جنرل اسٹینلے میک کرسٹل کے درشت الفاظ کے نتیجے میں واشنگٹن میں اٹھنے والے طوفان کا خاتمہ ان کی فوری برطرفی اور ان کی جگہ ایک اور جنرل کی تقرری پر ہوا۔ تاہم اوباما انتظامیہ کی نیشنل سیکورٹی ٹیم کی غیرفعالیت اس طرح بے نقاب ہونے کے بعد آنے والے کئی ماہ تک ان کے افغان مشن کو متاثر کرتی رہے گی جس سے نہ صرف ایک ایسے وقت میں جنگ کیلئے عوامی مقبولیت میں کمی واقع ہورہی ہے۔ امریکہ کی ڈگمگاتی افغان اسٹریٹجی پر دوبارہ بحث کا آغاز ہوا ہے بلکہ اس سے ان شکوک و شبہات نے بھی جنم لیا ہے کہ کیا یہ طریقہ کار اتنا موثر ہے کہ واشنگٹن اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوسکے۔ افغانستان میں متعین اعلیٰ کمانڈر جنرل میک کرسٹل اسٹینلے کے مضمون میں اوباما انتظامیہ کے اعلیٰ افسران بشمول وائس پریذیڈنٹ جوبائیڈن اور حتیٰ کہ صدر کے بارے میں تحقیر آمیز تبصرے کے بعد صدر بارک اوباما کے پاس انہیں برطرف کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا۔ انہوں نے اپنے فیصلہ کن اقدام سے سیکریٹری دفاع رابرٹ گیٹس اور میڈیا میں دیگر مبصرین کی رائے کو مسترد کردیا جن کا خیال تھا کہ میک کرسٹل کو اس مشکل مرحلے میں برطرف کرنا جنگی کوششوں میں رکاوٹ کا موجب بنے گا۔ افغانستان کی اس جنگ میں اتحادی افواج کی بڑھتی ہوئی اموات، مرجاہ پر حملے کی پانچ ماہ پرانی مہم میں ناکامی، مقامی حمایت نہ ہونے کی بنا پر قندھار آپریشن میں تاخیر اور پہلے سے زیادہ مضبوط طالبان کی سرکشی، جنگی کوششوں میں اتحادی افواج کو پیش آنے والی مشکلات کا ثبوت ہیں۔ تاہم اوباما نے یہ فیصلہ سویلین اتھارٹی کو تفویض کردہ ملٹری احتساب کے قواعد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔
”رولنگ اسٹون“ میگزین کے مضمون میں میک کرسٹل کی جانب سے کئے جانے والے توہین آمیز تبصرے کو وہائٹ ہاؤس نے اپنی حدود سے تجاوز قرار دیا ہے۔ اس سے قبل بھی دو مرتبہ میڈیا نے جنرل اسٹینلے سے منسوب اس عوامی گفتگو کو افشاء کردیا تھا جو صدر کیلئے شرمندگی کا باعث بنی تھی۔ گزشتہ ستمبر میں میک کرسٹل کی افغانستان کے بارے میں خفیہ رپورٹ میڈیا کے ہاتھ لگ گئی جس میں ان کی جانب سے افغانستان میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کیلئے درخواست کئے جانے کا انکشاف ہوا تھا اور وہائٹ ہاؤس نے اسے اس وقت افغان اسٹریٹجی پر کی جانے والی نظرثانی کے دوران صدر پر دباؤ ڈالنے کی کوشش سے تعبیر کیا تھا۔ اسی ماہ لندن میں ایک تھنک ٹینک سے بات چیت کے دوران میک کرسٹل نے وائس پریذیڈنٹ کی تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”جوبائیڈن کی مشن کو محدود کرنے کی تجویز افغانستان کو بحرانستان“ کی طرف لے جائے گی جس پر انہیں کوپن ہیگن میں صدر سے ملاقات کیلئے طلب کیا گیا اور ان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ اس طرح کے مشوروں کو اپنے تک ہی محدود رکھیں۔ تاہم جنرل اسٹینلے کے تبصرے اور انتظامیہ کے سینئر اہلکاروں کی تضحیک پر انہیں عہدے سے فارغ کردیا گیا ہے۔ صدر کے اس فیصلے میں انہیں نہ صرف کانگریس کی حمایت حاصل تھی بلکہ صدر کے سخت سیاسی مخالفین نے بھی اس فیصلے کی تائید کی ہے، جنرل میک کرسٹل کی جگہ عراق پر حملے کے منصوبہ ساز جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کی تقرری نے وقتی طور پر تو اختلاف رائے کو دبادیا ہے لیکن اس واقعہ سے نہ صرف حکومت اور امریکی فوج کے درمیان کشیدگی کی نشاندہی ہوتی ہے بلکہ اس سے اوباما کی افغانستان کی ٹیم کی اندرونی کشمکش اور اختلافات کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں افغانستان میں جاری جنگی کوششوں میں ناکامی پر انتظامیہ کے مختلف ارکان نے ایک دوسرے پر الزام تراشی شروع کردی ہے جس نے پالیسی اور ذاتی تضادات کی اس خلیج کو مزید گہرا کردیا ہے۔ قومی سیکورٹی ٹیم میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے اوباما نے اپنی تقریر میں کمانڈ کی تبدیلی کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ”کمانڈ کی تبدیلی ایک آپشن نہیں بلکہ ایک ذمہ داری تھی۔ اگرچہ وہ بحث مباحثے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاہم وہ تقسیم کو بھی برداشت نہیں کریں گے۔“ صدر کے عملے کے درمیان یہ اختلافات گزشتہ برس اسٹریٹجی پر طویل غوروخوض کے بعد ہی سامنے آنا شروع ہوگئے تھے جس کے نتیجے میں صدر اوباما نے افغانستان میں فوجی حملے اور دسمبر کے مہینے سے فوج کے انخلاء کا اعلان کیا تھا۔ دس اجلاسوں پر مشتمل صدر بارک اوباما کی سربراہی میں ہونے والے ان تفصیلی مذاکرات کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مذاکرات کیوبا کے میزائل بحران سے متعلق فیصلوں کے بعد قومی سلامتی کے تناظر میں سب سے زیادہ طویل اور تفصیلی مذاکرات تھے۔ حکمت عملی سے متعلق جائزے کے نتیجے میں ظاہر ہوا کہ بائیڈن پلان اور فوج کی جانب سے بڑے پیمانے پر مزاحمت کا مقابلہ کرنے کیلئے فوج کی تعداد میں اضافے کی تجویز پر مختلف متضاد آراء پائی جاتی تھیں۔ میک کرسٹل نے ابتدائی طور پر چالیس ہزار فوجیوں کے اضافے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ ان کے زیر کمان فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ 70 ہزار تک پہنچ جائے اور یہ فوج دس برس تک اپنے فرائض سرانجام دیتی رہے۔ تاہم بہت سے تجزیہ کاروں نے میک کرسٹل کے اس منصوبے کو ویت نام میں جنرل ویسٹ مورلینڈ کی فوج میں اضافے کی تجویز سے مماثل قرار دیا جس کو اس وقت کے امریکی صدر لنڈن بی جانسن نے منظور تو کرلیا تھا لیکن بعد ازاں وہ تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی تھی اور امریکی افواج گویا ایک دلدل میں پھنس کر رہ گئی تھیں۔
میک کرسٹل نے افغانستان کیلئے مکمل طور پر آزاد فعال حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ نائب صدر بائیڈن امریکی منصوبے کو القاعدہ کے خاتمے کے عمل تک ہی محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ بائیڈن افغانستان میں اعتدال پر مبنی طرزعمل کو امریکہ کیلئے زیادہ مفید سمجھتے ہیں۔ انہیں خطرہ ہے کہ کہیں وہ ویت نام جیسی دلدل میں ہی نہ پھنس جائیں۔ بائیڈن کا کہنا ہے کہ فوجیوں کی تعداد میں اضافہ امریکہ کو ایک بڑے بین الاقوامی ہدف میں تبدیل کردے گا اور طالبان زیادہ تعداد میں مزاحمت کاروں کی صف میں شامل ہوجائیں گے۔
اب صدر اوباما کو ایک اہم فیصلہ کرنا تھا۔ انہیں اپنی پارٹی کے حلقوں کی جانب سے جنگ کی بھرپور مخالفت میں توازن پیدا کرنا تھا جس کے ساتھ یہ خطرہ بھی لاحق تھا کہ اگر فوج کی جانب سے بھرپور کارروائی کی سفارشات کو منظور نہیں کیا گیا تو جیسا کہ میک کرسٹل نے برسرعام خبردار کیا تھا کہ اس کے بغیر امریکی مشن کو شدید ناکامی کا سامنا ہوگا۔ چنانچہ اتفاق رائے پیدا کرنے کے برعکس اوباما نے مختلف نقطہ ہائے نظر کے مابین مفاہمت کرانے کی کوششیں شروع کردیں اور انہوں نے بتدریج مفاہمت کی جانب بڑھنے کے اقدامات کی راہ ہموار کی۔ یعنی ایسا سمجھوتہ جس کے معنی مخالف نقطہ نظر کو تسلیم کرنا تھا۔ اوباما نے فوج کو درکار بنیادی ضروریات بھی فراہم کیں۔ میک کرسٹل کے کوائن (COIN) منصوبے کی بھی توثیق کردی تاہم ساتھ ہی جولائی 2011 ء سے افغانستان سے فوج کے انخلاء کے آغاز کا اعلان کرکے وہ اپنی سیاسی بنیادوں کو بھی مضبوط کرنا چاہتے تھے جس سے افغان حکمت عملی مستقل طور پر غیریقینی اور کشیدگی کا شکار ہوکر رہ گئی ہے۔
اوباما کی صدارت کے پہلے سال کے بارے میں حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ”دی پرامس“ کے مطالعہ اسٹریٹجی کے جائزے کے دوران وہائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے مابین کشیدگی اور اختلافات کو بڑی خوبصورتی سے سامنے لاتا ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں بتایا ہے کہ امریکی افواج کی واپسی کیلئے جولائی 2011ء کی ڈیڈلائن متعین کرکے اوباما نے تمام تر ذمہ داری فوج کے کاندھوں پر ڈال دی تھی کیونکہ وہ سال بھر سے اوباما کو اپنی نکتہ چینی کا ہدف بنائے ہوئے تھی۔ چنانچہ اب اوباما کی باری تھی۔ کتاب میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک اجلاس میں میک کرسٹل کے ترجیحی آپشن کو یہ کہہ کر اوباما نے مسترد کردیا تھا کہ ”میں دس برس پر مشتمل کھربوں ڈالر کے کسی منصوبے پر عمل نہیں کروں گا۔“ کتاب وہائٹ ہاؤس کے سینئر اہلکاروں اور معاونین کے انٹرویوز پر مبنی ہے جو اوباما کے فیصلے کو میک کرسٹل اور بائیڈن کے منصوبوں کا ایک ملا جلا مجموعہ قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ”میک کرسٹل کی ٹیم فوج کی طاقت کے بل پر جیت گئی جبکہ بائیڈن کی فتح مشن کو محدود رکھنے سے وابستہ ہے۔ اس بات سے اوباما بہت مطمئن ہیں تاہم اس کتاب میں کہیں یہ اشارہ نہیں ملتا کہ اوباما کی پہلے سے یہ امید تھی اس سمجھوتے کے باوجود پالیسی کے حوالے سے ذاتی اختلافات بدستور موجود رہیں گے۔ اقتدار کے اعلیٰ ترین حلقوں میں موجود ان اختلافات کو وہ ختم کرنا چاہتے ہیں۔ جنرل میک کرسٹل کی برطرفی کو وہ پالیسی کی نہیں بلکہ عہدیدار کی تبدیلی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ عزم بھی کررکھا ہے کہ وہ اپنا راستہ ہرگز تبدیل نہیں کریں گے۔ تاہم نو برس تک افغانستان کی جنگ میں پھنسے رہنے کی اسٹریٹجی نے امریکہ اور بیرون امریکہ اس بحث کا آغاز کردیا ہے۔
ایک تجزیہ یہ بھی ہے کہ اسٹریٹجی جسے بائیڈن ”تصور کے ثبوت“ کے لمحے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ اس پر دسمبر میں غوروخوض کیا جائے گا لیکن اگر کانگریس کے اراکین اور میڈیا کے سوالات نے شدت اختیار کرلی تو اس منصوبے کی قبل از وقت بھی جانچ پڑتال ہوسکتی ہے۔ تاہم اس ہفتے کے آخر تک جنرل پیٹریاس کے تقرر کے بارے میں ہونے والے تبادلہ خیال واشنگٹن کے موڈ کو ظاہر کردے گا۔ اہم سوال یہ ہے کہ آیا گزشتہ ہفتوں کے دوران ہونے والی غیرمعمولی تبدیلیوں سے اصلاح کا کوئی راستہ بھی نکلتا ہے یا نہیں؟ اس میں پالیسی پر دوبارہ غوروخوض بھی شامل ہوگا۔ سیاسی اسٹریٹجی امریکی رویوں میں کلیدی اور بنیادی کردار ادا کرے گی۔ اس طرح صورتحال اس حقیقت کے برعکس ہوگی جب فوج کی ناکامی ہوتی اسٹریٹجی سیاسی طریقہ کار پر مسلط ہونے کی کوشش کررہی تھی۔ جب تک واشنگٹن اس قابل نہ ہوجائے کہ وہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی سیاسی حل تلاش کرے جو اس جنگ کو مذاکرات کے ذریعے ختم کرسکتا ہے اس وقت تک افغانستان کا بحران بڑھتا ہی چلا جائے گا جس کے خطے خصوصاً پاکستان پر بالواسطہ اہم اثرات مرتب ہوں گے۔ اوباما کی انتظامیہ کو ہنری کسنجر کے اس مشورے پر ضرور غور کرنا چاہئے، جنہوں نے چند روز قبل لکھا تھا کہ ”امریکہ کو افغانستان میں ایک اسٹریٹجی کی ضرورت ہے عذر خواہی کی نہیں۔“
http://search.jang.com.pk/archive/details.asp?nid=446838
Recent Comments