ہمارے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری فرماتے ہیں کہ ”آسمان ہی کیوں نہ گر پڑے انصاف ہونا چاہئے “اور ہمارے ایک مہربان دوست مرحوم واصف علی واصف نے اپنی محفل میں ایک پریشان حال شخص سے پوچھا تھا کہ ”اگر چھت گر رہی ہو گی تو اس کے نیچے سے بھاگ کر اپنی جان بچائی جا سکتی ہے لیکن اگر آسمان گر رہا ہو گا تو کیا کریں گے ؟“
یہ خیال بھی دل کو بھاتا اور دلائل کو چھوتا ہے کہ انصاف سے آسمان نہیں گر سکتا کیونکہ انصاف توازن اور تلافی ہے اور آسمان بھی کسی انصاف کے ذریعے ہی اپنے وجود کو برقرار رکھے ہوئے ہے ۔ اس توازن کو برقرار رکھنے کے لئے کسی ایسے انصاف کی ضرورت ہوتی ہے کہ جس میں تمام عناصر فطرت اور قدرت کی نعمتیں اور رحمتیں اپنے اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں مصروف رہیں اور کوئی عنصر بھی کسی دوسرے عنصر کے علاقے میں مداخلت اور فرائض میں دخل اندازی نہ کر رہا ہو۔
سورج کی دھوپ اور تمازت آبی بخارات کے ذریعے بادلوں کو وجود میں لانے کے فرائض سرانجام نہیں دے رہی ہو گی تو زمین پر قحط نازل ہو جائے گا۔ قحط زدہ لوگوں پر آسمان گر پڑے گا بلکہ قیامت ٹوٹ پڑے گی ۔ گرمی کی شدت میں لو نہیں چلے گی تو کپاس کی سنڈی نہیں مرے گی اور پھلوں میں مٹھاس نہیں آئے گی۔ پھول پھلوں میں تبدیل نہیں ہوں گے۔ زمین سورج کے گرد اپنے لازمی ، ابدی اور ازلی طواف میں معمولی سی تبدیلی بھی لائے گی تو تمام نظام شمسی معطل اور مفلوج ہو جائے گا ۔ ٹوٹ پھوٹ کر خلاء میں بکھر جائے گا۔
عدالت عظمیٰ کے سربراہ نے سپریم کورٹ رجسٹری برانچ میں ٹیکس بار ایسوسی ایشن لاہور کے ایک نمائندہ وفد سے باتیں کرتے ہوئے فرمایا کہ محصولات اور ٹیکس کی وصولی کے بغیر کسی بھی ریاست کا چلنا ناممکن ہے محصولات کی وصولی کے بغیر ریاست اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتی ۔ اگرچہ بائیں بازو کی سوچ رکھنے والوں کا خیال ہے کہ ریاست حکمران طبقے اور اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کی حفاظت کے علاوہ کوئی فریضہ ادا نہیں کرتی مگر اس فریضے کی خوش اسلوبی سے ادائیگی کے لئے بھی لازم ہوگا کہ ہماری عدلیہ انصاف کے تقاضے پورے کرے ۔ محصولات اور ٹیکسوں کی وصولی میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کرے۔عدالت عظمیٰ کے سربراہ سے بہتر کوئی نہیں جانتا ہو گا کہ پاکستان کے جن لوگوں اور جس طبقے پر محصولات اور ٹیکسوں کی ادائیگی واجب اور لازم ہے ان کی غالب اکثریت اپنا یہ قانونی اور آئینی فرض پورا کرنے سے انکاری ہے ۔ اگر عدالت عظمیٰ ریاست کی یہ لازمی ضرورت پوری کرنے میں کوئی مدد کر سکے تو شائد محصولات اور ٹیکسوں کی آمدنی کا کوئی عشر عشیر اس ملک کے غریبوں، محتاجوں اور ضرورت مندوں یعنی اصلی حقداروں تک بھی ”ٹریکل ڈاؤن“کر جائے اور غربت کی لکیر سے نیچے غرق ہو جانے والوں میں سے کچھ لوگ غربت کی لکیر سے اوپر آنے کے انسانی حقوق بھی حاصل کر سکیں۔
انصاف کے توازن اور تلافی کا صرف یہی تقاضہ نہیں کہ وہ جعلی ڈگریوں کے ذریعے اسمبلی میں پہنچنے والوں کو اسمبلی سے نکالے، توازن اور تلافی کا یہ تقاضہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جعلی املاک کے ذریعے اسمبلی میں آنے بلکہ پورے ایوان اقتدار پر قبضہ کر لینے والوں سے بھی ملک اور قوم کو نجات دلائے ۔
پاکستان کے منصف اعلیٰ نے فرمایا ہے کہ وکالت ایک معزز پیشہ ہے اور متاثرین کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کے لئے بار اور بنچ میں تعاون ہونا چاہئے ۔ انصاف کی موجودگی میں سرمایہ کاروں کو اپنا سرمایہ ریاست کے وجود کے مفاد میں لگانے کی حوصلہ افزائی ہو گی مگر کچھ حوصلے کے طالب وہ غریب لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو ملک کے نامور اور مشہور وکیلوں کی فیس ادا نہیں کر سکتے چنانچہ ان کو انصاف تک رسائی کا خواب دیکھنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی ۔
عدالت عظمیٰ ریاست کے تحفظ میں آنے کے خواہش مند ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے علاوہ وطن عزیز میں واضح اکثریت ان لوگوں کی ہے جو تعلیم اور علاج کی طرف انصاف بھی نہیں ”خرید“ سکتے جبکہ تعلیم اور علاج کی سہولتوں کے علاوہ انصاف کے حصول کا تعلق بھی لوگوں کی قوت خرید سے جوڑ دیا گیا ہے جو کہ ملک کے غریب طبقہ کے سروں پر آسمان گرا دینے کے مترادف ہے
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=435830
Recent Comments