چوراہا ۔۔۔ حسن نثار
وزیراعظم تو باقاعدہ دھمکیوں اور وارننگز پر اتر آئے ہیں کہ بقول ان کے… ’’جمہوریت نہ رہی تو عدلیہ اور میڈیا بھی نہیں رہیں ۔گے‘‘ وزیراعظم کی یادداشت کمزور نہ ہو تو انہیں پوری طرح یاد ہونا چاہئے کہ موجودہ الیکٹرانک میڈیا تو دراصل پیداوار ہی ’’آمریت‘‘ کی ہے، یہ کسی جمہوریئے کا نہیں پرویز مشرف کا تحفہ ہے جس کے بارے میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر اس جنرل صدر مملکت کی جگہ کوئی نام نہاد منتخب عوامی نمائندہ اس منصب پر موجود ہوتا تو اتنا بے لگام، بدتمیز اور منہ پھٹ میڈیا معرض وجود میں لانے کا مشورہ دینے والے کو چمٹی سے پکڑ کر کسی کوڑے دان بلکہ گٹر میں پھینک دیتا۔ یہ ایک ’’ڈکٹیٹر‘‘ کا ہی حوصلہ تھا کہ اس نے اپنے تمام ساتھیوں، مشیروں اور درباریوں کی شدید ترین مخالفت کے باوجود اس ملک کے عوام پر چینلز کی برسات کرکے ان پر معلومات واطلاعات و خبروں کے خزانے کھول دیئے۔ میں اپنے 35 سالہ صحافتی تجربے کی بنیاد پر پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں اور کہہ رہا ہوں کہ ان نام نہاد جمہوریئے حکمرانوں میں سے کوئی ایک بھی اس ملک کے عوام کو اتنا زبردست تحفہ دینے کا سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ جب میں کچھ لوگوں کو ضرورت سے زیادہ منہ پھاڑ پھاڑ کر پرویز مشرف کی کردار کشی کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو غصہ بھی آتا ہے اور شرم بھی کہ انہیں چینلز کے کوٹھے پر چڑھ کر یہ ’’تنقیدی نخرے‘‘ دکھاتے ہوئے اس خوبصورت حقیقت کا خیال کیوں نہیں آتا کہ جس شخص کو برا بھلا کہہ رہے ہیں یہ سب کچھ اسی کی عطا ہے جس کی انتہا یہ کہ جب پرویز مشرف کو اس ’’حرکت‘‘ سے روکنے کے لئے دلیلیں دی جارہی تھیں تو اس نے بڑے حوصلے سے کہا کہ اگر میری حکومت بھی آزاد میڈیا کی وجہ سے جاتی ہے تو جائے، میں وسیع تر الیکٹرانک میڈیا کو میدان میں ضرور اتاروں گا۔پھر اسی میڈیا نے جنرل صاحب کو ڈنگ بھی مارے اور وہ شخص جزبز بھی ہوا لیکن پاکستان کی تاریخ میں کوئی حکمران اس جنرل سے زیادہ میڈیا فرینڈلی نہیں تھا اور نہ ہی شاید ہوگا سو وزیراعظم فالتو میں میڈیا کو ڈرانا بند کریں کیونکہ حقائق کچھ اور ہیں اور یوں بھی جعلی ڈگریوں والی جمہوریت اپنی حفاظت کرسکے نہ کرسکے میڈیا کو اپنی بقا کی جنگ لڑنی آتی ہے اور جہاں تک تعلق ہے اس بات کا کہ جمہوریت نہ رہی تو عدلیہ بھی نہ رہے گی تو یہ بھی بے بنیاد ہے کہ عدلیہ نے بھی اپنی آزادی کی ’’جنگ ِ عظیم‘‘ پرویز مشرف کے دور میں ہی شروع کی اور عوام کی مدد سے اسے عروج پر لے گئی۔
اصل بات ہے جینوئن ہونے اور ڈلیور کرنے کی۔ میڈیا اور عدلیہ جینوئن بھی ہیں او رڈلیور بھی کر رہے ہیں۔ خطرہ ہوسکتا ہے کہ تو ان کو جو جعل ساز ہیں اور بہرئوپئے بھی۔ خطرہ ہے تو ’’دو نمبر‘‘ کو یا نالائقوں کو… وزیراعظم صاحب اپنی چہیتی اور لاڈلی جمہوریت کی فکر کریں۔ میڈیا اور عدلیہ اپنا اچھا برا خود یکھ لے گی۔ ممکن ہو تو اپنی اس جعلساز جمہوریت کو ’’جینوئن‘‘ بنانے کے ساتھ ساتھ اس پر توجہ دیں کہ یہ سفاک اور ناپاک عوام کو خودکشیوں کے علاوہ بھی کچھ دے سکے کہ عوام جمہوریت تو کیا اس کے نام سے بھی متنفر ہو رہے ہیں کہ دراصل وہ پہلے بھی کبھی اس کے حق میں نہ تھے کیونکہ پاکستان میں سب کو ملنے والا ٹوٹل ووٹ… کل رجسٹرڈ ووٹوں کا تقریباً 40 فیصد ہوتا ہے یعنی جسے جمہوریت کہا جاتا ہے وہ جمہوریت کی ’’جیم‘‘ بھی نہیں ہوتی سو بھائی! اپنی فکر کرو کہ عوام مخدوموں اور خادموں کے درمیان پستے پستے تنگ آچکے ہیں اور ان سے فوری نجات چاہتے ہیں۔
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=447441
Recent Comments