افغانستان کتنا پیارا،کتنا نیارا ،کتنا راج دلارا ملک تھا اورپھراسے نظر لگ گئی جس نے ڈالی بری نظر ڈالی۔ پہلی بری نظر سوویت یونین نے ڈالی۔ پھر افغانوں نے خود ہی ڈالی اورپاکستان نے بھی اسے اپنے مفادات کی خاطر،ایک مونچھوںوالے آمر کی آمریت کی خاطر ڈالی۔ سب لوگوں نے جھولیاں بھریں جن میں سی آئی اے کے عطاکردہ ڈالروں کے ڈھیرتھے اور پھر رہی سہی کسر طالبان نے نکال دی سب کچھ برباد ہوگیا تو افغانستان کے کھنڈروں میں جمہوریت اورآزادی کی زہریلی بین بجانے کے امریکی سپیرے آگئے۔
اس ملک کے زمینی مناظر نے آپ کومتاثر کیاتو میںہمیشہ کہتاہوں کہ یہ افغانستان کی وسیع تیز ہواؤں میں شوکتی ویرانیاںاور بلندیاں ہیں جومیرے دل پراثرانداز ہوتی ہیں۔ کابل سے قندھار جاتے ہوئے ایک بار ہماری بس کاٹائرپنکچر ہوگیا چونکہ فالتو ٹائر کی سہولت حاصل نہ تھی اس لیے ڈرائیور صاحب نے مسافروں کوایک ویرانے میںچھوڑ کرایک اوربس پرسوارہوکر جانے کون سے قصبے کوکوچ کرگئے جہاں سے ٹائرکوپنکچر لگوایا جاسکتا تھا۔ میں سڑک سے اتر کرایک نیم صحرائی سرزمین پرچلتا ان پہاڑوں کی قربت میں چلاگیا جن کی عظمت میںایک آبائی دہشت تھی یوں تن تنہا اس ویرانے میں بیٹھے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ کائنات ابھی ابھی تخلیق ہوئی ہے اور کن فیکون کی گونج ابھی ہواؤں میں ہے۔ ان زمانوں کاکابل ایک سحرانگیز شہرتھا۔ یورپ سے جوہپی ٹریل شروع ہوکرنیپال تک جاتاتھا اس کے راستے میںہرات، قندھار اورکابل جیسے شہر آتے تھے اورغیرملکی سیاحوں کے ہجوم ان قدیم شہروں کے کوچہ وبازار میں آزادی سے گھومتے تھے افغان ان غیرملکیوں کی بے حد قدرکرتے تھے ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے تھے کہ یہ ہمارے مہمان ہیںکابل کابازارمرغ جسے عرف عام میںچکن مارکیٹ کہاجاتاتھا کھٹمنڈو کے بازار تھمل کی مانند سیاحوں کاپسندیدہ بسیراتھا وہاں ہپی لڑکیاں مختصر لباسوں میںبے دریغ گھومتی تھیں چائے خانوںاورافغانی نوادارت کی دکانوںسے یہ بازار مرغ بھرا پڑاتھا۔


ان دنوں لاہوریوں کیلئے کابل جانا ایک فیشن تھا لاہور سٹیشن سے خیبرمیل آٹھ بجے شب چلتی تھی تقریباً چھ بجے پشاور پہنچتی تھی سٹیشن سے ٹانگے پرسوار ہوکربس سٹیشن پرپہنچے جہاں کابل کیلئے پہلی بس آٹھ بجے کے قریب روانہ ہوتی تھی۔ طورخم اور جلال آباد کے راستے آپ چاربجے کے قریب کابل پہنچتے تھے اورآپ کیسے سحرانگیز شہر میںہوتے تھے جس کی خنکی سے لبریز ہواشفاف اورکھنکتی ہوتی تھی ،بدن میںاترتی تھی تو کسی سمفنی کی مانندگونجنے لگتی تھی کوہ ہندوکش کی بلندیوں پر برفیں براہ راست آپ کوتازگی کے بوسے روانہ کرتی تھیں ۔قدیم چائے خانوں کے دھواں آلود ماحول میں لمبے چوغے پہنے پگڑیوںوالے بزرگ آپ کواپنے برابر میں جگہ دے کربدخشاں کی جھیلوںسے منسلک عجیب وغریب داستانیںسناتے تھے لاہور سے جانے والے اکثر حضرات انڈین فلموں کے چاؤ میں وہاں جاتے تھے کہ ابھی وی سی آر وغیرہ ایجاد نہیں ہوئے تھے پاکستانی فلم پروڈیوسر اپنے’’کہانی نویس‘‘ ساتھ لے جاتے تھے جوسینماہال کی تاریکی میں انڈین فلم کی کہانی اورڈائیلاگ وغیرہ نقل کرتے تھے اور پھر لاہور میں اس فلم کاچربہ تیارکرکے دولت کمائی جاتی تھی یہ صرف افغان عوام تھے جن کے دل میں ہم پاکستانیوں کیلئے نرم گوشہ تھا ورنہ وہاں جوبھی حکومت ہوتی پاکستان کی جانی دشمن ہوتی۔ یہاں تک کہ پاکستانی صرف چندایک تھرڈکلاس ہوٹلوں کے سواکہیںاورقیام نہ کرسکتے تھے تاکہ ان پرکڑی نظر رکھی جاسکے البتہ انڈین حضرات کھلے عام پھرتے تھے ایک ایسی ہی ہوٹل میں جودریا کے پار تھا مجھے ایک ایساکمرہ نصف کرائے میں پیش کیاگیا جس میںایک جرمن ٹورسٹ کی لاش پڑی تھی ہوٹل کامالک اس کافرکے بچے سے سخت خفاتھا جواس کے کمرے میں مرگیاتھا‘‘ تم دوسرے بستر پرسوجانا ایک لاش نے تم سے کیاکہناہے اورکرایہ بھی آدھا‘‘
ان دنوں کابل کی خواتین زیادہ تر سکرٹ پہنتی تھیں اورکھلے عام پھرتی تھیں۔گرلزسکولوں میں جویونیفارم تھی اس میں بھی سکرٹ شامل تھادوردراز کے دیہات سے جولوگ پہلی بار کابل آتے انہیںشدید صدمہ ہوتا۔ چنانچہ چند مولوی حضرات نے یونیفارم میںملبوس سکول کی چند چھوٹی چھوٹی لڑکیوںپرتیزاب پھینک دیا جس سے ایک لڑکی جل کرمرگئی اوربقیہ بچیوں کی ٹانگیں ناکارہ ہوگئیں۔تیزاب پھینکنے والوں کوایک ہفتے کے اندر اندر سرعام پھانسی پرچڑھادیاگیا۔
کابل سے پانچ چھ گھنٹوں کی مسافت پروادی بامیان تھی جس کی آب وہوا اورخوبصورتی بے مثل تھی۔ وہاں بندامیرنامی جھیلیں ایسی تھیں کہ ویرانوں میںوہ نیلاہٹ کے جزیرے دکھائی دیتی تھیں بہت سارے سیاح ادھر کارخ کرتے اور ان کے کناروں پرخیمہ زن ہوکران کے شیشہ پانیوں میںڈبکیاں لگاتے اور پھروہاںوہ دنیا کے سب سے بلنداورپرشکوہ بدھ مجسمے تھے میںہربار بامیان جانے کاارادہ کرتا لیکن ہمیشہ سوچتا کہ یورپ سے واپسی پرچلاجاؤںگا اورمیں نہ جاسکا اوروہ چلے گئے کبھی مجسموں پربھی ایئرفورس سے حملہ کیاجاتاہے مجھے بے حد قلق ہے کہ میں بامیان کے مجسموں کی دید سے محروم رہ گیا۔ مجھے یہاں قندھار کی وہ شب بھی یاد آتی ہے جب پاکستانی کونسل خانے میںچائے پینے کی پاداش میںافغان سی آئی ڈی کے ایک جاسوس صوفی صاحب میراپیچھا کرنے لگے تھے اورپھرنصف شب ایک نوجوان اہلکار شاید مجھے گرفتارکرنے کیلئے میرے ہوٹل کے کمرے میںداخل ہوگیاتھا میں نے اسے یقین دلایاکہ میںپاکستانی جاسوس نہیںہوں محض ایک ادیب ہوں اوریہ میری خوش قسمتی تھی کہ وہ بھی فارسی میں افسانے لکھتا تھا اورپھرہم تمام شب باتیں کرتے رہے تھے۔
لیکن افغانستان کاسب سے پرفسوں شہر ہرات ہے، جسے سکندراعظم نے آبادکیاتھا تیموری عہدکانیلگوں عمارتوںوالا شہر جہاں بہزاد ایسے عظیم مصور نے جنم لیاتھا۔ بے مثال کاریگروں، مصوروںاورشاعروں کاشہر،جہاں سے میں نے ایک ایسی پوستین خریدی تھی جس کی خوشبوسونگھ کرایک اندلسی بکری اس پرعاشق ہوگئی تھی افغانستان کتناپیارا،کتنا نیارا،کتنا راج دلاراملک تھا اورپھراسے نظر لگ گئی۔ میں نے آج افغانستان کوبے وجہ یادنہیں کیاان دنوں میرادل دھڑکتا رہتا ہے میرے پاکستان کوبھی نظر لگ گئی ہے۔ یہ بھی کیساپیارا،کتنا نیارا ،کتنا راج دلارا ملک ہے میں بجھابجھاسا رہتا ہوں کہیں ایسانہ ہو کہ مستقبل قریب میں کوئی مجھ سا شخص ایک کالم کاآغاز کرے کہ پاکستان کتنا پیارا،کتنا نیارا ،کتناراج دلارا ملک تھا۔

Source: Daily Jinnah

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks
  • Add to favorites
  • email

Related posts:

  1. آؤ مدینے چلیں ۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ
  2. دریا سوکھ رہے ہیں ۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ
  3. ہم سب ڈڈو ہیں -مستنصر حسین تارڑ
  4. ہیپی نیوایئرٹویو۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ
  5. احمو کمہار کے گدھے کی داستان۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ

Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha