چوراہا۔۔۔۔ حسن نثار
روز صبح اٹھتے ہی اپنا تھوبڑا دیکھنے کا شوق بھی عجیب ہے حالانکہ اگر لکھنے یا کہنے کو کوئی ڈھنگ کی بات پلے نہ ہو تو بھلے آدمی کا فرض ہے کہ اپنا قلم کا یا مائیک کا منہ بند رکھے کہ رطب و یابس سے خاموشی کہیں بہتر ہے لیکن یہاں بہت سے لوگ بے تکا اور بے تکان لکھے یا بولے چلے جاتے ہیں۔ یہ ملا دو پیازے بھی نہیں…صرف’’پیاز‘‘ ہیں۔ پرتیں اتارتے جائو، آخر پر کچھ بھی نہیں نکلتا اور آدمی سر پکڑ کے بیٹھا سوچتا رہتا ہے کہ اس بیان، تقریر یا تحریر کا مقصد کیا تھا؟لیکن جہاں کروڑوں لوگ بے مقصد اور بے سمت جی رہے ہوں وہاں بے مغز تقریروں اور تحریروں پر کیا کڑھنا کہ جب زوال ہی مقدر ہو تو اس کی زد سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔
گرو تو ساتھ گرے شان شہسواری بھی
زوال آئے تو پورے کمال میں آئے
یہ شعر لکھتے وقت عدیم ہاشمی مرحوم کو یقینااس بات کا اندازہ ہوگا کہ ہماری قسمت میں تو زوال بھی باوقار نہیں۔
پچھلے دنوں دل کے امراض کی جعلی دوائیں اور ایسا دودھ پکڑا گیاجس میں یوریا ،بالصفا پائوڈر اور ڈٹرجنٹ جیسی’’صحت مند‘‘ چیزیں شامل تھیں۔ اہل مغرب’’مصنوعی زندگی‘‘ ایجاد کرچکے تو ہم بھی کسی سے کم نہیں کہ مختلف اقسام کی ’’مصنوعی موتیں‘‘ تیار کررہے ہیں۔
ادھر وزیر قانون نے پنجاب بار کونسل کے لئے ڈیڑھ کروڑ روپے کی گرانٹ کااعلان کیا تو ادھر بلوچستان بار کونسل نے دو کروڑ کے چیک واپس کردئیے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ عرصہ پہلے عرض کیا تھا کہ اس معاشرہ میں اب صرف ایک ہی ’’ویلیو‘‘باقی رہ گئی ہے اور وہ ہے ’’نیو سینس ویلیو‘‘۔
’’زوال آئے تو پورے کمال میں آئے‘‘
ہماری اصلی سیاسی و جمہوری کمائی یہ ہے کہ بہت سوں کی ڈگریاں جعلی ثابت ہونے کے بعد اب وزیر اعظم سمیت 200ارکان کی ڈگریاں تصدیق کے لئے مختلف یونیورسٹیوں کو ارسال کردی گئیں۔ زوال میں کمال کی اس سے روشن مثال ممکن ہو تو بتائیں۔ اس پر بھی کچھ لوگ مصر ہیں کہ عوام اچھے صرف ان کے نمائندے برے ہیں… عوام اصلی صرف ان کے نمائندے ہی جعلی ہیں حالانکہ ہمیں صدیوں پہلے سمجھا دیا گیا تھا کہ…’’جیسی قوم ہوگی ویسے ہی حکمران ان پر مسلط کردئیے جائیں گے‘‘۔
کہتے ہیں’’ امید کا دامن نہ چھوڑو‘‘۔ کوئی ان عقل کے اندھوں سے پوچھے کہ بیچاری امید کے بدن پر تو کپڑا ہی کوئی نہیں تو یہ دامن کہاں سے آیا جسے پکڑ کر کوئی جھوٹا،سچا خواب ہی دیکھ لیں۔ ظالموں نے امید کے کپڑے ہی نہیں اتارے بلکہ اس بیوہ کی کھال تک اتار لی ہے۔بدنصیب امید سرتاپا اپنے ہی لہو میں نہائی ہوئی ہے۔ پکڑنے کی کوشش بھی کریں تو یوں پھسل جاتی ہے جیسی روغن ملے ہاتھوں سے مچھلی پھسل جائے۔
کیسا کیسا بدبخت موجود ہے۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان کے پلے چین کے علاوہ اور ہے ہی کچھ نہیں۔ کوئی سنکیانگ میں’’جہاد‘‘ کا ڈول ڈالتا ہے اور کوئی کسی سینیٹر کے بھائی کی شراکت میں چین ہیروئن سمگل کرتا ہے۔ اب چین مصر ہے کہ ماسٹرمائنڈ کو گرفتار کیا جائے تو ظاہر ہے یہ ماسٹر مائنڈ کوئی للو پنجو تو ہوگا نہیں لیکن کیا کوئی فرد پاک چین تعلقات سے بھی قیمتی ہوسکتا ہے؟لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا بن جاتی ہے اور بے شمار سزائیں ہم بھگت بھی رہے ہیں تو یہی کافی نہیں؟عقلمندوں کے لئے تو اشارے ہی کافی ہوتے ہیں لیکن بے ضمیروں کے بارے کوئی کیا کہہ سکتاہے۔
افقی اور عمودی طور پر ہر حوالے سے زوال کی زد میں آئے ہوئے معاشرے کے لئے ضروری ہے کہ’’افیون فروشی‘‘کے اڈے بند کئے جائیں۔ عوام کو لوریاں سنانے اور خواب دکھانے کے سلسلے روکے جائیں، آپس میں جھوٹ بولنے کی روایت ختم کی جائے،خود کو خواہ مخواہ گلیمرائز کرنے کی روش ترک کی جائے۔ اپنی غلاظتوں کو چار پائی کے نیچے چھپا کر اوپر سفید معطر چادریں ڈالنے کی مکروہ رسم کا خاتمہ ہو کہ جب تک کوئی خود کو مریض ہی نہیں مانے گا…معالج کے پاس کیوں جائے گا؟علاج کیسے شروع کرے گا؟اور صحت مند کیسے ہوگا؟
کب تک پدرم سلطان بود؟
کب تک اسلاف کے کارناموں کی ڈھال؟
کب تک ماضی کے مورچوں میں پناہ ؟
کب تک زہریلی سچائی اور تلخ حقائق سے فرار؟
تجھے یقین ہے تو فتح میں بدل دے گا
تو کیوں شکست سے پیہم مکر رہا ہے تو
جو کھلے دل سے شکست تسلیم نہیں کرتے…فتح کا تصور تک نہیں کرسکتے ا ور جو اپنا مرض نہیں جانتے لاعلاج ایڑیاں رگڑتے رہتے ہیں۔
http://search.jang.com.pk/archive/details.asp?nid=446319
Recent Comments