ڈاکٹر اکبر احمد کی تازہ ترین تصنیف”امریکہ کا سفر: اسلام کو درپیش چیلنج“(Journey into America) ایک بروقت‘ جرأتمندانہ اور نہایت اہمیت کی حامل کتاب ہے۔ یہ 9/11 کے بعد امریکہ میں مقیم مسلمانوں کو پیش آنے والے تجربات پر مشتمل غیر معمولی روداد ہے جس میں 6 سے 7 ملین آبادی کی مضبوط مسلم کمیونٹی اور مجموعی امریکی معاشرے سے اس کے مقابلے کی تصویر کشی کرتے ہوئے قومی شناخت کو درپیش چیلنج کے تناظر میں باہمی ڈر اورخوف کے ساتھ ساتھ مشترکہ امنگوں کا بھی گہرا مطالعہ کیا گیا ہے۔ فی الوقت امریکی یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر اکبر احمد کی موجودہ تصنیف دراصل ان کی پہلے شائع ہونے والی ایک اور کتاب (Journey into Islam) ہی کا ایک تسلسل ہے۔ انہوں نے ریسرچ کرنے والی ٹیم کے ہمراہ جس میں مختلف زبان بولنے والے نوجوان شامل تھے‘ سال بھر تک امریکہ کے طول و عرض میں 75 شہروں کا سفر کیا اور اس دوران عوام کے مختلف طبقات کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور سو سے زائد مساجد کا دورہ کیا۔ اس دورے کے نتیجے میں ان کے سامنے امریکہ کی ایک پیچیدہ تصویر ابھر کر آئی جسے دیکھ کر مصنف نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ امریکی معاشرہ ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ جہاں اسے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اسی راستے پر چلنا چاہتا ہے جو اس نے 9/11 کے بعد اختیار کیا تھا یا پھر اپنا پرانا راستہ تبدیل کرنے کا خواہشمند ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکیوں کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ امریکہ کو اس تصور کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں جس کا خواب ان کے بانیوں نے دیکھا تھا یعنی اپنی روح میں آفاقی نوعیت کا حامل ایسا ملک جو تحمل‘ رواداری اور برداشت پر عمل پیرا ہو یا پھر اس کے برعکس وہ نائن الیون کے بعد سامنے آنے والے امریکی لیڈروں جارج بش اور ڈک چینی کی جارحانہ‘ خود پرستانہ اور پراسرار‘ مشکوک پالیسیوں پر عمل درآمد جاری رکھنے کے خواہشمند ہیں۔ ڈاکٹر اکبر احمد نے جس امریکہ کا مشاہدہ کیا ہے وہاں ان کے بقول مختلف امریکی طبقات اور برادریوں کے اندر اور ان کے مابین افہام و تفہیم اور اعتماد میں فاصلے برابر بڑھتے جارہے ہیں۔ اس طرح ان کی یہ تحقیقی کتاب قاری کے روبرو قدیم روایات اور تعصبات کا پردہ چاک کرتی ہے۔ انہوں نے امریکی معاشرے میں دو متوازی قوتوں کا سراغ لگایا ہے جو ایک دوسرے کو استعمال کرتی رہتی ہیں۔ میڈیا کی جانب سے اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ وابستہ کرنے کی کوششوں سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکی معاشرہ اب تک مسلمانوں کو صحیح طور سے سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔ اس مخالفت میں سرکاری اعداد و شمار مزید پیچیدگی پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ امریکہ میں آباد مسلم کمیونٹی آپس میں تقسیم ہوچکی ہے۔ وہ قیادت سے محروم اور اپنی ذات کے حوالے سے خوف اور شکوک میں مبتلا ہے۔اندازاً مسلم کمیونٹی کا ایک تہائی حصہ افریقی امریکیوں جب کہ بقیہ ایک تہائی آبادی بالترتیب جنوبی ایشیاء اور عرب دنیا سے تعلق رکھتی ہے۔ ڈاکٹر اکبر احمد کا کہنا ہے کہ اندرونی بحران کا سامنا کرنے میں اس کی نااہلیت نے اسے بے اختیار اور مفلوج بنا کر رکھ دیا ہے۔ تاہم مایوسی کے ماحول میں بھی وہ روشنی کی ایک کرن تلاش کرلیتے ہیں۔ ان کے بقول آج امریکی معاشرے میں مسلمانوں کی حیثیت پر غور کرکے اس مسئلے کو حل کیا جانا چاہئے۔
مقابلے اور مسابقت کا اثر و رسوخ جس نے امریکی شناخت کی صورت گری کی ہے‘ اس حوالے سے ڈاکٹر اکبر احمد نے 17 ویں صدی کے پہلے حقیقی سفید فام امریکی باشندوں کی اصل شناخت کا سراغ لگایا ہے‘ اینگلو سکسین پروٹسٹنٹ فرقے کے ان آباد کاروں نے جس معاشرے کا تصور اور وژن پیش کیا تھا وہ انصاف پرمبنی ایک ایسے چارٹر پر قائم کیا گیا تھا جس کا اطلاق مقامی امریکی باشندوں اور افریقہ سے جبراً لائے گئے لوگوں کے برعکس صرف اور صرف عیسائیوں پر ہوتا تھا۔اس دور سے ایک ایسی ثانوی شناخت بھی ابھرتی ہے جس کا تعلق روایات سے بہت گہرا ہے اور جو اس بات کی پیشگی اطلاع دیتی ہے کہ امریکہ کے بانیوں کا وژن مساوات‘ تمام شہریوں کے لئے یکساں عزت و احترام ‘ جمہوریت‘ مذہبی آزادی اور غلامی کو مسترد کرنے پر مبنی ہوگا۔ڈاکٹر اکبر احمد نے ایک تیسری شناخت کی نشاندہی بھی کی ہے جس کی جڑیں سترھویں صدی میں پوشیدہ ہیں۔ ایسی غارت گر شناخت ہے جس کی نظر میں تمام مقامی امریکی باشندے اس لائق ہیں کہ انہیں نیست ونابود کردیا جائے‘ غلامی بھی اس کے نزدیک جائز تھی۔ اس شناخت نے عدم رواداری اور عدم برداشت کو جنم دیا۔ جس کے مطابق معاشرے کو درپیش کسی بھی قسم کے خطرے کو بھرپور قوت کا استعمال کرکے مستقل طور پر ختم کردیا جانا ضروری ہے۔ درد مندی کو کمزوری اور سمجھوتے کو شکست کے مترادف گردانا جاتا تھا۔
ڈاکٹر احمد کے مطابق نائن الیون کے بعد اسی پالیسی کو اختیار کیا گیا جب امریکہ نے صدر بش کی قیادت میں دو جنگیں مسلط کردیں اور ایک ایسا راستہ اختیار کیا جس پر چل کر اسے خود اپنے ہی قوانین اور تصورات پر سمجھوتہ کرتے ہوئے گوانتاناموبے میں قوم کی سلامتی کے نام پر اذیت رسانی کا جواز ڈھونڈنا پڑا۔ عراق پر قبضہ پیٹریاٹ ایکٹ کی تشکیل اور حراست کے خفیہ مراکز کاقیام ایسے اقدامات تھے جن کا اصل سرچشمہ یہی جارحانہ پالیسی تھی۔
چنانچہ غیر معمولی جارحانہ حب الوطنی امریکی نفسیات میں گہرائی تک اتر چکی تھی‘ جس کا مقصد کسی بھی تباہی یا بربادی کی صورت میں نہایت سخت اور وحشیانہ ردعمل کا اظہار کرنا تھا ڈاکٹر احمد کہتے ہیں کہ پوری امریکی تاریخ اس ردعمل سے بھری پڑی ہے‘ خواہ وہ مقامی امریکیوں کے خلاف بے رحمی کا برتاؤ ہو یا نائن الیون کے بعد مسلمانوں کے خلاف ردعمل کا اظہار ہو۔بارک اوباما کے انتخاب سے یہ تاثر قائم ہوا تھا کہ امریکہ اپنے بانیوں کے تصور کو ایک بار پھر اپنا لے گا لیکن اب تک ایسا نہیں ہوسکا۔ حقیقت یہ ہے کہ تین مختلف شناختیں آج کے امریکی معاشرے میں پوزیشن کے حصول کی جنگ میں مصروف ہیں۔ جب تک یہ تینوں مسابقتی شناختیں آپس میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرلیتیں اس وقت تک امریکہ اپنی مسلم آبادی اور اسلامی دنیا سے اعتماد اور آبرو کا رشتہ قائم نہیں کرسکتا۔ چنانچہ ڈاکٹر اکبر احمد نے امریکہ سے استدعا کی ہے کہ وہ عالم اسلام کے ساتھ اپنی مشکلات کا خاتمہ کردے۔ اس کا اعتراف کرے کہ کیسے اس کی خارجہ پالیسی بیرون ملک اور اندرون ملک پرتشدد انتہا پسندی پھیلانے میں کردار ادا کررہی ہے اور عالم اسلام کو درپیش مسائل کے منصفانہ حل کو فروغ دے۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=439993

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha