لندن (پی اے) برطانیہ میں نان یورپی امیگرنٹ ورکرز کی آمد پر پابندی لگانے کے منصوبے کا انکشاف گزشتہ شب ہوا ہے تاہم اس سے قبل نان امیگرنٹ ورکرز کی تعداد کو محدود کیا جائیگا اور اس کو اگلے ماہ متعارف کرایا جائیگا۔ مجوزہ منصوبے کے تحت اپریل 2011ء سے قبل 24100 ایسے نان یورپی ورکرز کو برطانیہ آمد کی اجازت دی جائے گی جو انتہائی سکلڈ ہونے کے ساتھ تمام شرائط پر پورے اترتے ہوں۔ ہوم سیکرٹری تھریسامے پیر کو اس کا اعلان کریں گی۔ وہ مستقل پابندی کی سطح کا فیصلہ کرنے کے حوالے سے مشاورت کر رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مجوزہ مستقل پابندی سے قبل نان یورپی امیگرنٹس کی تعداد محدود کی جائے گی۔کنزرویٹوز کی جانب سے امیگریشن روکنے کا مطالبہ لب ڈیم کے ساتھ ایگریمنٹ میں شامل ہے۔ تاہم بعض ٹوری منسٹرز برنسز کے اس موقف سے اتفاق رکھتے ہیں کہ مکمل پابندی سے معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ پرائس واٹر ہائوس کوپرز کی جولیا آنسلوکول نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہ بات اہم ہے کہ ہم بزنسز کو یہ فری چوائس دیں کہ وہ اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق اوورسیز ایکسپرٹس کو لائیں۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز نیشنلز کو برطانیہ لانے والی کمپنیوں، فرمز کو ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ بلاوجہ پیسے خرچ نہیں کرتی ہیں۔
Jang
Recent Comments