چوراہا ۔۔۔۔۔ حسن نثار

جوکروں، جونکوں، جعلی ڈگریوں اور جرائم پیشہ جمہوریوں پر مشتمل یہ نام نہاد جمہوریت اس بار گئی تو اتنی گہری دفن ہوگی کہ دیرتک اس کی مکرو ہ اور داغدار شکل دکھائی نہ دے گی۔
حیرت ہے ان لوگوں پرجنہیں اس بے چین، بے سکون اوربے قرار ملک میں میڈیا کے خلاف قراردادیں سوجھ رہی ہیں۔ عوام کے گرد موت اور مہنگائی کا رقص جاری ہے، بزرگوں کے دربار تک محفوظ نہیں، روپیہ جون جولائی میں تپتی ریت پر پڑے برف کے بلاک کی طرح پگھل رہا ہے، صنعتیں بند پڑی ہیں، بیروزگاری کا طاعون پھیلا ہوا ہے، انرجی کرائسز اپنے عروج پر ہے اور دور دور تک اس کا کوئی حل دکھائی نہیں دے رہا، لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں، جرائم میں ریکارڈ توڑ اضافہ ہو رہا ہے اور یہ کیا کر رہے ہیں؟ کن کامو ںمیں مصروف ہیں؟
متفق ہوئے بھی توکس بات پر، روئے پیٹے اور چیخے چلائے بھی تو کس نکتے پر اور متفقہ قرارداد بھی منظور کی تو کس معاملہ پر؟ اس میڈیا کے خلاف جو دراصل ان کا ضمیر ہے، ان کی حقیقی تصویر ہے۔ قرارداد منظورکرنی ہی تھی تودہشت گردی اور مہنگائی کے خلاف کرتے، ماتم کرنا تھا تو ان اندھیروں کاکرتے جو پورے ملک اور اس کی معیشت پرچھائے ہوئے ہیں لیکن نہیں یہ توطبقہ ہی اور ہے جس کی ترجیحات کا عوام اور ان کے مسائل کے ساتھ تعلق ہی نہیں
اور نہ ہی حقیقی ایشیوز کاکوئی شعور ان کے قریب سے گزرا ہے۔ آمریتوں کے تلوے چاٹنے والے… ڈھٹائی سے وفاداریاں تبدیل کرنے والے… سیاست کو صنعت و حرفت و تجارت سمجھنے والے اس قبیلے اور کلاس کو اتنا سا فہم بھی نہیں کہ جس میڈیا کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کر رہے ہیں، وہی ان کی آخری پناہ گاہ ہے اور دونو ں دریا کے ان دو کنارو ںکی مانند ہیں جو بھلے آپس میں کبھی نہ ملیں لیکن انہیں ساتھ ساتھ چلنا ہے اور اگر ذرا گہرائی میں جا کردیکھیں تو میڈیاکے خلاف منظور کی جانے والی یہ قرارداد دراصل خود ان کے اپنے خلاف جاتی ہے لیکن اگر انہیں ان باتوں کا ادراک ہوتا تو ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک ان کے ساتھ وہ کچھ کبھی نہ ہوتا جو ماضی میں ہوتا رہا اور مستقبل میں ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر اس قدر توہین، تذلیل، بے آبروئی اور دھکے بھی ان لوگوں کو ’’بالغ‘‘ نہ کرسکے توچند کالموں کی کیا اوقات؟
شاید اب بھی کچھ وقت، کچھ مہلت باقی ہو توہوش، اعتدال اور توازن سے کام لیں اور اپنے ریت کے پیروں پر مزید کلہاڑیاں نہ چلائیں کہ سیاست تو نام ہی سچوئیشنزاور ہیومن میٹریل کی اعلیٰ ہینڈلنگ کا ہے او ریہ لوگ سچوئیشن کو گالیاں اور دھمکیوں سے ہینڈل کرنا چاہتے ہیں۔ ساری تاریخ گواہ ہے کہ میڈیا کے خلاف کوئی جنگ کسی مائی کے لعل نے نہ پہلے جیتی نہ کوئی آئندہ جیت سکے گا یہ ایک ایسی لڑائی ہے جو آپ شروع کرنے سے پہلے ہی ہارگئے ہوتے ہیں۔ اس لئے میرا مخلصانہ مشورہ ہوگا کہ خود اپنے ساتھ دشمنی کے اس رویئے پر نظرثانی کریں توآپ کے لئے بھی بہتر ہوگا اور اس نام نہادجمہوریت کے لئے بھی… نوشتہ ٔ دیوار خود نہیں پڑھ سکتے تو کسی پڑھے لکھے سے پڑھوالیں۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=449515

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha