میں جب کبھی کوئی ایسی خبر پڑھتا ہوں جس میں ہمارے ملک کا کوئی اہم فنکار، تخلیق کار، گلوکار کسی ناگہانی بیماری کا شکار ہو کر عوام سے یاحکومت وقت سے مدد کا طالب ہوتا ہے، تو ایک گہرے رنج سے میرا دل کٹ ساجاتا ہے ،میں ایک دکھ بھری سوگواری کا شکار ہو جاتا ہوں لیکن جو بھی مدد کے طالب ہوتے ہیں ۔ان سب کے لئے میں یہ رنج محسوس نہیں کرتا۔ کیونکہ ان میں سے بیشتر نے ایک معاشی طور پر خوشحال زندگی گزاری ہوتی ہے۔ ان کے فن کی قدر نے انہیں مالی طور پر آسودہ کر رکھا ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اگر وہ ملک کے لئے اپنی فنکارانہ خدمات کے عوض میں مدد کے طالب ہوتے ہیں۔ تو اس میں اکثر ملک اور قوم کا نہیں ان کا اپناقصور ہوتا ہے ۔کہ انہوں نے ایک عام پاکستانی کی مانند برے وقتوں کے لئے کچھ پس انداز کیوں نہیں کیا۔ اور عین ممکن ہے کہ وہ اب بھی معاشی طور پر مستحکم ہوں۔ لیکن حکومت سے اور خلق خدا سے مزید معاونت چاہتے ہوں۔ تو ایسے فنکاروں کے لئے میں اپنے دل میں کوئی مقام نہیں رکھتا، بلکہ ایک کڑواہٹ میرے اندر جنم لیتی ہے۔ کہ وہ کسی حد تک عوام کے جذبات سے کھیل کر کچھ رقم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھار کسی ایسے فنکار کی زبوں حالی بھی منظر عام پر آتی ہے جس نے ایک مدت تک لوگوں کو تفریح مہیا کی ہو، وہ اپنے فن میں یکتا ہو اور قدرت کی جانب سے اسے بیماری یا تنگدستی کا سامنا کرنا پڑا ہو، اور واقعی وہ ہماری توجہ کا مستحق ہے۔ ببوبرال بھی ایک ایسا ہی فنکار ہے جو برے حالات اور بیماری کا شکار ہے ،اور اگر اس کی مناسب دیکھ بھال نہ کی گئی پرائیویٹ طور پر یا حکومتی سطح پر اس کے ساتھ تعاون نہ کیا گیا تو ہم اسے کھو بیٹھیں گے اور پھر اس کی یاد میں مگرمچھ کے آنسو بہا کر اپنے ضمیر کو مطمئن کر لیں گے۔
ایک زمانہ تھا جب وہ لوگ جو قومی سطح پر خاص طور پر فلم کے حوالے سے جانے پہچانے جاتے تھے ،وہ اپنی آمدنی بے دریغ خرچ کرتے تھے شاہانہ زندگی بسر کرتے تھے ،دوستوں پر دولت لگاتے تھے، ہمہ وقت آس پاس منڈلانے والے احباب کو دن رات نوازتے تھے۔ جس نے ایک ’’واہ‘‘ کی اس پر جو جیب میں موجود ہے نچھاور کر دیا ،اور ہم اس عہد کے مشہور لوگوں کو موردالزام بھی نہیں ٹھہراتے کہ ان زمانوں میں مشہوری کا ’’کلچر‘‘ ہی یہی تھا کہ سپرسٹار یا سپر ہیرو دریا دل اور دولت لٹانے والا ہوتا ہے۔ اور کچھ بھی پس انداز نہیں کرتا، کہ کل کس نے دیکھا ہے ۔ان میں سے بیشتر زمانے کی ناقدری کی وجہ سے نہیں اپنی ناعاقبت اندیشی کے باعث برے حالوں میں موت سے ہمکنار ہوئے۔ پرنس صادق علی جو کلکتہ کی فلم ضرورتوں کا سپرسٹار تھا اپنی رولز رائس سے اترتا تھا تو سٹوڈیو تک اس کے لئے ایک سرخ قالین بچھایا جاتا تھا ،آخری دنوں میں کراچی کے فٹ پاتھ پر سیکنڈ ہینڈ کپڑے فروخت کر کے پیٹ پالتا تھا ۔مینا شوری ’’لارا لپاگرل‘‘ اور آہو چشم راگنی کا کیا حال ہوا۔ وہ راگنی جو اپنی آنکھوں سے پورے ہندوستان پر راج کرتی تھی۔ میرے گھر کے نزدیک مکہ کالونی کے ایک سیلن زدہ کمرے میں بے آسرا مر گئی۔ علاؤ الدین کا کیا حال ہوا، ماضی کی کئی سپراداکارائیں ان دنوں ٹیلی ویژن پر چھوٹے موٹے کردار ادا کر کے گزر اوقات کرتی ہیں۔ لیکن پھر ایک ایسا وقت آیا کہ سپرسٹار اور گلوکار وغیرہ سیانے ہو گئے وہ پہلوں سے زیادہ دانش مند ہو گئے۔ کیونکہ انہیں احساس تھا کہ ان بہاروں میں ہمیشگی نہیں ہے۔ ہمیں خزاؤں کے لئے بھی کچھ پس انداز کرنا ہے۔ چنانچہ ایک خاص دور کے سٹارز کو دیکھئے کہ انہیں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی حاجت نہ ہوئی ۔بلکہ ضرورت مندوں نے ان کے آگے ہاتھ پھیلائے۔ اور انہوں نے دل کھول کر ان کی مدد کی ۔ایک بڑی مثال محمد علی کی ہے نہ صرف یہ کہ انہوں نے ایک پرسہولت زندگی گزاری،بلکہ بے شمار لوگوں کی درپردہ مدد بھی کی، فلاحی ادارے قائم کئے، اور ان کا چرچا بھی نہیں کیا۔ فیصل آباد میں فیکٹریوں کے مزدوروں کے بچوں کے لئے مفت تعلیم کا بندوبست کرنے کے لئے سکول کھولے آج میرے گھر کے قریب کی شاہراہ ’’علی زیب روڈ‘‘ کہلاتی ہے ۔اور لوگ ان کے گھر کے نزدیک سے گزرتے ہوئے اب بھی انہیں دعائیں دیتے ہیں۔ اس علی زیب روڈ پر گلبرک کی مشہور فرودس مارکیٹ بھی ہے۔ وحید مراد، ندیم، حبیب، شاہد یہ سب سٹار آسودہ رہے، اور انہیں کبھی کسی کی مدد کی ضرورت نہ پڑی ۔چنانچہ اب وہ فضول خرچی اور بے دریغ دولت لٹانے کا کلچر ختم ہوچکا ہے ۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہے اور ہر انسان کو چاہئے وہ کتنی ہی شاہانہ زندگی بسر کر رہا ہو، ہمہ وقت اللہ سے توبہ کا طلبگار ہونا چاہئے ۔کہ کسی بھی ناگہانی مصیبت کا نزول ہو سکتا ہے۔ بدنصیبی کا سایہ پڑسکتا ہے ،اور حالات بدل سکتے ہیں۔ کسی آزمائش سے دوچار ہونا پڑسکتا ہے ،تو ببو برال پر بھی ناگہانی مصیبتوں کا نزول ہو گیا ہے، ایک امتحان میں پڑ گیا ہے ایک آزمائش سے دوچارہو گیا ہے۔ اگرچہ میں صرف ایک بار اس سے ملا ہوں،جب وہ میرے ایک ٹیلی ویژن شو میں شرکت کے لئے آیا تھا ۔اور وہ ایک خوشگوار، حساس اور دانش مند شخص تھا اس کا تعلق میرے ننھیال گکھڑ منڈی کے ایک ایسے فنکار گھرانے سے ہے، جس کے بزرگوں کے روابط میرے زمیندار بزرگوں سے تھے اور وہ نہایت شاندار لوگ تھے۔ حس مزاح میں ان کا کوئی جوڑ نہ تھا۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ ببو برال کے ایک بزرگ انگریز بادشاہ کی تخت نشینی کی تقریب میں شامل رہنے کے لئے دلی گئے تھے۔ کہ وہ اعلیٰ پائے کہ جگت باز تھے جن سے کئی داستانیں منسوب ہیں۔ باکمال موسیقار نذیر علی بھی اسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔میں بھی ذاتی طور پر ببو برال کی حس مزاح اور اداکاری کا معترف ہوں، اگرچہ میں آج تک اس نوعیت کے کامیڈی ڈرامے دیکھنے کے لئے کسی تھیٹر میں نہیں گیا۔ لیکن میں نے اس کا مشہور زمانہ کھیل ’’شرطیہ میٹھے‘‘ درجنوں بار دیکھا ہے اور میں پہلے بھی کہیں اظہار کر چکا ہوں ،کہ یہ کامیڈی کھیل بین الاقوامی سطح کا ہے۔ بلکہ شاید ہی یورپی اور امریکی اس کھیل کے بے مثال مزاح تک پہنچ سکیں ۔میرے کئی دوست اس کھیل کے مکالموں کو دوہراتے رہتے ہیں ،اور وہ بھی ببوبرال کے مداح ہیں۔
ببو برال قربت مرگ میں ہے اور اسے بچایا جاسکتا ہے وہ خواہش کر رہا ہے، کہ کاش وہ مون مارکیٹ کے سانحے میں ہلاک ہوجاتا، تاکہ اس کے بیوی بچوں کو سرکاری امداد مہیا ہو جاتی۔ پاکستان میں وہ کونسا شخص ہے جو کبھی نہ کبھی ببو برال کے کسی فقرے پر مسکرایا نہ ہو۔ آج اسے اس مسکراہٹ کا قرض چکانا ہے ’’ببو برال کو بچانا ہے‘‘۔
http://www.dailyjinnah.com/?p=26243
Recent Comments