صبح بخیر-ڈاکٹر صفدر محمود
جس طرح پھولوں کی خوشبو ہوتی ہے اسی طرح انسانوں کی بھی خوشبو ہوتی ہے جس طرح ہر پھول کی اپنی اپنی خوشبو ہوتی ہے اور ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے اسی طرح انسانوں کی بھی اپنی اپنی خوشبو ہوتی ہے اور وہ ایک دوسرے سے مختلف اور الگ الگ ہوتی ہے جس طرح بعض پھولوں کی خوشبو تیز اور بعض کی بھینی بھینی ہوتی ہے اسی طرح بعض انسانوں کی خوشبو تیز اور بعض کی مدھم مدھم ہوتی ہے جس طرح بعض پھول ’’بے خوشبو‘‘ محض دکھاوے کے پھول ہوتے ہیں اسی طرح انسانوں کی اکثریت بے خوشبو ہوتی ہے۔ جس طرح بعض جنگلی پھولوں کی بدبو پاس سے گزرنے والوں کی طبیعت مکدر کر دیتی ہے اور وہ جلد از جلد اس بدبو سے دور ہو جانا چاہتے ہیں اسی طرح بعض انسانوں کی بدبو بھی دوسروں کی طبیعت کو مکدر کر دیتی ہے اور وہ ایسے شخص سے دوری مانگتے اور چاہتے ہیں۔ جس طرح بدبودار پودوں اور پھولوں کی خوشبو اپنے جیسوں کو مکدر یا متاثر نہیں کرتی اور ایسے بدبو دار پودے ایک ہی مقام پر اکٹھے پائے جاتے ہیں اسی طرح وہ انسانی اجسام جو بو دیتے اور بو پھیلاتے ہیں عام طور پر اپنے ہی جیسوں میں رہتے ہیں جنہیں نہ ان سے بدبو آتی ہے اور نہ ان کی طبیعت مکدر ہوتی ہے لیکن وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے انسانی خوشبو سونگھنے کی صلاحیت بخشی ہوتی ہے صرف وہی لوگ بدبو دار جسموں کی بو محسوس کرتے اور سونگھ سکتے ہیں۔
یہاں تک لکھ چکا ہوں تو یہ وضاحت کرنے کو جی چاہتا ہے کہ میرا اشارہ ہرگز اس خوشبو کی جانب نہیں جسے لوگ مہنگے داموں خرید کر اپنے کپڑوں پر انڈیل لیتے ہیں یا لگا لیتے ہیں تاکہ وہ جس محفل میں جائیں اسے معطر کر دیں جس طرح بعض مولوی حضرات اپنی قمیص، جبے اور عمامے کے علاوہ اپنی ریش مبارک پر بھی اس قدر تیز خوشبو لگا لیتے ہیں کہ سارا محلہ، ساری گلی ان کی خوشبو سونگھنے لگتی ہے جس طرح بعض خواتین گرمیوں کے موسم میں اپنے پسینے کی بدبو کو چھپانے کے لئے قیمتی خوشبویں لگا کر گھر سے باہر نکلتی ہیں اور خوشبو سونگھنے والوں کی نگاہوں کا مرکز بن جاتی ہیں دراصل یہ ساری خوشبویں جو لوگ اپنی اپنی جیب کی وسعت اور امارت کے مطابق لگاتے ہیں خارجی خوشبویں کہلاتی ہیں جبکہ میں باطنی خوشبو کی بات کر رہا ہوں۔ اکثر اوقات خارجی خوشبو باطنی خوشبو کو دبا دیتی ہے اور بعض اوقات لوگ اپنی باطنی بدبو کو دبانے کے لئے بھی تیز خوشبویں لگاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے روشن باطن والے معصوم جسم اپنی خوشبو رکھتے ہیں اور وہ خوشبو ان کے پسینے میں بھی موجود ہوتی ہے لیکن جوں جوں انسان کے باطن میں غرور، کینہ، حسد، جھوٹ، لالچ اور فریب اپنی جگہ بناتا چلا جاتا ہے اس کے باطن کی خوشبو بدبو میں بدلتی چلی جاتی ہے اور جب انسان اپنی خوشبو سے محروم ہو جاتا ہے تو وہ دوسروں کی خوشبو سونگھنے کی صلاحیت بھی کھو بیٹھتا ہے۔ اس صورت میں وہ ان پودوں اور پھولوں کی مانند ہوتا ہے جنہیں ہم بے خوشبو پھول کہتے ہیں۔ بعض دکھاوے کے پھول… اسی طرح جوں جوں انسان کے اندر دنیا گھستی چلی جاتی ہے، وہ سگ دنیا بنتا چلا جاتا ہے اور جوں جوں غرور، حرص و لالچ، جھوٹ و فریب اس پر غالب آتے چلے جاتے ہیں توں توں اور اسی رفتار اور اسی مقدار سے وہ بدبو دار پودوں کی مانند بدبو پیدا کرنے لگتا ہے جو ایسے لوگ نہ سونگھ سکتے ہیں اور نہ محسوس کر سکتے ہیں جن کا تعلق خود اسی قسم اور نوع سے ہوتا ہے لیکن ان حضرات کا ایسی محفل میں دم گھٹتا ہے جن کے اندر چنبے یا گلاب یا موتیے کے پھول مہک رہے ہوتے ہیں۔
صوفی شاعر میاں محمد صاحب نے اسی لئے فرمایا تھا کہ ؎
قدر پھلاں دی بلبل جانے، صاف دماغاں والی
قدر پھلاں دی گرجھ کی جانے، مردے کھاون والی
(ترجمہ:۔ پھولوں کی قدر صرف بلبل جانتی ہے جس کا دماغ صاف ہوتا ہے، پھولوں کی قدر گدھ نہیں جان سکتی جو مردار کھاتی ہے۔ )بالکل اسی طرح بعض انسان بلبل اور بعض گدھ کی مانند ہوتے ہیں کیونکہ انسان ظاہر کا نام نہیں، انسان باطن، خصلت اور کردار و عادات کا نام ہوتا ہے۔ انسان وہ نہیں جو نظر آتا ہے اصل انسان وہ ہوتا ہے جو اس کے اندر بستا ہے۔ دیکھنے میں لوگ نہایت خوش لباس، سجے سجائے اور بنے سنورے ہوتے ہیں لیکن برتنے میں جھوٹے، دغا باز، رشوت خور بلکہ حرام خور، مغرور، ڈنگ مارنے والے اور اس قدر حریص ہوتے ہیں کہ دوسروں کو اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ اسی لئے انگریزی میں ایک مقولہ مشہور ہے کہ ظاہر پہ نہ جائو، ظاہر عام طور پر نظر کا دھوکہ ہوتا ہے۔ چنانچہ میرا مشاہدہ اور تجربہ یہ ہے کہ بعض لوگوں سے ملاقات انسان کی خوش قسمتی اور بعض سے ملاقات بدقسمتی ہوتی ہے اور انسان سوچتا رہ جاتا ہے کہ اے کاش میرا ان سے تعارف نہ ہوتا کیونکہ ان کے شر سے وہ لوگ محفوظ رہتے ہیں جن کا ان سے پالا نہیں پڑتا۔ 1980ء کی دہائی میں مجھے ایک ایسے شخص سے ملنے کا اتفاق ہوا جو جب درود شریف پڑھتا تو اسے خوشبو آنے لگتی تھی اور جب وہ درود شریف پڑھتے پڑھتے اپنے آپ میں کھو جاتا تو اس کی محفل میں موجود لوگوں کو بھی ہلکی ہلکی خوشبو آنے لگتی لیکن یہ خوشبو تمام حضرات کو نہیں آتی تھی… کچھ کو آتی، کچھ کو نہ آتی، بلبل کو آتی، گدھ کو نہ آتی۔ البتہ انسانوں کی وہ قسم عظیم ترین اور اعلیٰ ترین ہوتی ہے جن کے اندر بقول حضرت سلطان باہو الف اللہ چنبے کی بوٹی ہمہ وقت مہکتی رہتی ہے۔ یہ اولیاء اللہ اور صاحبان باطن ہوتے ہیں جو اللہ کی مخلوق … ہر قسم کی مخلوق سے پیار کرتے ہیں، جن کے دروازے ہر خاص و عام، معصوم و گناہگار و بدکار، مسلمان غیر مسلمان، امیر و غریب ہر قسم کے لوگوں کے لئے ہر وقت کھلے رہتے ہیں۔ ان کے بھی اپنے اپنے مقام اور اپنی اپنی قسمیں ہوتی ہیں، کچھ مخلوق کو گلے لگاتے اور کچھ مخلوق سے دور بھاگتے اور انسانوں کو دور بھگاتے ہیں۔ اس موضوع پر پھر کبھی انشاء اللہ
ذاتی نوٹ:۔ ان گنت پاکستانی گھروں سے غائب ہیں اور ایک بڑی تعداد ایجنسیوں کی تحویل میں ہے۔ ہر صاحب اولاد شخص ایسے خاندانوں کا دکھ اور درد محسوس کرتا ہے لیکن بے بسی کے سبب عملی طور پر کچھ نہیں کر سکتا سوائے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لیکن بعض معاملات میں عدالتیں بھی بے بس نظر آتی ہیں۔ چنانچہ اس طرح کی صورتحال میں انسان اپنے رب کی عدالت کی چوکھٹ پر سر ٹکراتا رہتا ہے اور اپنے رب کو پکارتا رہتا ہے یہ آہ و زاریاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ محترم شکیل احمد ترابی صاحب کے ساتھ درپیش ہے جن کا سترہ سالہ لخت جگر حسن شرجیل ایجنسیوں کی تحویل میں ہے۔ اللہ تعالیٰ حکمرانوں کے دلوں میں رحم کا جذبہ پیدا کرے اور آرمی چیف کو توفیق دے کہ وہ ایسے خاندانوں کی دعائیں لیں۔ دعائیں ہی زندگی کا قیمتی ترین اثاثہ ہوتی ہیں، مجھے یقین ہے کہ آرمی چیف اس انسانی دکھ کا مداوہ کر کے متاثرہ خاندانوں اور خاص طور پر شکیل احمد ترابی کی دعائیں لیں گے
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=448825
Recent Comments