جب کبھی کسی انٹرویو لینے والے نے مجھ سے پوچھا کہ ”اگر آپ کو دوبارہ زندگی ملے تو آپ کیا بننا پسند کریں گے؟“ تو میں نے ہر بار یہی جواب دیا کہ ”میں دوبارہ زندگی وہی پسند کروں گا جو زندگی میں نے گزاری ہے۔“ میں انہیں بتاتا ہوں کہ اپنے اولین اخبار کے میگزین سیکشن میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران میں نے بائیس بائیس گھنٹے بھی کام کیا ہے اور ان بائیس گھنٹوں کے دوران ”لک“ سیدھا کرنے کے لئے میں کاپی جوڑنے والی میز پر چند لمحوں کے لئے لیٹ بھی جایا کرتا تھا لیکن جب اخبار چھپ کر آتا تھا تو اس میں اپنی کاوش کی فراوانی اور کامرانی دیکھ کر میری ساری تھکاوٹ دور ہو جاتی تھی۔ ہفتے کے درمیان میں جو قدرے فراغت کے دن ہوتے تھے، میں رات رات بھر جاگ کر لکھنے پڑھنے کا کام کرتا تھا اور میری بیشتر تصنیفات اور ٹی وی ڈرامہ سیریلز اسی دور سے تعلق رکھتی ہیں تاہم مجھے اس محنت میں بھی مزا آتا تھا کہ تخلیقی بھڑاس نکلتی تھی اور اس کے بعد میں پرسکون ہو جاتا تھا۔ میں نے کالج میں بچوں کو بھی پڑھایا، اخبار میں باقاعدگی سے کالم بھی لکھا، شاعری بھی کی، ایک معتبر ادبی جریدے کی بنیاد بھی رکھی، یورپ میں پاکستان کی سفارتکاری کا اعزاز بھی مجھے حاصل ہوا اور مجھے ان میں سے کوئی کام بھی تھکا دینے والا محسوس نہیں ہوا بلکہ اس حوالے سے ملنے والی کامیابیاں مجھے تازہ دم کرتی رہی ہیں۔ مال و دولت کی مجھے کبھی خواہش نہیں رہی، میں اپنے خاندان کے صدیوں پرمحیط علمی دینی اور رشد و ہدایت کے چشمے کے کنارے بیٹھا اس سے سیرابی کی دعا مانگتا رہتا ہوں۔ خدا نے میری ساری دنیاوی ضرورتیں بھی پوری کی ہیں مگر میں اس وقت بھی خوش اور مطمئن تھا جب میرے پاس 50 سی سی ہونڈا ، اس میں پٹرول ڈلوانے کے پیسے، سگریٹ کا ایک کارٹن اور باقی ضروریات کے لئے محدود رقم ہوتی تھی۔ میں نے فقیری میں امیری اور امیری میں فقیری کے مزے لوٹے ہیں۔ چنانچہ جب کبھی کسی انٹرویو لینے والے دوست نے پوچھا تو میں نے یہی جواب دیا کہ مجھے دوبارہ وہی زندگی چاہئے جو میں نے اب تک گزاری ہے۔
لیکن یہ پرانی بات ہے، اب اگر کوئی مجھ سے یہ سوال پوچھے تو میرا جواب اس سے بالکل مختلف ہوگا کیونکہ اگر مجھے دوبارہ زندگی ملتی ہے تو میں اس بار ہمیش خان بننا پسند کروں گا۔ وہی ہمیش خان نہیں جو بنک آف پنجاب کا چیئرمین تھا، بلکہ میری خواہش موجودہ ہمیش خان ، معاف کیجئے عالی مرتبت ، عزت مآب جناب ہمیش خان بالقابہ بننے کی ہے۔ بنک آف پنجاب کے چیئرمین کو تو وہ پروٹوکول کبھی ملا ہی نہیں تھا جو انہیں اربوں روپوں کے فراڈ کے الزام کے بعد ملنا شروع ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے ان کا بطور چیئرمین ذکر بہت بے احتیاطی سے کیا جبکہ موجودہ ہمیش خان کے لئے عالی مرتبت اور عزت مآب کے القابات بھی مجھے کم محسوس ہو رہے ہیں۔ ان کی مالی مرتبتی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ فراڈ کے الزام کے باوجود وہ پاکستان سے امریکہ اس طرح پہنچ گئے جیسے سرکاری دورے پر گئے ہوں۔ اس کے بعد حکومت امریکہ نے انہیں پورے ناز و نعم سے اپنے پاس رکھا۔ جب انہیں پاکستان کی تحویل میں دینا پڑا تو پہلے یہ شرط منوائی کہ تفتیش کے دوران انہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں دی جائے گی چنانچہ پاکستان میں انہیں ابتدا میں عوام کے منتخب نمائندوں کے لئے مخصوص گیسٹ ہاؤس میں رکھا گیا۔ آج کل بھی یقینا آرام سے رہ رہے ہوں گے۔ عدالت نے تفتیش کنندگان کو سختی سے ہدایت کر رکھی ہے کہ ہمیش خان کو ٹارچر بالکل نہ کیا جائے چنانچہ عدالت نے ان سے متعدد مرتبہ پوچھا بھی ہے کہ جناب کو کوئی تکلیف تو نہیں پہنچائی گئی جس کے جواب میں عالی مرتبت عزت مآب ہمیش خان نے ہمیشہ دلی اطمینان کااظہار کیا!
یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر میں دوسری زندگی ملنے پر ہمیش خان بننا چاہتا ہوں کیونکہ میں نے کالم کی ابتدا میں اپنی زندگی کے جن مختلف ادوار کا ذکر کیاہے، اس میں تھوڑا بہت اس عزت اور مقبولیت کی طرف بھی اشارہ ہوگا جو پاکستانی قوم کی طرف سے مجھے ملی مگراس کے باوجود میں ہر وقت خوفزدہ رہتا ہوں کہ اگر کبھی مجھے کسی تھانیدار کے حضور پیش ہونا پڑا تو اس نے دیکھتے ہی کہنا کہ ”پالو اینوں لمیاں، تے لیاؤ اندروں دس نمبر چھتر!“ اس وقت نہ امریکہ نے میری مدد کو پہنچنا ہے اور نہ پاکستانی حکومت نے تھانیدار کو ہاتھ ہولا رکھنے کے لئے کہنا ہے۔ بس میں ہوں گا اور ”عزت ِ سادات“ ہوگی جو دور کھڑی تماشا دیکھتی نظر آئے گی! سو میرا یہ سوچا سمجھا فیصلہ ہے کہ دوسری زندگی میں، میں نے کالم نگار، ادیب، استاد، ڈرامہ نگار ، سابق سفارتکار اور شاعر وغیرہ نہیں بننا، میں نے اگر بننا ہے تو ہمیش خان بننا ہے جن کا نام اخبار والے بھی جمع کے صیغہ کے ساتھ لکھتے ہیں اور میں تو بہرحال انہیں عالی مرتبت اور عزت مآب سمجھتا ہوں، جنرل ضیاء الحق کے دور میں اپنی چمڑی اتروانے والے پیپلزپارٹی کے کارکنوں اور جنرل پرویز مشرف کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کے جرم میں خونی تشدد کا نشانہ بننے والے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنوں سے بھی اگر یہی سوال پوچھا جائے تو مجھے یقین ہے وہ بھی دوسری زندگی میں ہمیش خان بننا ہی پسند کریں گے۔ آپ چاہیں تو ابھی جاوید ہاشمی، پرویز رشید، صدیق الفاروق، خواجہ حسان، بلال یٰسین اور دوسرے افراد سے فون کرکے پوچھ لیں۔ ممکن ہے وہ اپنی وضعداری کی وجہ سے کھل کر ہمیش خان بننے کی آرزو کا اظہار نہ کریں لیکن اندر سے ان کی یہی خواہش ہوگی۔ آخر بے پناہ عزت اور بے پناہ پروٹوکو ل کسے برا لگتا ہے؟
آخر میں صرف دو باتیں۔ ایک تو یہ کہ کسی ملزم کو بغیر بے آرام کئے اگر اس سے سب کچھ اگلوا نے کا یہ تجربہ کامیاب ہو گیا تو اس کا سہرا ہماری نیب کے سر ہوگا اور اس سے دنیا بھر کی تفتیشی ٹیمیں فائدہ اٹھاسکیں گی اور دوسرے یہ کہ مجھے عالی مرتبت عزت مآب ہمیش خاں بالقابہ سے دست بستہ گزارش کرنا ہے کہ اگر اس کالم میں کوئی لفظ ان کے مقام اور مرتبے سے فروتر نظر آئے تو اسے میری نالائقی سمجھ کر معاف کردیں۔ میں ان کا نیازمند ہوں اور میری عقیدت کی انتہا دیکھیں کہ میں دوسری زندگی میں وہی بننا چاہتا ہوں جو وہ ہیں۔ یہ ان کی کتنی بڑی کامیابی ہے کہ اربوں روپوں کا غبن اور اس کے ساتھ بے پناہ عزت و تکریم:

یہ مقام اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے
سو عالی مرتبت یاد رکھیں چاہے کچھ بھی ہو مجھے اب ہمیش خان ہی بننا ہے

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=437054

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha