے امرتا پریتم عشق کی جس کتاب کی بات کرتی ہیں وہ ہیر اور رانجھے کی داستان عشق ہے۔ یہ داستان اس سے پہلے درجنوں شاعروں نے اپنے اپنے انداز میں لکھی مگر سید وارث شاہ کی بیان کردہ یہ داستان عشق کتاب عشق کا اگلا ورقہ یوں بنی کہ وارث شاہ نے اس داستان کو ایک مشن اور منشور کی جدوجہد بنا دیا اور اس جدوجہدسے فلسفہ یہ اخذ کیا کہ خلوص نیت اور صادق جذبوں کی جدوجہد کامیابی کی منزلیں طے کرتی ہے اور اپنے راستے میں حائل ہونے والی تمام رکاوٹوں کو عبور کرتی ہے اور مشکلات کو آسان بناتی جاتی ہے مگر جوں ہی مشن اور منشور پر مصلحت کو ترجیح دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جدوجہد میں ’’کامپرومائز‘‘ کا مرحلہ آتا ہے جیتی ہوئی بازی ہار دی جاتی ہے۔ فتوحات شکست میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ مثبت منفی میں بدل جاتا ہے اور مرزا صاحباں سے کہتا ہے۔
بُرا کیتو ای صاحباں میری ترکش ٹنگی او ای جنڈ
میں بناں بھرانواں ماریا، میری ننگی ہوگئی کنڈ
یعنی صاحباں! تم نے بہت برا کیا کہ میری ترکش جنڈ کے درخت پر ٹانگ دی میں کسی مددگار کی عدم موجودگی میں مارا گیا اور میری پیٹھ ننگی ہوگئی۔
حافظ برخوردار کے مطابق ترکش میں صرف تیر ہی نہیں رکھے جاتے۔ ترکش پیٹھ ڈھانپنے کا فرض بھی ادا کرتی ہے۔ شاعر نے یہاں ترکش کو نظریات کی طاقت اور حفاظت کی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے سید وارث شاہ کی داستان کے دھیدو رانجھے نے دنیا دی رسوم و قیود کی پابندیوں کے خلاف بغاوت کی اور قاضی بے نمازی کی مداخلت اور وساطت بے جا کے بغیر ہیر سے شادی کرنے کا مشن اور منشور اپنایا تھا اور کوئے یار سے سوئے دار تک ہر منزل پر کامیابیاں حاصل کی تھیں۔ ہیر کے والد اور علاقے کے چودھری چوچک کے مقابلے میں کامیاب ہوا تھا۔ ہیر کے ماموں یا چاچا کیدو کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی تھی، ہیر کے نام نہاد اور غیر منکوحہ شوہر سیدو کھیڑے کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی تھی اور اس کی کامیابیوں کا گراف اتنا اونچا چلا گیا تھا کہ بادشاہ کی عدالت سے بھی مقدمہ جیت گیا تھا مگر اس کامیابی کے فوراً بعد جب ہیر کے والد اور چودھری چوچک نے رانجھے کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ جائو بیٹا اب تخت ہزارے سے اپنی بارات لے آئو اور ہیر کو بیاہ کر لے جائو اور رانجھے کی طرف سے یہ مشورہ قبول ہوتے ہی کیدو نے دودھ میں زہر گھولنا شروع کر دیا تھا۔
ایک اور پچھلا ورق الٹائیں تو دکھائی دے گا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے پہلے انتخابی منشور اور بنیادی دستاویزات کے ذریعے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی پاکستان کا مقدمہ جیتنے کی کامیابی کے بعد قومی زندگی کی دوسری سب سے بڑی کامیابی حاصل کی اور وطن عزیز کو اس کی تاریخ کی سب سے بڑی سیاسی جماعت راتوں رات فراہم کر دی۔ صدر جنرل ایوب اور جنرل یحییٰ خان کے سیاسی ہتھکنڈوں کو ناکام بنانے والی کامیابیوں کے خلاف ذوالفقار علی بھٹو نے قومی سطح پر تمام منفی سیاسی قوتوں اور تحریک پاکستان کے مخالفین کے خلاف بھی مسلسل اور متواتر کامیابیاں حاصل کیں مگر جب انہوں نے اچھرہ لاہور سے مولوی کوثر نیازی کے ذریعے موصول ہونے والی کسی چودھری چوچک اور چاچا کیدو جیسی کوئی دعوت قبول کرتے ہوئے اچھرہ جانے اور ایک خاص ملاقات پر آمادگی ظاہر کی تو تارا مسیح نے منیلا کارڈ سے پھانسی کا پھندا تیار کرنا شروع کر دیا تھا۔
زیادہ باتیں نہیں کروں گا، بہت اچھی اچھی فکر افروز باتیں کی جا چکی ہیں گزارش صرف اتنی کروں گا کہ جب تک ہم کتاب عشق کا اگلا ورقہ نہیں پلٹیں گے The Other Pageنہیں کھولیں گے تحریک پاکستان کے ساحل مراد پر نہیں اتریں گے
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=449516
Recent Comments