روزن دیوارسے……..عطا ء الحق قاسمی

حضرت داتاگنج بخشؒ کے مزار پر انوار پر حملے کو کئی دن گزر چکے ہیں مگر اس کا زخم دنوں میں مندمل ہونے والا نہیں اور یہ وہ صدمہ نہیں جو آسانی سے بھلایا جاسکے بلکہ اس کی کسک برسوں محسوس کی جائے گی۔ یہاں برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کے دل بھی اس سانحہ سے زخمی ہیں او ر کوئی محفل ایسی نہیں جہاں اس کی بازگشت نہ سنائی دیتی ہو، لوٹنمیں راجہ نثار، ڈڈلی میں منصور آفاق اور برمنگھم سائوتھ کالج میں عنصر کی طرف سے منعقدہ محفلوں کے اختتام پر بھی یہ دہشت گردی موضوع گفتگو بنی، میں نے اس خیال کااظہار کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی جتنی وارداتیں ہوئی ہیں اگرچہ ان میں اس سے کہیں زیادہ خونریزی ہوئی لیکن داتاصاحبؒ کے مزار میں ہونے والی دہشت گردی اپنے نتائج کے لحاظ سے سب سے خطرناک تھی چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمانوں کے تمام مکاتب ِ فکر سر جوڑ کر بیٹھیں اور کوئی ایسالائحہ عمل مرتب کریں جس سے دشمن وہ نتائج حاصل نہ کرسکے جن نتائج کے حصول کے لئے اس نے یہ اسلام دشمن اور پاکستان دشمن کارروائی کی تھی۔ (میرے ذہن میں جو لائحہ عمل ہے وہ میں کالم کے آخر میں بیان کروں گا)
پاکستان میں کچھ حلقے دہشت گردی کی ان کارروائیوں کاخاتمہ ان بے گناہ پاکستانی شہریوں کی شہادت سے جوڑتے ہیں جو امریکی ڈرون حملوں میں آئے دن شہید ہوتے رہتے ہیں یا وہ اس حوالے سے لال مسجد کا سانحہ درمیان میں لاتے ہیں مگر وہ پاکستانی عوام کو قائل نہیں کرسکے کہ پاکستان کی شہری آبادیوں پر جو حملے یہ دہشت گردکرتے ہیں اور اس میں جو لوگ شہید ہوتے ہیں ان کا ڈرون حملوں یا لال مسجد کے سانحہ سے کیا تعلق ہے؟ اس حوالے سے تو ان کے اپنے جذبات بہت شدید ہیں اور وہ امریکہ اور اس کے ایجنٹ پرویز مشرف کو کبھی معاف نہیں کرسکے لیکن دہشت گرد انہیں بھی بے دردی سے شہید کردیتے ہیں کیااس سے یہ ثابت نہیں ہوتاکہ یہ اسلام دشمن اور پاکستان دشمن لوگ خود امریکہ کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں؟ داتا صاحب ؒکے مزارِ پر انوار پر حملہ کے بعد یہ سوال زیادہ شدت کے ساتھ سامنے لے آیا ہے۔ دہشت گردوں کی صفائیاں پیش کرنے والے یہ طبقے بتائیں کہ داتاصاحبؒ کا ڈرون حملوں یا لال مسجد کے سانحہ سے کیا تعلق ہے؟ عبادت گزاروں پر حملوں کایہ سلسلہ اگرچہ تازہ نہیں لیکن حالیہ سانحہ نے تو پچھلے سارے زخم بھی نئے سرے سے ہرے کردیئے ہیں! میں گزشتہ دو ہفتوں سے یورپ میں ہوں چنانچہ اخبارات کامطالعہ نہیں کرسکاتاہم ایک دوست نے بتایاکہ جماعت اسلامی نے ایک طرف تو داتاصاحبؒ پرحملے کی مذمت میں احتجاجی ریلی نکالی اور دوسری طرف امیر جماعت سید منور حسن سے خودکش حملوں کے بارے میں سوال کیاگیاتوانہوں نے جواب دیا ’’یہ ڈرون حملوں سے کم تر برائی ہے‘‘ میں نہیں جانتا یہ بیان مجھ تک صحیح شکل میں پہنچاہے یا نہیں لیکن اگر یہ روایت صحیح ہے تو اس میں بھی خودکش حملوں کو کھینچ تان کر ڈرون حملوں سے جوڑنے کی کوشش بہرحال کی گئی ہے ۔مجھے سمجھ نہیں آتا کہ سید منور حسن اور ان کے ہم زاد عمران خان دونوں زیرک سیاستدان ہیں مجھے ان کی اسلام اورپاکستان دوستی پر بھی کوئی شبہ نہیں لیکن سمجھ نہیں آتا یہ کس راہ پر چل پڑے ہیں اورکیوں چل پڑے ہیں؟ یہ ڈرون حملوں کی الگ سے اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی الگ سے غیرمشروط مذمت کیوں نہیں کرتے، یہ کیوں ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں کہ دہشت گرد دراصل مجاہدہیں جو امریکہ کے خلاف جنگ میں مشغول ہیں اور ان کی کارروائیوںکو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے بھی وہ انہیں ’’ردعمل‘‘ کا نتیجہ بتاتے ہیں اور یوں بالواسطہ ان کے لئے ’’دلوں میں نرم گوشہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں! میرے نزدیک پاکستان کو درپیش آنے والے سانحوں کی طرح یہ طرز ِفکر بھی ایک سانحہ ہی ہے!
مجھے لگتاہے کہ جو دہشت گرد عام مسلمانوں کو بے دردی سے شہید کر رہے ہیں اور اس پر نادم ہونے کی بجائے وہ خود کو جنت کاحقدار سمجھتے ہیں وہ دراصل آج کے دور کے خارجی ہیں جو اپنے علاوہ باقی سب مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔ ان کی اس سوچ کو ہمارادشمن ایکسپلائٹ کر رہاہے چنانچہ انہیں مالی امداد اوراسلحہ انہی کی طرف سے فراہم کیاجاتاہے۔ کچھ عرصے سے انہوں نے بزرگان دین کے مزاروں پر بھی حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھاہے جس کا کلائمکس حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار پر حملے کی صورت میں سامنے آیا ہے حالانکہ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کسی بھی فرقے سے وابستہ کوئی بھی مسلما ن مزاروں پر سجدہ نہیں کرتااور نہ بزرگان دین سے براہ راست مددمانگتا ہے، یہ سب ایک خداکو ماننے والے ہیں اور اسی سے مدد کے طالب ہوتے ہیں لیکن ان کے نزدیک مزاروں سے ملحقہ مساجد میں نمازیں اورتہجد اداکرنے والے بھی مشرک ہیں چنانچہ وہ ’’جنت کمانے کے لئے‘‘ان مقدس مقامات پر حملہ آور ہوتے ہیں، اب سوال پیداہوتاہے کہ ان کے دلوں میں نفرت کے یہ بیج بونے والے کون ہیں؟ کہا جاتاہے کہ کسی بھی دینی مدرسے میں دہشت گردی کی تربیت نہیں دی جاتی نیز یہ کہ ان مدرسوں کا کوئی طالب علم دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث نہیں۔ میں نہیں جانتا اس دعوے میں کتنی حقیقت ہے لیکن اس حقیقت سے بھی بہرحال انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ذہنوں میں یہ نفرت انگیز سوچ بہرحال مذہبی پیشوائوں ہی کی بوئی ہوئی ہے جس کی فصل آج پوری قوم کو کاٹنا پڑ رہی ہے چنانچہ اس سوچ کاقلع قمع کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مسجدوں اور امام بارگاہوں میں متنازع مسائل پر تقریروں پر پابندی عائد کی جائے، دنیاکے 95فیصد اسلامی ممالک میں جمعہ کے خطبے کے موضوعات دیئے جاتے ہیں چنانچہ علمائے کرام ان اجتماعات میں جھوٹ، غیبت، رشوت، ملاوٹ اور دوسری معاشرتی برائیوں کے خلاف اظہار ِخیال کرتے ہیں یا اسلام کے بنیادی احکام کو موضوع گفتگو بناتے ہیں۔ مجھے لگتاہے جو فرقہ پرستی کا کینسر ہمارے معاشرے کے رگ و پے میں سرایت کر چکاہے اسے کاٹ پھینکنے کے لئے یہ ’’سرجری‘‘ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مجھے علم ہے کہ اس رستے میں شدید رکاوٹیں آئیں گی لیکن اب ہم نے طے کرنا ہے کہ ہم نے پاکستان کو بچانا ہے یا اسے 2010 کے ان خارجیوں کے ہاتھ میں یرغمال بنائے رکھناہے جو اپنے علاوہ سب کو کافر سمجھتے ہیں

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=448820

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha