کبھی ہمارے دامن میں محمد علی اور لیاقت علی جیسے لعل و جواہر تھے اور اب کہیں رشوت علی ہے کہیں سفارش علی اور کہیں کمیشن علی۔ محمد علی سرکاری خزانے سے ٹکے کے روا دار نہ تھے لیکن یہاں ایک ایک خادم کروڑوں میں پڑتا ہے۔ بابائے قوم کا پروٹوکول ذہن میں لایئے کہ زندگی کی آخری اور جان لیوا علالت کے دوران ایمبولینس جواب دے گئی تو سٹینڈ بائی بندوبست نہ تھا اور اب ان سیاسی بونوں کے تام جھام دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی فاتح عالم اپنی کسی مفتوحہ آبادی میں سے گزر رہا ہے۔ لیاقت علی خان نوابزادہ تھے لیکن کیسے؟ کہیں جرابیں چھدی ہوئیں تو کبھی بنیان پھٹی ہوئی اور میں آج تک حیران ہوں کہ انہیں کبھی بیرون ملک جائیدادیں خریدنے اور اکاؤنٹ کھولنے کا خیال کیوں نہ آیا؟ کبھی عبدالرب نشتر جیسے لوگ تھے اور اب سب کے سب خنجر، چھرے اور طمنچے جو کہتے کچھ ہیں، کرتے کچھ ہیں اور ان کے ننگے ترین بھیانک تضادات بھی عوام کو دکھائی نہیں دیتے۔ کہاں سہروردی کہاں نری وردی اور سیاست صرف پیسہ، شخصیت یا غنڈہ گردی اور عوام کی کل کمائی؟ اصلی مہنگائی اور جعلی ڈگری ہولڈر عوامی نمائندے۔ جیسا دودھ ویسا مکھن… جیسا بیج ویسی فصل… دو نمبر میں ایک نمبر لوگ کہ اسلاف نے صدیوں پہلے صاف صاف دو ٹوک کہہ دیا تھا کہ جیسی قوم ہو گی ویسے ہی حکمران ان پر مسلط کر دیئے جائیں گے۔
کھیر پکائی جتن سے
چرخہ دیا جلا
آیا کتا کھا گیا
تو بیٹھی ڈھول بجا
قوم جب جینوئن لوگوں کے ساتھ کھڑی ہوئی تو پاکستان پا لیا… جب دو نمبر لوگوں کو سر پر بٹھانے یا برداشت کرنے لگی تو آدھا ملک گنوا لیا لیکن سبق نہیں سیکھا اور اب امتحان سر پر ہے۔ ہو سکے تو پورا سبق سیکھو نہ سیکھو لیکن خدارا کسی ”گیس پیپر“ سے ہی کام چلا لو… اپنے حصہ کا تھوڑا بہت کام ہی کر لو… کہ اب تو سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کو حکم دے دیا کہ جعلی ڈگری والے تمام ارکان کے خلاف کارروائی کی جائے … عوام بھی کچھ کریں گے یا نہیں کہ دستیوں، چانپوں، پٹھوں اور گول بوٹیوں میں مصروف و مگن رہیں گے؟ کہتے ہیں سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں بہت سے ”ارکان“ نا اہل ہو سکتے ہیں اور سیاسی پارٹیوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ جیسی تباہی انہوں نے مل جل کر مچائی ہوئی ہے، اس کے نتیجہ میں ان کی جتنی بھی تباہی ہو وہ کم ہے کہ ان کی نورا کشتی کشتوں کے پشتے لگائے دے رہی ہے۔ ذرا غور فرمائیں ان جعلی اور اصلی ڈگری ہولڈرز نے ہمیں کہاں لا کھڑا کیا جہاں کہا جا رہا ہے کہ ”بابر اعوان غیر قانونی وزیر قانون ہیں“
”غیر قانونی وزیر قانون“ جیسی اصطلاح بھی ہم جیسے لوگ ہی ”ایجاد“ کر سکتے تھے اور یہ بھی ہمارے ہاں ہی ممکن ہے کہ لیڈی ٹریفک وارڈن ریڑھی بانوں سے سو روپیہ یومیہ ”جگا“ بلکہ ”جگی ٹیکس“ اور مفت پھل وصول کرے اور پھر مزاحمت کرنے پر ریڑھی بان کو چھری گھونپ دے۔ میں کوئی افسانہ نہیں سنا رہا اور نہ ہی کسی ڈرامہ کے سکرپٹ کا کوئی سین بیان کر رہا ہوں۔ یہ لاہور کے جوہر ٹاؤن چوک اللہ ہو کا سچا واقعہ ہے جو اخبارات میں رپورٹ بھی ہوا۔
بابائے قوم محمد علی جناح اور قائد ملت لیاقت علی خان سے شروع ہو کر موجودہ رنگ بازوں، ڈراموں، ٹھگوں اور وارداتیوں تک … جعلی ڈگری ہولڈر عوامی نمائندوں سے لے کر ”جگا ٹیکس“ وصولنے والی ٹریفک وارڈنز تک، اسمبلی میں ایک دوسری پر جنگلی بلیوں کی طرح جھپٹنے والی فوزیہ بہراموں اور ساجدہ میروں سے لے کر این آر او جیسے کارناموں تک یہ سب کچھ ہم سب کا کیا دھرا ہے جس کے ساتھ یہود و ہنود کی کسی سازش کا کوئی تعلق نہیں۔
ہماری ابتداء شاندار تھی لیکن اب جس انتہاء پر پہنچ چکے، اس کا اصل ذمہ دار کوئی اور نہیں ہم خود ہیں اس لئے ہمیں ”بلیم گیم“ سے نکلنا ہو گا کہ سیاستدانوں سے لے کر سرکاری افسران تک … ذخیرہ اندوزو منافع خور تاجروں سے لے کر وارداتیئے صنعت کاروں و سرمایہ داروں تک کوئی برا نہیں کہ اگر کروڑوں ووٹر مل جل کر بھی ان کا کوئی خاطر خواہ بندوبست نہیں کر سکتے تو بھوک اور بے عزتی ہی ان کا مقدر ہونی چاہئے اور ان میں سے کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ کسی پر انگلی اٹھائے کیونکہ اصل کہانی تو صرف اتنی ہے کہ
”مری بکل دے وچ چور“
ہم سے بڑا اور برا ہمارا کوئی دشمن اس دھرتی پر کسی ماں نے نہیں جنا اور تباہی و بربادی کے اس کھیل میں ہم پوری طرح خود کفیل ہیں
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=445348

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha