پاکستان کے نئے وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے اپنا پہلا اور موجودہ حکومت کا تیسرا بجٹ برائے مالی سال 2010-11ء 5جون کو قومی اسمبلی کے روبرو پیش کیا‘ جو دراصل پہلا بجٹ ہے جسے نئی نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے تحت پیش کیا گیا ہے لہٰذا بہت سے تجزیہ کاروں‘ماہرین‘ تجارتی تنظیموں اور معاشرے کے دیگر طبقات کو‘ اسے سمجھنے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں اس بجٹ کے حوالے سے جو مختلف نوعیت کے تبصرے کئے جارہے ہیں وہ اسی غلط فہمی کا نتیجہ ہیں چنانچہ ایسی ہی ایک بڑی غلط فہمی ‘ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مختص کی جانے والی رقوم کے حجم کی بابت بھی موجود ہے۔
ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی بجٹ تقریر کئی اعتبار سے غیر روایتی تھی ۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ ان کی تقریر کا نصف سے بھی زائد حصہ فی البدیہہ تھا جو بجٹ میں اُن کی خود اعتمادی کا مظہر ہے۔ ورنہ آج تک پاکستان کے کسی بھی وزیرخزانہ نے لکھی ہوئی بجٹ تقریر سے سرمو انحراف نہیں کیا۔ دوسری بات یہ کہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے‘ اپنے پارلیمانی ساتھیوں کو‘ افراط زر کی وضاحت کرتے ہوئے۔ قرضوں کے بوجھ کی بابت بتاتے ہوئے اور اس صورت حال سے ملکی معیشت کو باہر نکالنے کی تدابیر سے آگاہ کرتے ہوئے معیشت کے بارے میں متعدد باتوں سے بھی آگاہ کیا۔ تیسری بات یہ کہ انہوں نے اپنی حکومت کی ناکامیوں کے اعتراف اور انہیں تسلیم کرنے میں ذرا بھی تذبذب سے کام نہیں لیا‘ جو گزشتہ دو برس کے عرصے میں اس سے سرزد ہوئی ہیں اور اپنے اس پختہ عزم کا اظہار کیا کہ وہ ان مسائل کا حل تلاش کرکے رہیں گے۔ چوتھے یہ کہ پبلک سیکٹر انٹرپرائزکی کارکردگی پر انہوں نے انتہائی سخت تنقید کی ہے اور اس نقصان کا تذکرہ کیا ہے جو اس کی خراب کارکردگی کی وجہ سے ملکی معیشت کو پہنچا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے درحقیقت انہوں نے اپنی ہی حکومت کو بالواسطہ تنقید اور نکتہ چینی کا نشانہ بنایا ہے کہ اُس نے ان انٹرپرائزز کو غیر پیداواری اور غیر تعمیری کارکردگی کا ایک ذریعہ بنا کر رکھ چھوڑا تھا۔ پانچواں یہ کہ انہوں نے اپنے پیشرو کو شدید اور کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اندھا دھند غیر ملکی قرضے حاصل کرکے پبلک ڈیٹ کو مختصر سی مدت کے اندر دُگنا کردیا ہے۔ واقعی سچ کو سچ کہنا بڑی ہمت اور دل گردے کی بات ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں ہی وہ واحد شخص نہیں ہوں جس نے ہمیشہ اس قسم کی غیر ذمہ درانہ حرکات پرتشویش کا اظہار کیا ہے اور اس قسم کے اندھادھند قرضوں کے حصول اور پبلک ڈیٹ کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔2010-11ء کا بجٹ اس نقطہٴ نظر سے پیش کیا گیا ہے کہ ایک ذمہ دارانہ معیشت اور مالی انتظام کے لئے نئی سمتوں کا تعین کیا جائے لہٰذا یہ بجٹ گزشتہ دو مالی سالوں کے بجٹ سے ان معنوں میں مختلف ہے کہ اس میں موجودہ معاشی اور اقتصادی مسائل کو حل کرنے کی غرض سے مسلسل کوششوں کی نیت کا سراغ ملتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ معاشی مسائل میں‘ روز بروز تنزل پذیر سرمایہ کاری‘ ست رو شرح نمو‘ بڑھتی ہوئی بے روز گاری اور غربت کے علاوہ دو عددی افراط زر ‘ قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ ‘ گرتی ہوئی شرح مبادلہ‘ توانائی کی بدانتظامی اور نجی شعبے کا کم ہوتا اعتماد شامل ہیں۔
ان تمام مسائل کو حل کرنے کی غرض سے پہلا اور ضروری اصول جو سرفہرست ہے۔ اس کا تعلق معیشت کے استحکام اور مضبوطی سے ہے یعنی سب سے پہلے ہمیں اپنی معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔ میکرو اکنامک استحکام سب سے پہلی شرط ہے جو شرح نمو کو آگے بڑھانے میں اہم ترین کردار ادا کرتی ہے۔ چنانچہ معیشت کا استحکام اس بجٹ کا اصل مقصد اور منشاء ہے ۔ اس بجٹ کے ذریعے حکومت چاہتی ہے کہ افراط زر کی شرح کم ہو تاکہ ملک کا غریب طبقہ سکون اور اطمینان کا سانس لے سکے۔ بجٹ خسارے کو مجموعی قومی پیداوار کے چار اعشاریہ صفر فیصد تک رکھ کر حکومت کے اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ جڑواں خسارے یعنی (بجٹ اور کرانٹ اکاؤنٹ) کو کم کرکے قرضوں کی صورت حال پر قابو پانے کی خواہشمند ہے۔ خسارے میں یہ کمی اور قرضوں کے بوجھ میں یہ تخفیف شرح سود پر سے دباؤ کوختم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی جس کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو اپنے ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی کا موقع مل سکے گا۔ ترقی کی شرح میں اضافہ ہوگا اور ملازمت کے تعمیری مواقع فراہم ہوسکیں گے۔
موجودہ بجٹ کے ذریعے معیشت کے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ حکومت نے ملک کے غریب اور تنخواہ دار طبقات کو بھی فراموش نہیں کیا۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مختص کی جانے والی رقومات کو 46 بلین روپوں سے بڑھا کر 50 بلین روپے کردیا گیا ہے۔ جس سے چار ملین خاندانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ یہ نقد رقوم کی منتقلی کا ایسا پروگرام ہے جو صرف ملک کے غریب اور نادار طبقوں کے لئے جاری کیا گیا ہے تاکہ ان کی مشکلات میں کمی واقع ہو‘ جو افراط ذر اور مہنگائی کے نتیجے میں پیدا ہوگئی ہیں۔ سرکاری ملازموں کی بنیادی تنخواہ میں پچاس فیصد تک غیر متوقع اضافہ بھی کردیا گیا ہے۔ پنشنرز کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا اور پینشن کی رقم میں بھی پندرہ تا بیس فیصد اضافہ کردیاگیا ہے۔ اس بجٹ میں نجی شعبے کے اہم کردار کا بھی اعتراف کیا گیا ہے جو وہ شرح نمو میں اضافے اور ملازمت کے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے ادا کررہا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ ایسا سازگار ماحول پیدا کرے جس کی مدد سے ملک کا نجی شعبہ صحیح پالیسیوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے فزیکل اور ہیومن انفرااسٹرکچر کی تعمیر میں سرمایہ کاری کے قابل ہوسکے۔ فی الوقت حکومت متعدد پبلک سیکٹر انٹرپرائزز میں فعال حصہ لے رہی ہے جن میں پیپکو‘ پی آئی اے‘ ریلوے‘ پاکستان اسٹیل‘ پاسکو‘ ٹی سی پی‘ این ایچ اے اور یوٹیلٹی اسٹورز وغیرہ شامل ہیں۔ بہر نوع پبلک سیکٹر کے یہ سبھی ادارے غیر مستعد اور بدنظمی کا شکار ہیں اور قومی خزانے پر بوجھ ہیں۔کیا پاکستان جیسا غریب ملک ”اپنے بجٹ“ سے 245 بلین روپے خرچ کرکے ان اداروں کو زندہ رکھنے کا متحمل ہوسکتا ہے؟ اس سوال کا واضح جوا ب ہے ”ہرگز نہیں“؟؟… ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے وعدہ تو کیا ہے کہ وہ ان اداروں کو فعال بناکر مالی اعتبار سے اپنی اصلاحات کے ایجنڈے میں شامل کریں گے لیکن دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ اس قسم کے اداروں کے ڈھانچے کی تعمیر نو کرکے انہیں مالی طور پر قابل عمل نہیں بنایا جاسکا لہٰذا اس کا ایک ہی حل ہے کہ ان اداروں کو فوری طور سے نجی شعبوں کو فروخت کردیا جائے کم از کم اس طرح قومی خزانے پر 245 بلین روپوں کا بوجھ تو کم ہوگا جسے دیگر ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جاسکے گا۔ یہ بات بہر طور قابل افسوس ہے کہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ان اداروں کو پرائیویٹائزیشن کا اپنی بجٹ تقریر میں کوئی ذکر نہیں کیا۔ بہر کیف ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور ان کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس نے ایک ایسا مستحکم بجٹ ان دشواریوں اور مسائل کے باوجود پیش کرکے دکھادیا۔ یہ بجٹ میرے اُن خیالات کے عین مطابق ہے جو 11 اور 25مئی 2010ء کے کالموں میں ظاہر کئے گئے ہیں۔ موجودہ معاشی مسائل کو حل کرنے کا اس سے بہتر طریقہ اور کوئی نہ تھا۔
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=439994
Recent Comments