صبح بخیر-ڈاکٹر صفدر محمود

اگر حضرت عمر یوم حساب جوابدہی کے خوف سے یہ کہتے ہوئے کانپتے تھے کہ انہیں دریائے فرات کے کنارے بھوک سے مرنے والے کتے کا بھی جواب دینا پڑے گا تو کیا عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر اسمبلیوں میں جانے والے اس حساب اور جوابدہی سے مبرا اور بالاتر ہوں گے؟ نہیں بالکل نہیں۔ حضرت عمر نے تو صرف جانور کی مثال دی تھی جبکہ ہمارے ملک میں تو اشرف المخلوقات بھوک و افلاس سے خودکشیاں کر رہی ہے۔ حضرت عمر  تو لاکھوں میلوں پر پھیلی ہوئی وسیع و عریض اسلامی مملکت کے خلیفہ تھے جبکہ ہمارے ایم این اے اور ایم پی اے تو محض چند آبادیوں اور ہزاروں رائے دہندگان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ ان علاقوں، گلیوں محلوں سے ووٹ لے کر آتے ہیں اور انتخابی مہم کے دوران ہر گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں لیکن اصل بدقسمتی یہ ہے کہ ووٹ لے کر وہ رائے دہندگان اور اپنے حمایتیوں کو بھول جاتے ہیں۔ کیا ان کا یہ فرض نہیں بنتا کہ وہ اپنے اپنے حلقہ انتخاب پر نظر رکھیں، اپنے کارندوں اور کارکنوں کے ذریعے ان گھروں تک پہنچیں جہاں بھوک کا دیو ناچ رہا ہے اور جہاں بھوک کا دیو انسانی جانوں اور خاندانوں کو نگل جاتا ہے۔ ان کی ڈگر ی اصلی ہو یا جعلی، اس کا فیصلہ تو ہماری عدالتیں کریں گی اور اس کی سزا بھی یہاں ہی مل جائے گی لیکن اگر وہ حلقہ انتخاب میں بھوک کی خودکشیوں کو روکنے میں ناکام رہیں تو یقین رکھیں کہ یوم حساب وہ نہ ہی صرف شدید عذاب کے مستحق قرار پائیں گے بلکہ خودکشی کر کے حرام موت مرنے والوں کا ہاتھ ہو گا اور ان دولت مند اراکین کا دامن
بالآخر فاقہ کشی کے سبب خودکشیوں کی خبریں ہماری قومی اسمبلی تک پہنچ گئی ہیں اور اسمبلی کے فلور پر اس خطرے کا اظہار کیا گیا ہے کہ جس روز ان بھوکوں نے خودکشیوں کی بجائے سڑکوں کا رخ کیا تو اس روز بقول اقبال کاخِ امراء کے در و دیوار جلا دیئے جائیں گے۔ کچھ اراکین نے اس خوف کا بھی اظہار کیا کہ ملک انقلاب کے دہانے پر کھڑا ہے اور نفرت کا لاوا پک رہا ہے۔ ہماری بھولی بھالی اسپیکر صاحبہ نے فرمایا (رولنگ نہیں دی) کہ خودکشیوں کے خلاف مہم چلانے کی ضرورت ہے ۔ میں نے جب ان تقریروں کو جلدی جلدی پڑھا تو مجھے احساس ہوا کہ ان اراکین اسمبلی کا خودکشیوں کے خلاف ردعمل خوف کا ردعمل ہے نہ کہ انسانی ہمدردی، دکھ اور خدا کے خوف کا ردعمل۔ انہیں اس سے غرض نہیں تھی کہ وہ خدا کے سامنے بھی جوابدہ ہوں گے اور اپنے وسائل سے محروم طبقوں کے لئے حصہ نہ نکالنے کے بھی مجرم ٹھہریں گے۔ انہیں فقط یہ خوف تھا کہ کسی روز یہ بھوکے خودکشیاں چھوڑ کر مرنے مارنے اور احتجاج کرنے پر تل جائیں گے اور ان کے محلات پر حملہ آور ہو جائیں گے۔ حقیقت یہی ہے کہ جب دل خوف خدا سے خالی ہو تو اس میں صرف دنیا کی محبت اور دنیا کا خوف گھر بنا لیتا ہے اور انسان پر دنیا کا خوف چھا جائے تو پھر وہ ہر شے اور ہر مسئلے پر دنیا کی نظر سے نگاہ ڈالتا اور دنیاوی مفادات کے پیش نظر سوچتا ہے۔ ہمارے یہ خوشحال رؤساء، امراء، جاگیردار، صنعتکار اور اپنی انتخابی مہم پر کروڑوں روپے صرف کرنے والوں، شام کو ہوٹلوں میں بیٹھ کر ہر روز ہزاروں روپے اڑانے والوں، قومی خزانے سے ہر ماہ لاکھوں روپے وصول کرنے والوں اور غیر ملکی علاج و معالجے پر غریب ملک کے خزانے سے لاکھوں و کروڑوں خرچ کرنے والوں کو کیا علم کہ اس ملک میں لوگ بھوک سے بھی مر رہے ہیں اور افلاس سے بھی خودکشیاں کر رہے ہیں۔ اے کاش ارا کین کی اکثریت اور اسپیکر صاحبہ نے حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہوتا کہ ملک میں خوراک کی ایمرجنسی، غربت اور بھوک کے سبب خودکشیاں اس امر کی متقاضی ہیں کہ حکومت اپنا خرچ کم کرے، کابینہ کا سائز گھٹائے، وزیر اعظم ہاؤس اور صدر ہاؤس کا بجٹ نصف کرے، ناگزیر کے علاوہ غیرملکی دورے بند کئے جائیں، فضول خرچی کا دروازہ فوری طور پر بند کیا جائے اور اس طرح اربوں روپے بچا کر بھوکے اور مفلس عوام کے لئے خوراک کا انتظام کیا جائے۔
اے کاش قومی اسمبلی نے یہ قرارداد منظور کی ہوتی کہ جس ایم این اے اور ایم پی اے کے حلقے میں کوئی شخص بھوک کے سبب خودکشی کرے گا اس سے استعفیٰ لے لیا جائے گا یا کم از کم اس سے جوابدہی کی جائے گی۔ اے کاش قومی اسمبلی نے یہ قرارداد بھی پاس کی ہوتی کہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلیاں اپنے حلقوں کے نہایت غریب علاقوں میں لنگروں کا انتظام کریں جہاں غریبوں کو مفت کھانا مہیا کیا جائے۔ دراصل ہماری ٹریجڈی یہی ہے کہ ہم اسمبلیوں کے فلور پر تقریریں کر کے فارغ ہو جاتے ہیں اور عملی اقدام سے گریز کرتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے منتخب اراکین انتخابی مہم کے بعد ووٹ لے کر اپنے حلقے سے اس قدر بے نیاز ہو جاتے ہیں کہ ان گلیوں، محلوں اور آبادیوں کو ہی بھول جاتے ہیں جن کی حمایت اور دعاؤں سے وہ ان بلند و بالا ایوانوں تک پہنچتے ہیں۔ انہی بڑھتے ہوئے فاصلوں نے جمہوریت کے خلاف ناامیدی کے عمل کو جنم دیا ہے اور ہرسُو مایوسی کو پھیلایا ہے لیکن یقین رکھئے کہ ابھی یہ مایوسی اپنی آخری حدوں تک نہیں پہنچی، ابھی لوگوں کی امیدوں اور توقعات کے چراغ پوری طرح نہیں بجھے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت ملک میں ضمنی انتخابات ہیں جہاں تمام تر الزامات کے باوجود جوش و خروش نمایاں تھا۔ اس سے قبل کہ لوگ پوری طرح مایوس ہو جائیں اور بھوکے ننگے عوام سڑکوں پر نکل آئیں خدارا کچھ کیجئے، بھوک و افلاس کی شدت کو کم کرنے کے لئے کچھ عملی اقدامات کیجئے کیونکہ اب محض تقریروں سے کام نہیں چلے گا، محض الفاظ بھوکے عوام کا پیٹ نہیں بھر سکیں گے!!

http://search.jang.com.pk/archive/details.asp?nid=446837

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha