ہمارے بہت سے لوگوں کو اپنے گرتے بالوں کی طرف سے پریشانی لاحق ہوتی ہے۔ وہ ”فارغ البال“ ہونے سے بچنے کے لئے قیمتی ادویات استعمال کرتے ہیں۔ سروں کوڈھانپنے کے لئے وگیں تیار کرواتے ہیں اور اگر توفیق ہو تو بالوں کی ٹرانس پلانٹیشن کے اخراجات اور تکلیف برداشت کرنے کو بھی تیار ہوتے ہیں۔ دانتوں میں تکلیف بھی برداشت نہیں کی جاسکتی۔ چہروں کی جھریاں دور کرنے کے انتظامات پر بھی اربوں ڈالر خرچ کئے جارہے ہیں مگر بہت ہی پریشان کردینے والی بات ہے کہ براعظم ایشیا کے ملکوں میں درختوں کے سب سے زیادہ دشمن پاکستانی قرار پائے ہیں۔ یعنی وہ درخت کو جو انسان کا سب سے بڑا دوست سمجھا جاتا ہے اپنے سرکے بال جتنی اہمیت بھی نہیں دیتے۔
ہمارے ایک درخت نواز اخباری رپورٹر بتاتے ہیں کہ پاکستان میں جنگلات مجموعی رقبے کے صرف اڑھائی فیصد علاقے پر پھیلے ہوئے ہیں مگر ایشیائی ملکوں میں درخت کاٹنے کا سب سے تیز عمل پاکستان میں جاری ہے۔ ہر سال یہاں سب سے زیادہ درخت کاٹے جاتے ہیں۔ WWF کی جمعہ کے روز منظرعام پر آنے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں جہاں جنگلات کا رقبہ صرف اڑھائی فیصد علاقے میں ہے وہاں سالانہ دوفیصد سے بھی زیادہ علاقے سے درخت کاٹے جارہے ہیں اور درختوں سے محروم ہونے والے علاقوں کو متبادل (غیرزرعی) استعمال میں لایا جارہا ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ تقویم کے دوسرے ہزاریئے کے آغاز پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں جہاں جنگلات اڑھائی فیصد علاقے تک محدود ہیں 2015 تک چھ فیصد علاقے تک پھیلا دیئے جائیں گے مگر درخت کاٹنے کی موجودہ خوفناک رفتار کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی یہ سوچ سکتا ہے کہ اگلے چار سالوں میں پاکستان میں جنگلات اڑھائی فیصد علاقے سے پھیل کر چھ فیصد علاقے پر اپنی بہار دکھانے لگیں گے؟
WWF کی رپورٹ کے مطابق قیام پاکستان کے بعد سے گزشتہ 63 سالوں کے دوران 61ہزار ہیکٹرز (تقریباً ایک لاکھ اکاون ہزار پانچ سوایکڑز) رقبے میں سے جنگلات صاف کردیئے گئے ہیں اور ان علاقوں میں آبادیاں پھیلا دی گئی ہیں اور وہ بھی کسی پلاننگ یا منصوبہ بندی کے بغیر پھیلی ہیں۔ متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جنگلات کو اجاڑنے کی انسان دشمنی کے خلاف موجود قوانین پر عملدرآمد پر توجہ دیں اور تباہی و بربادی کے اس سلسلے کو روکیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1992 میں پاکستان میں 42 لاکھ ہیکٹرز سے زیادہ جنگلات تھے جو سال 2001 میں 36لاکھ ہیکٹرز علاقے میں رہ گئے۔ سب سے زیادہ تباہی سندھ طاس کے ”مینگروز“ میں پھیلائی گئی ہے۔ پانی کے اندر ان جنگلات کا پانی کے اندر پلنے والی مچھلیوں کی زندگیوں سے گہرا رشتہ ہوتا ہے۔ خشکی کے اوپر واقع جنگلات کی تباہی سے بھی زیادہ تباہی کی زد میں آنے والے پانی کے اندر ’مینگروز“ کہلانے والے جنگلات ہیں۔
WWF کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 99 ہزار 711ایکڑ رقبے کے جنگلات برباد کئے گئے ہیں، سندھ میں 27ہزار 872 ایکڑوں میں جنگلات کا صفایا کیاگیاہے۔ جن علاقوں میں درخت کاٹے گئے ہیں وہ علاقے سرکاری اور حکومتی اداروں کے استعمال میں لائے گئے ہیں۔ کچھ سیاستدانوں اور دیگر ”معتبر“ لوگوں نے بھی فائدہ اٹھایا ہے۔ بلوچستان میں 13ہزار چھ سو 93 ایکڑوں میں سے جنگلات کاٹے گئے ہیں۔ سابق صوبہ سرحد کے 9ہزار 692ایکڑ جنگلات کو موت کے گھاٹ اتارا گیاہے جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں صرف 577 ایکڑوں میں یہ ظلم روارکھا گیاہے اورمجموعی طور پر ایک لاکھ 51ہزار 548 ایکڑوں میں جنگلات یا درختوں کا قتل عام روا رکھا گیا ہے۔
WWF کی رپورٹ میں ان سرکاری اداروں کے علاوہ غیرسرکاری، نجی اداروں اور اہم شخصیتوں کی فہرست بھی دی گئی ہے جنہوں نے جنگلات سے صاف ہونے والے علاقوں پر قبضہ فرمایا ہے۔ ان سرکاری اداروں اور اہم شخصیتوں کی فہرست دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شائد ان کے خلاف کوئی اعلیٰ عدالت بھی کچھ نہیں کرسکے گی چنانچہ ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ملک کے ذمہ دار غیرسرکاری اداروں اور سول سوسائٹی سے اپیل کریں کہ وہ ملک میں زیادہ سے زیادہ درخت اُگانے کی مہم کا آغاز کریں اور اس جگہ پر درخت لگانے، اُگانے اور اس کی حفاظت کرنے کا انتظام کریں جو پاکستان کے جنگلات کے”قبضہ گروپوں“ سے ابھی تک بچی ہوئی ہے تاکہ ہماری اگلی نسلوں تک کچھ درخت بچ جائیں اور وہ اپنے ابتدائی تعلیم کے قاعدے میں ”دال سے درخت“ پڑھ سکیں۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=445427

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha