لندن (مرتضیٰ شاہ)وزیر داخلہ تھریسامے اگلے سال اپریل سے قبل ہی یورپی یونین سے با ہر کے تارکین ورکرز پر عارضی پابندی عائد کرنے کااعلان کر نے والی ہیں ، وزیر داخلہ کے اس مجوزہ اعلان پر تاجر برادری اور مخلوط حکومت میں شامل لب ڈیم نے تحفظات کااظہار کیا ہے۔ وزیر داخلہ تھریسا پیر کو ایک اعلان کے ذریعہ جو کہ کنزرویٹو پارٹی کے منشور کا حصہ ہوگا اب اور اپریل 2011ء کے درمیان ورکرز کی تعداد میں کم وبیش 5 فیصد کم کرکے 24 ہزار 100 تک محدود کردیں گی۔ تارکین وطن کی تعداد محدود کرنے سے غیر یورپی اعلیٰ ہنر منداور ورک پرمٹ ویزا رکھنے والے اور تاجر برادری متاثرہوگی، اس سے سب سے زیادہ متاثر بھارت اور پاکستان کے ورکر ہوں گے۔ لیبر قواعد کے مطابق بھارت اور پاکستان کے ہزاروں اعلیٰ ہنر مند ورکرز ہنر مند تارکین ورکرز کے طور پر آئی ٹی،نیشنل ہیلتھ سروسزاور چھوٹے تجارتی اداروں کیلئے ویزا حاصل کرنے کے اہل ہیں۔ تارکین کی جانب سے چشم پوشی کا سب سے زیادہ فائدہ بھارت آئی ٹی کی صنعت میں مہارت کی وجہ سے اٹھاتاہے ،لیکن اب یہ صورتحال تبدیل ہوجائے گی۔تارکین پر پابندی کا یہ اعلان برطانوی شہریت حاصل کرنے والے برطانوی شہریوں پرانگریزی زبان پر عبور ثابت کرنے کیلئے انگریزی زبان کا ٹیسٹ پاس کرنے کی پابندی کے اقدام کے دوران سامنے آیا ہے۔اس فیصلے کااطلاق اس سال موسم خزاں سے ہوگا،اوراس سے زیادہ تر جنوبی ایشیائی ملکوں پاکستان،بھارت اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے شریک حیات متاثر ہوںگے۔ خیال کیا جاتاہے کہ اگلے سال اپریل سے تعلیم حاصل کرنے کیلئے برطانیہ آنے والے طلبہ کیلئے بھی شرائط مزید سخت کردی جائیں گی لیکن فنڈ کی قلت سے دوچار برطانوی تعلیمی اداروں نے حکومت سے کہا ہے کہ اگر غیر ملکی طلبہ کو روکا گیا تو وہ لاکھوں پونڈ کے فنڈ سے محروم ہوجائیں گے۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=445472

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha