یقین سے تو نہیں کہا جاسکتا کہ آسمان پر چمکتے ستارے زمین پر دمکنے والے لوگوں کے نصیبوں سے کوئی تعلق رکھتے ہیں مگر ایک خاص تعداد ایسے لوگوں کی ہمارے درمیان ہے کہ جس کا اس موضوع پر ملک کے اندر اور باہر کاروبار چل رہا ہے جو لوگوں کو ستاروں کے حوالے سے ان کے نصیبوں کا حال بتاتے ہیں اور روزگار کماتے ہیں۔ وطن عزیز میں اس کا تعلق روحانیت سے جوڑنے کی جسارت بھی کرتے ہیں۔ یہ پیشہ صرف پسماندہ اور جاہل تیسری دنیا کے غریب ملکوں میں ہی نہیں اچھے خاصے پڑھے لکھے اور غریب ملکوں کو تہذیب فروخت کرنے والے مہذب معاشروں میں بھی یہ کاروبار چل رہا ہے۔ خاص طور پر مالیاتی بحران کے بعد اس کاروبار میں تیزی آئی ہے۔ مالی پریشانیوں، وباؤں اور عدم تحفظ کے ماحول میں اس کاروبار میں پھیلا ؤ کا آنا قدرتی ہے۔
جب اخبارات اور ٹیلی ویژن سکرینوں پر بتایا جاتا ہے کہ کوئی بزرگ مغربی دنیا کے روحانی دورے سے واپس آگئے ہیں اور وطن عزیز میں ضرورت مندوں کی خدمت کے لئے حاضر ہیں تو اندازہ ہوجاتا ہے کہ ہمارے سات سمندر پار انگلستان اور یورپ کے دوسروں ملکوں میں روزگار کمانے والے پاکستانیوں کی نیک دل اور فکر مند بیویوں نے جو اس وہم اور خوف میں مبتلا ہیں کہ مبتلا کردی گئی ہیں کہ سفید چمڑی والی وہاں کی عورتیں پاکستان کے شادی شدہ محنت کشوں کی زبردست خواہش رکھتی ہیں اور ان پر اپنے حسن و جمال کا جال پھینکنے میں دیر نہیں کریں گی اور اپنی زلفوں کا اسیر بنالیں گی چنانچہ پاکستانی محنت کشوں کی بیویوں کا سب سے پہلا فرض یہ ہوگا کہ روحانی دورے پر آئے ہوئے بزرگ سے اپنے سہاگ کو بچانے والا تعویذ خریدیں اور اپنا اور بچوں کا مستقبل محفوظ کرلیں چنانچہ وہ روحانی بزرگ جب اپنے روحانی دورے سے واپس جاتے ہیں تو ان کی مالی حیثیت معقول مقدار میں زرمبادلہ سے دو تین گنا زیادہ ہوچکی ہوتی ہے۔
ہمارے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے دانشور احمد بشیر مرحوم اس نورعیت کے فال،رمل،دلیل ، ہاتھ کی لکیریں پڑھنے اور ستاروں کے حالات بتانے والوں کو”ہرڑ پوپو“ کہا کرتے تھے مگر ان کے اپنے مسلک کے ایک عالمی شہرت کے دانشور ٹیڈگرانٹ کا یہ کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص تعصب ،تفاخر، پسند، ناپسند،خوف اور خواہش کی عینکیں اتار سکے تو بہت دور تک کے حالات اور معروضی حقائق تک پہنچ سکتا ہے مگر اتنی ساری عینکوں کو آنکھوں سے اتارنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوتا ہے جس طرح فوجی وردی جنرل پرویز مشرف کی سیکنڈ سکن یا دوسری چمڑی بن چکی تھی ویسے ہی بچپن سے آنکھوں پر سوار ہوجانے والی عینکیں بھی دوسری آنکھیں بن چکی ہوتی ہیں اور سیف المکوک والے میاں محمد بخش فرماتے ہیں۔
ڈھلی شیشی صاف عطردی تے فر بھرنی کیہ بھرنی
عین گئی فر کیہ محمد عینک نک پر دھرنی
اور آنکھوں کے دریچے بند ہونے کے بعد سینے کا درباز کرنے والی بات فیض احمد فیض ہی کرسکتے تھے اور بات کسی اور رخ چل پڑی ہے۔ آج قیامت کی نئی تاریخ کا ذکر کرنا چاہتا تھا جو ہمارے صحافتی ستارہ شناسوں یا ہرڑ پوپو حضرات کی طرف سے پھیلائی جارہی ہے۔ ایک زمانہ میں ”خفیہ والے “واقعی خفیہ والے ہوتے تھے، بے شمار لوگوں کو ان کی اصلیت معلوم نہیں ہوتی تھی مگر اب تک یوں لگتا ہے جیسے خفیہ والوں کا کچھ بھی خفیہ نہیں رہ گیا بلکہ انہوں نے لوگوں کا شک شبہ دور کرنے کے لئے اپنے سینوں پر ”خفیہ“کے بیج بھی آویزاں کردئیے ہیں اور اس پر فخر کرتے۔ باتوں باتوں میں حساس اداروں سے اپنا تعلق ظاہر کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ بلوچستان کے شہید لیڈر سردار اکبر خاں بگٹی کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ آسمان پر چمکنے والے ستاروں کی بجائے فوجی جرنیلوں کی وردیوں کے کندھوں پر دمکنے والے ستاروں کا علم رکھتے ہیں مگر ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس سے پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ بالا دعویٰ درست نہیں تھا۔ سردار اکبر بگٹی بھی ذوالفقار علی بھٹو جیسے گوشت پوست کے انسان ہی تھے۔
اوپر کہیں قیامت کی تاریخوں کا ذکر آیا مگر یہ قیامت اس دنیا فانی کی قیامت نہیں ہے۔ یہ قیامت قومی سیاست کی قیامت ہے ۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ قومی سیاست میں تبدیلی لانے والی قیامت دسمبر2009ء میں آئے گے پھر تاریخ خود بخود آگے چلی گئی، جنوری، فروری اور مارچ کے مہینوں میں پہنچ گئی۔ اب ستا روں شناس اور”ہرڑ پو پو“ اکیس جولائی کا نام لیتے ہیں مگر پورا یقین کسی کے لہجے میں بھی نہیں ہے۔ یقین ہو بھی نہیں سکتا ترسیٹھ سالوں کی قومی زندگی میں کم ا ز کم34سال براہ راست فوجی حکومتوں کے قبضے میں ر ہے، چنانچہ یہ شبہ بے بنیاد نہیں ہوسکتا کہ فوجی حکومتوں میں ”موجاں ہی موجاں“کرنے والے چاہتے ہوں گے کہ”دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو“ لیکن وقت کی گاڑیاں چلانے والوں کے ارادے نیک معلوم ہوتے ہیں وہ سب یہ چاہتے ہیں کہ جمہوریت اپنی پٹڑی پر چلتی رہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر انقلابی تبدیلیاں رونما ہونے کو بے چین دکھائی دیتی ہیں اور وطن عزیز کے حکمران سیاستدان اور عسکری رہنما ملک کی سب سے بڑی ملک اور قوم کی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں اور اس جنگ میں اپنی زندگیوں کے نذارنے پیش کررہے ہیں قیامت کی نئی اور پرانی تاریخوں کی باتیں کرنے والے اس جنگ میں منفی انداز میں دخل دینا چاہتے ہیں ۔ حالات جنگ کے درمیان فوجی، سیاسی گھڑ سواروں کے گھوڑے تبدیل کرنے کی باتیں کرنا پورس کی فوج پر پورس کے ہاتھیوں کا حملہ کردینے کے مترادف ہے۔اس نوعیت کی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی جب حکمرانوں کے سارے حصہ دار اس نوعیت کی سازشوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور صلاحیت کے ساتھ ان کا ارادہ، کوشش اور خواہش بھی شامل ہو تو ملک اور قوم کی سلامتی کی جنگ میں ”ہرڑ پوپو“ اپنا کوئی کردار ادا نہیں کرسکتے۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=442883

ستارے کیا کہتے ہیں؟.- منوبھائی

11 thoughts on “ستارے کیا کہتے ہیں؟.- منوبھائی

  • 24/11/2011 at 8:40 pm
    Permalink

    sir i am shahid from hyderabad pls me shadi ke bare me pata krna chahta ho kab ho ge

    Reply
  • 06/12/2011 at 7:00 pm
    Permalink

    mera setara kon sa hai or meri kamyabi kis kam me hai

    Reply
  • 02/03/2012 at 4:20 pm
    Permalink

    mera name m wahab he me khushab me mera ghar he ab me karachi me kaam karta hoo mene apna setara neklwana he?

    Reply
  • 09/07/2012 at 11:44 pm
    Permalink

    mera setara keya kehta ha

    Reply
  • 31/08/2012 at 8:44 am
    Permalink

    mera setara keya kehta ha

    Reply
  • 31/08/2012 at 8:45 am
    Permalink

    mera Serara kunsa ha.
    mera Date of Birthe ha 09/09/1965

    Reply
  • 01/05/2014 at 8:37 am
    Permalink

    mwer setara kon sa hain date of bith 1992

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.

%d bloggers like this: