صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود

بھولنا میرا بنیادی حق ہے لیکن جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے پیپلز پارٹی کے بانی اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے کبھی سندھ کارڈ استعمال نہیں کیا تھا اور نہ ہی وہ کسی قسم کے صوبائی تعصب کا اظہار کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں1970ء کے انتخابات میں سندھ سے بھی زیادہ حمایت اور ووٹ پنجاب سے ملے۔ بھٹو صاحب کے دور حکومت سے لے کر آج تک پنجاب ہی پی پی پی کا مضبوط قلعہ رہا ہے۔ پنجاب میں سب سے زیادہ جیالے پائے جاتے ہیں۔ پنجاب ہی پی پی پی کی حمایت میں ہر قسم کی مزاحمتی تحریک میں آگے ہوتا ہے۔ پنجاب ہی نے جنرل ضیاء الحق کے سب سے زیادہ کوڑے کھائے اور محترمہ بینظیر بھٹو پر قاتلانہ حملوں میں سب سے زیادہ خون بھی پنجاب ہی کا بہا۔ مختصر یہ کہ پنجاب کے جانثار ہی دوسرے صوبوں کے مقابلے میں زیادہ قربانیاں دیتے اور جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہے ہیں لیکن ا س کے باوجود محترمہ بینظیر بھٹو کے دور سے پی پی پی کی قیادت کو جب بھی موقع ملا انہوں نے پنجاب کے خلاف سندھ کارڈ استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ میں عرض کررہا تھا کہ میری یاداشت کے مطابق یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب بھٹو صاحب کی جیل سے رہائی کے لئے مزاحمتی تحریک چلائی جارہی تھی اور جب جنرل ضیاء الحق نے بھٹو صاحب کو پھانسی چڑھا دیا تو سندھ کارڈ کا استعمال اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ اندر ہی اندر یہ پراپیگنڈہ کیا گیا کہ پنجابی جرنیلوں نے سندھی وزیر اعظم کو پھانسی چڑھا دیا۔ بدقسمتی سے سپریم کورٹ پر بھی پنجاب کا ٹپہ تھا، چنانچہ صوبائیت کے انگاروں کو خوب ہوا دی گئی۔
میرے مشاہدے کے مطابق مزاحمت محاذ آرائی ، جارحیت اور ایجی ٹیشن پی پی پی کے سیاسی کلچر کا ناگزیر حصہ ہے جو ایک لحاظ سے پی پی پی قیادت کا اہم ترین اثاثہ ہے۔ مجھے یہ خصوصیت اس حد تک کسی اور پارٹی میں نظر نہیں آتی، چنانچہ جیالوں کی اس خصوصیت ،مزاج اور سوچ کو زندہ رکھنے کے لئے ہر دور میں آزمایا جاتا رہا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ صدر زرداری ہوں، بینظیر بھٹو ہوں یا پی پی پی کے دوسرے قائدین ہوں وہ اسی قوت کے برتے پر باغیانہ بیانات دیتے رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ہمدردی کی لہر پیدا کرنے کے لئے سندھ کارڈ استعمال کرتے رہے ہیں۔ آج کل پھر اسی حکمت عملی کو ترتیب دے کر کارکنوں کو تیاری کا سگنل دیا جارہا ہے اور ان سگنلز یا واضح پیغامات میں صدر زرداری کا آج کا بیان قابل توجہ ہے کہ ڈگری کا قانون ختم ہوتے ہی نااہلیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، قائد اعظم بھی گریجویٹ نہیں تھے اور پھر سپریم کورٹ کی طرف واضح اشارہ کہ آپ دوسروں سے دوستیاں رکھیں ،ہم بھی برے نہیں، راجہ ریاض کی دھمکی کہ اگر عدالتوں نے صدر زرداری کے والدین اور حاکم علی زرداری کو بلایا تو احتجاج ہوگا۔ یہ سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں اور ان کا مقصد ضرورت پڑنے پر عدلیہ کے خلاف احتجاجی تحریک چلانا اورعدلیہ پر دباؤ ڈالنا ہے۔ اسی مقصد کے پیش نظر صدر زرداری اور ان کے حواری عوامی قوت کا ذکر بار بار اور دھمکی آمیز لہجے میں کرتے ہیں۔ اسی لئے آج بھی صدر صاحب نے فرمایا ہے کہ عدلیہ مان لے اصل طاقت عوام ہیں۔ لوگ دستی کو چاہتے ہیں تو تم کیا کرسکتے ہو اور جب عدلیہ کوبھی تکلیف ہوئی تو وہ بھی عوام کے پاس گئی۔ ان الفاظ کے بین السطور یہ ارادہ عزم اور حکمت عملی واضح ہے کہ اگر عدلیہ نے پی پی پی کے مفادات پر چوٹ لگائی تو ہم عوام کے پاس جائیں گے اور تحریک چلائیں گے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وہ تحریک کس کے خلاف ہوگی۔ اس تحریک کو منظم اورمتحرک کرنے کے لئے وزیر قانون خصوصی طیارے چارٹر کرکے ملک بھر کے دورے کررہے ہیں جہاں وکلاء کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے بڑی بڑی رقمیں تقسیم کی جارہی ہیں اور پی پی پی ہمدرد وکلاء کو یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ عدلیہ پی پی پی کے سیاسی مخالفین کی جانب جھکاؤ رکھتی ہے اس لئے ہمیں انصاف کی توقع نہیں، چنانچہ آخری چارہ کار کے طور پر ہمیں عدلیہ کے خلاف مزاحمتی تحریک چلانا ہوگی اور عدلیہ پر کیچڑ اچھال کر اسے” مشکوک“ بنانا ہوگا۔
اسی مزاحمتی تحریک کا سب سے بڑا ہتھیار وہی ہے جسے سب سے پہلے محترمہ بینظیر بھٹو مرحوم نے استعمال کیا تھا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جب صدر غلام اسحاق خان نے پی پی پی کی حکومت کو فارغ کیا تو سپریم کورٹ نے اس فیصلے پر مہر تصدیق لگادی تھی لیکن جب اسی صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف حکومت کو ختم کیا اور مسلم لیگ سپریم کورٹ میں گئی تو سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کی حکومت کو بحال کردیا تھا۔ یہ الگ بات کہ پھر بھی میاں نواز شریف کی حکومت دو ماہ سے زیادہ اقتدار میں نہ رہ سکی لیکن اس فیصلے نے محترمہ کو سندھ کارڈ استعمال کرنے کا موقع دے دیا تھا، چناچہ محترمہ کا یہ بیان جلی حروف میں شائع ہوا تھا کہ جب سندھی وزیر اعظم عدالت میں جاتا ہے تو اسے بحال نہیں کیا جاتا لیکن پنجابی وزیر اعظم کو بحال کردیا جاتا ہے۔موجودہ سیاسی تناظر سے این آر او پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے اور عدالت نے صدر زرداری کے خلاف مقدمات کو سوئس عدالتوں میں کھولنے کے لئے خط لکھنے پر اصرار شروع کیا ہے اور سوئٹزر لینڈ سے ساٹھ کروڑ ڈالروں کی ملک واپسی پر زور دینا شروع کیا ہے۔ ایک بار پھر سندھ کارڈ کو پٹاری سے نکال لیا گیا ہے۔
کبھی سندھ کے وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار علیحدگی کی دھمکیاں دیتے ہیں، کبھی پنجاب کے جیالا اعظم راجہ ریاض لاشیں گرانے اور ہائی کورٹ کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کرتے ہیں، کبھی وزیر قانون پیپلز پارٹی سے بے انصافیوں کا رونا رو کر جیالوں کے جذبے کو للکارتے ہیں تو کبھی خود صدر صاحب اپنے عہدے کے تمام تقاضوں اور لوازمات کو پس پشت ڈال سیاسی اکھاڑے میں اتر آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حکمت عملی پر مدت سے کام ہورہا ہے اور اس پر عمل کرنے کے لئے مدت سے زمین ہموار کی جارہی ہے، چنانچہ اس فضا میں جب میاں نواز شریف فرینڈلی اپوزیشن کے کردار کو ترک کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکومت عدلیہ کو آنکھیں دکھا رہی ہے یا ہم عدلیہ کی آزادی پر آنچ نہیں آنے دیں گے یا حکومت کو بہرحال عدلیہ کے فیصلوں پر عمل کرنا ہوگا تو ان اعلانات سے پی پی پی کی حکمت عملی کو مزید تقویت ملتی ہے اور وہ اپنے طور پر اس تاثر کو مزید ابھارتی ہے کہ عدلیہ اور مسلم لیگ(ن)میں گٹھ جوڑ ہوچکا ہے اور سپریم کورٹ کے جج اپنی بحالی کے لئے میاں نواز شریف کے مرہون احسان ہیں ۔اس لئے وہ ان کے لئے نرم گوشتہ رکھتے ہیں چنانچہ عدلیہ زرداری حکومت کی مخالف ہے اور انہیں اقتدار سے محروم کرنا چاہتی ہے، اس طرح جیالوں کو اشتعال دے کر مزاحتمی تحریک کے لئے تیارکیا جارہا ہے۔جب تک میاں نواز شریف فرینڈلی اپوزیشن کا روپ دھارے ہوئے تھے پی پی پی کا انداز بھی محتاط اور مدہم تھا لیکن اب جبکہ میاں صاحب اس حکمت عملی سے تائب ہوچکے ہیں تو دونوں طرف فائر ورک کا سلسلہ جاری ہوگیا ہے۔ میاں صاحب نے آگسٹا آبدوزوں کا ذکر کیا جن میں صدر زرداری صاحب پر کمیشن کھانے کا الزام ہے اور حکومتی کرپشن کو بے نقاب کیا تو دوسری طرف سے میاں صاحب بتائیں جدہ میں کاروبار کے لئے پیسہ کہاں سے آیا، جاتی عمرہ کے محلات کیسے بنے، اتنی فیکٹریاں کیسے بنیں کا گیت گایا گیا اور وزیر قانون بابر اعوان نے بریف کیس کا ذکر کرکے کوئٹہ سازش کی طرف اشارہ کیا جس نے بالآخر جسٹس سجاد علی شاہ کو اپنا عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔ مختصر یہ کہ ایک طرف مسلم لیگ ن اور پی پی پی میں فائر ورک اور الزامات کے تبادلے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور یہ سلسلہ پھیلتا نظر آتا ہے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی عدلیہ کے خلاف صف آرائی کررہی ہے۔ گویا صدر زرداری اور ان کے حواری دو محاذروں پرجنگ لڑنے کے لئے تیاری کررہے ہیں جس کا بالآخر نقصان ملک و قوم کا ہوگا۔ میرے نزدیک یہ پیش رفت خطرے کی علامت ہے ۔ جولائی کی شدید گرمی کے ساتھ سیاسی آگ بھی بھڑکتی نظر آتی ہے اور اگریہ آگ اسی طرح پھیلتی رہی تو یہ سارے نظام کو جلا کر بھسم کردے گی۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے واپسی کے دروازے بند ہورہے ہیں اور ہماری سیاست ایک ایسی صورتحال کی اسیر ہو چکی ہے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں چنانچہ انہونی ہو کر رہے گی

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=447426

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha