جب اچھی خبروں کا قحط ہو تو آدمی اس خبر میں بھی خوشی ڈھونڈنے لگتا ہے کہ کرپشن کے مقابلہ میں پنجاب بری طرح ہار گیا کیونکہ اس ”میچ“ میں خیبر پختونخواہ پہلے اور پنجاب آخری نمبر پر ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ پنجاب مقابلہ سے ہی باہر ہے۔ ”مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا“ کیونکہ قیام پاکستان کے بعد چند میدانوں میں ہی تو ہم نے جھنڈے گاڑے ہیں جن میں اول آبادی میں اضافہ دوم کرپشن سوم مہنگائی اور چوتھا نمبر انتہا پسندی کا ہے جس کو قوت برداشت میں کمی بھی کہا جاسکتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ ایک اچھی خبر آئی بھی تو بری خبر میں لپٹی ہوئی کہ خیبر پختونخواہ بھی تو اپنا ہے اور اگر کرپشن کو مرض سمجھیں تو معاملہ کچھ یوں ہوگا جیسے کوئی اس بات پر خوش ہو کہ اس کے تمام اعضا کینسر کی لپیٹ میں ہیں… صرف ”دل“ اس موذی مرض سے نسبتاً محفوظ ہے۔ اس خوشخبری کے رنگ میں جس طرح برادر عزیز رؤف کلاسرا نے بھنگ ڈالی ہے اس کا بھی جواب نہیں اور اگر کرپشن کی تعریف کو مزید جامع کر لیا جائے تو فیصلہ کرنا ناممکن ہوگا کہ کون زیادہ کرپٹ ہے؟ عوام یا حکام؟ یہ علیحدہ بات کہ جس کا منہ یا جبڑا جتنا بڑا ہے اسکا ”چک بھی اتنا ہی بڑا ہے۔ حصہ بقدر جثہ والی بات ہے کہ کرپشن تو ہمارا کلچر بلکہ معاف کیجئے قومی کریکٹر بن چکا۔ پریذیڈنٹ سے پٹواری تک کون ہے جس پر انگلی نہیں اٹھتی؟ اس حمام میں ہم سب ہی ”سیاہ پوش“ ہیں۔ فرق ہے تو صرف اتنا کہ کسی نے کالا سوٹ پہنا ہے، کسی نے کالی واسکٹ یا شیروانی اور کسی نے کالا شلوار قمیض۔ اس موضوع پر ہماری ”تخلیقی صلاحیتیں“ بے نظیر ہیں۔ بے نظیر کیونکہ شہید ہیں اس لئے اس کے لئے بے مثال کا لفظ استعمال کرنا بہتر ہوگا تاکہ کوئی کنفیوژن نہ ہو۔ چند روز پہلے ہی مجھے کسی نے بتایا کہ مسجدوں میں استعمال ہونے والی بوسیدہ صفیں بہت کارآمد ہوتی ہیں کیونکہ مہربان انہیں کرش (Crush)کرکے رنگنے کے بعد چائے کی پتی میں ملا کر بیچتے ہیں تاکہ چائے پینے والوں کو ثواب پہنچے۔ ایسے ”ایمان افروز“ ماحول و معاشرہ میں اگر کوئی کرپشن کو کنٹرول تو کیا کسی حد تک بھی کم کرسکے تو اسے فراخ دلی سے کریڈٹ دینا چاہئے اور میں شہباز شریف کو یہ کریڈٹ ضرور دوں گالیکن اس کے ساتھ یہ اطلاع بھی کہ ایک پاکستانی نژاد امریکن ڈاکٹر (آئی سپیشلسٹ) جو اپنے ڈاکٹر باپ سے ملنے والے مختلف ویلفیئر پراجیکٹس امریکہ میں بیٹھ کر فنانس کر رہا تھا… کامیابی سے چلا رہا تھا آج کل پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی سڑکوں پر حصول انصاف کے لئے جوتے چٹخا رہا ہے۔ اس بے وقوف شخص ڈاکٹر احمد جاوید نے مختلف جگہوں پر سرمایہ کاری کر رکھی تھی تاکہ ان سے حاصل شدہ منافع سے ”سکینہ طفیل ٹرسٹ“ چلاتا رہے لیکن پھر وہ مختلف نوسر بازوں کے ہاتھوں لٹتا چلا گیا جس کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔
شیئر اینڈ سٹاک بزنس کے نام پر ساہیوال کے تین معزیزین نے اس سے لاکھوں روپے ہتھیالئے۔ ان میں ایک پولیس کی حراست میں بھی ہے لیکن ریکوری صفر اور وجہ صاف ظاہر ہے۔
ڈاکٹر صاحب کے ویلفیئر ہسپتال سے ملحقہ جگہ پر ایک ریٹائرڈ فوجی بطور کرایہ دار آیا(کرایہ بھی ٹرسٹ پر خرچ ہوتا) پھر یہ قابض ہوگیا۔ ساڑھے تین سال بعد عدالت نے بیلف کے ذریعہ قبضہ تو واپس دلوا دیا لیکن لاکھوں روپے کی ریکوری کیسے ہو؟ کرپشن سے پاک پنجاب میں کسی کے پاس اس کا جواب نہیں۔ ملزم ”اشتہاری“ ہے لیکن بااثر ہونے کے باعث کھلا پھرتا ہے۔
ویلفیئر کے شوقین اس آئی سپیشلسٹ نے 45000ڈالر فاریکس میں بھی یہ سوچ کر Investکر رکھے تھے کہ یہ منافع بھی ویلفیئر کے کاموں پر خرچ ہوگا۔ اب ڈاکٹر صاحب کے پاس رقم کی بجائے نیب (NAB)کی عطا کردہ ایک رسید اور یہ فرمان ہے کہ جب کبھی وصولی ہوگی آپ کی رقم آپ کو واپس مل جائے گی۔
مختصراً یہ کہ تقریباً 70لاکھ روپیہ مختلف جگہ پھنسانے کے بعد یہ پاکستان نژاد امریکن ڈاکٹر سر پکڑ کر بیٹھا اپنے اجڑے ہوئے ”فلاحی کاموں“ کو دیکھ دیکھ سوچ رہا ہے کہ کن ڈکیتوں میں پھنس گیا۔
کمال اور زوال کی یہ آخری حد بھی ملاحظہ ہو کہ امریکن کانگریس مین مسٹر روڈنی نے پاکستان میں امریکی سفیر مس پیٹرسن کو لکھا کہ ڈاکٹر صاحب کی مدد کی جائے لیکن ڈاکٹر صاحب نے یہ سوچ کر سفیر سے رابطہ نہیں کیا کہ اس کو کیا بتائے گا کہ کن لوگوں کے ہاتھوں کہاں لٹ گیا… اپنے ہی ہم وطنوں کے ہاتھوں اپنے ہی وطن میں لٹ گیا، بندے بھی پکڑے گئے لیکن ریکوری کی کوئی صورت نہیں اور یہی ہماری اصل صورت ہے۔
ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ نے انٹرنیشنل فاؤنڈیشن نامی NGOکو ایک کروڑ عطیہ دیا تھا۔ ہمارے ڈوبتے فلاحی منصوبوں کو بچانے کے لئے گورنمنٹ فنڈ سے ہمیں ہماری رقم دیدی جائے جو حکومت نیب (فاریکس) اور دیگر نوسر بازوں سے خود وصول کر لے۔
ڈاکٹر کی کہانی سن کر جی تو چاہا تھا کہ اس کو دھکے دے کر گھر سے نکال دوں لیکن چائے شائے پلا کر اس وعدوں کے ساتھ رخصت کر دیا کہ تمہاری فریاد ”چوراہا“ میں لٹکا دوں گا باقی تمہاری قسمت۔
ڈاکٹر احمد کا نمبر ہے…0333-4460826
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=439194
Recent Comments