مناواں لاہور میں پولیس کے ٹریننگ سکول پر حملے کے حوالے سے ایک پولیس افسر نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹی وی چینلز کو ایسے سانحوں کی ویڈیو کوریج میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔اسی ایک بات پر الیکڑونک میڈیا کے بہت سے یار لوگ سخت جزبز ہوئے ان کا کچھ اس قسم کا خیال تھا کہ یہ بھی ’’آزادی میڈیا‘‘ کے برعکس بات ہے کیونکہ اس شعبے سے تعلق رکھنے والے تو اپنے فرائض سے پوری طرح واقف ہیں انہیں کوئی کیوں سمجھائے بات صرف اتنی تھی کہ اس ’’لائیو کوریج‘‘ میں احتیاط سے کام لینے کا مشورہ تھا جس میں دہشت گردوں یا دشمنوں پر قابو پانے کیلئے جان ہتھیلی پر رکھ کر کسی عمارت کے اندر جانے والے جوانوں یا کمانڈوز کو لائیو کوریج میں ٹیلی ویژن سکرین پر دکھایا جاتا ہے ظاہر ہے کہ سکرین پر ایسے مناظردیکھنے والوں میں ایسے ملک دشمن بھی ہوسکتے ہیں جو موقع واردات سے دور موبائل قوتوں سے دہشت گردوں کو ہدایات دے رہے ہوں یا انہیں باخبر رکھنے کیلئے حقیقت حال سے آگاہ کررہے ہوں جس سے دہشت گردوں یا حملہ آوروں پر قابو پانے کی راہ میں رکاوٹ یا مشکل پیش آسکتی ہو۔مقصد یہ کہ ملزموں پر اس منصوبے کا راز کسی بھی طریقے سے ظاہر نہیں ہونا چاہیے جو انہیں قابو کرنے کیلئے مرتب کرکے اس پر عمل درآمد کیا جارہا ہو۔بہرحال لائیو کوریج کے حوالے سے پولیس کے ایک ذمہ دار آفیسر کا جو مشورہ تھا وہ اپنی جگہ درست تھا یا نہیں اس کا فیصلہ کرنا اس کے بعد ان کے کھلاڑیوں کا کام ہے۔ایسے بڑے بڑے اہل دانش پولیس ٹریننگ سکول پر حملے کے دوران اپنے اپنے ٹی وی چینل کو جو سٹکر فراہم کرتے رہے یعنی لمحہ لمحہ ان کی جو خبریں چینلوں پر سٹکر بن کر ناظرین کیلئے باعث غم و تشویش بنتی رہیں وہ گویا الیکڑانک میڈیا کے فیلڈ سٹاف کے مابین مقابلے کی ایک دوڑ کی طرح تھی۔سٹکر مختلف ٹیلی ویژن چینلوں پر کچھ اس طرح چلتے رہے کہ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی یا بڑھائی جاتی رہی اور پھر ٹیلی ویژن سکرین پر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 22 تک پہنچا دی گئی۔اس تعداد کا سٹکر ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر مسلسل چلتا رہا۔ اس کے ساتھ فیلڈ سٹاف کے بعض ذمہ دار افسروں کے ساتھ گفتگو بھی واہ کیا گفتگو تھی اور کیسے سوالات پوچھے جارہے تھے۔دہشت گردوں کی طرف سے فائرنگ جاری تھی سوال پوچھا گیا۔
سوال :۔آپ بتا سکتے ہیں اس وقت اندر کیا ہورہا ہے؟
جواب:۔ابھی دہشت گرد اندر ہیں ان تک پہنچنے کی کوشش جاری ہے ۔
پھر سوال:۔اب تک کتنے لوگ شہید ہوچکے ہیں؟
خیال رہے کہ ابھی سکول کی پریڈ گراؤنڈ میں بھی لوگ اوندھے منہ لیٹے یا گھر سے ٹیلی ویژن کی سکرین پر دکھائے جارہے تھے اور عمارت کے اندر اور باہر دہشت گردوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والوں کی گنتی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک سکول کی عمارت سے دہشت گرد پکڑے نہ جائیں یا خود کو بارود سے اڑا نہ دیں اس پس منظر میں آفیسر کا جواب صحیح تھا کہ ابھی آپریشن جاری ہے جاں بحق ہونے والوں کی صحیح تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ایک اور سوال لڑھکایا گیا۔آپ کے خیال میں زخمیوں کی تعداد کتنی ہوگی؟
جاری آپریشن میں اس سوال کا جواب بھی پہلے جواب سے مختلف نہیں ہوسکتا تھا۔جواب دیا گیا ابھی تک آپریشن جاری ہے زخمیوں کے بارے میں بھی کچھ نہیں کیا جاسکتا۔واہ کیا اگلا سوال تھا۔یہ آپریشن کب تک مکمل ہوگا؟
ایسے سبھی سوال و جوابات کا سلسلہ ٹیلی ویژنوں کی سکرین پر لائیو دکھایا جارہا تھا۔آپریشن کب تک مکمل ہوگا؟ظاہر ہے اس سوال پر ناظرین کا حیرت زدہ ہونا کوئی عجیب بات نہ تھی۔اسی طرح ایک اور صاحب لائیو پروگرام دے رہے تھے سوال کیا، ممبئی میں ایک سے زائد جگہ پر دہشت گردی کے واقعات ہوئے تھے اگر یہاں بھی ایسا ہوگیا تو آپ کیا اقدامات کریں گے؟یہ بھی سوال تھا۔اس وقت لاہور میں پولیس کی تعداد کتنی ہے؟یہ سوال سن کر ناظرین میں سے اگر کچھ منچلے یہ الفاظ بے ساختہ طور پر ادا کرگئے ہوں تو کوئی عجب نہیں کہ کیا دہشت گردوں کے علم میں لانا یہ ضروری ہے کہ لاہور میں پولیس کی تعداد کتنی ہے میدان اس روز الیکڑانک میڈیا کے ہاتھ میں رہا۔لائیو کوریج کے ساتھ نامعقول سوالات ناظرین کو سننے کو ملتے رہے۔رہی سہی کسر تجزیہ کاروں نے پوری کردی آپریشن کے دوران ہی بزعم خود دانش ور حضرات سر چوڑے بیٹھے تھے بلکہ بٹھائے گئے کہ ان واقعات کا تدراک کیسے ہوگا؟ اپنی اپنی بولیاں بولی جارہی تھیں آپریشن جاری ہے سیاست کی دوسری صفوں کے کھلاڑیوں کی خبر بیانات ٹیلی ویژن سکرینوں پر سٹکروں کی صورت میں دیکھے جارہے ہیں کہ اس سانحہ پر فلاں فلاں کو مستعفیٰ ہوجانا چاہیے قوم پر ایک طرح کا کڑا سا وقت ہے مگر مطالبے خلاء پیدا کرنے والے کون استعفےٰ دے؟ کس کی تقلید کرے؟ ملکی سیاست میں ایسی روایت کب قائم ہوئی؟اچھی روایت سہی مگر کوئی بارش کا پہلا قطرہ تو بنے۔
30 مارچ کا پورا دن ٹیلی ویژن سکرینوں پر پاکستان کے عوام کوبوالعجبیاں دیکھنے کو ملیں۔پولیس ٹریننگ سکول میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں سبھی ٹیلی ویژنوں پر چلنے والے ٹکر غلط ثابت ہوئے 22 نہیں آٹھ اہلکار شہید اور 131 زخمی ہوئے تھے ٹھیک ہی کہا گیا تھا کہ ایسے واقعات کی لائیو کوریج میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔
Recent Comments