کسی برباد ہوتے ہوئے گھر کے افراد کیا اس طرح آپس میں دست و گریباں ہو سکتے ہیں؟
کیا یہ ممکن ہے کہ گرداب کی زد میں آئی ہوئی کسی خستہ حال کشتی کے ملاح آپس میں اس طرح گتھم گتھا ہو جائیں؟
کیا فضا میں قلابازیاں کھاتے ہوائی جہاز کا ”کریو“ آپس میں دھینگا مشتی افورڈ کرنے کا تصور بھی کر سکتا ہے؟
کیا یہ ممکن ہے کہ میدانِ جنگ میں دشمن بلکہ کئی دشمنوں کے نرغے میں آیا ہوا لشکر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو جائے؟
اور اگر ایسا ہو سکتا ہے تو پھر ایسے گھر کا ایسی کشتی کا ایسے جہاز کا اور ایسے بدنصیب لشکر کا بھیانک انجام نوشتہ ٴ دیوار نہیں تو کیا ہو گا۔ مکمل شکست و ریخت، دھجی دھجی بکھر جانا، ریزہ ریزہ ہو جانے کے علاوہ اور کیا؟ کہ ایسوں کو تو معجزے بھی محفوظ نہیں رکھ سکتے۔
ملک کہاں کھڑا ہے ؟
عوام کس حال میں ہیں؟
معیشت کس طرح فریکچر ہو چکی ہے؟
روپے کا حشر نشر ہو رہا ہے ۔
ادارے تشنّج کی کس شدت سے دوچار ہیں؟
سماجیات کی چولیں ہل چکی ہے ۔
اخلاقیات کی بنیادیں منہدم ۔
گورننس نام کی کسی شے کا کہیں کوئی وجود نہیں۔
ڈھونگ، ڈھکوسلے، ڈرامے عام اور سرعام ۔
جرائم اپنے عروج پر اور اکثر رپورٹ نہیں ہو رہے اور جو ہو رہے ہیں انہیں خود پولیس فنکارانہ مہارت سے دائیں بائیں کر رہی ہے۔
معاشرہ اس طرح منقسم، منتقم اور ادھڑ چکا ہے کہ طلبہ اور اساتذہ میں جنگ، وکلاء اور ججوں میں ٹینشن، معالجوں اور مریضوں میں کشمکش، میڈیا اور سیاسہ میں کھچاؤ کوئی شے نارمل نہ اپنی حدود میں نہ اپنے ٹھکانے پر لیکن ملک کے ذمہ داران کی حالت ملاحظہ ہو، بریشم قلندر کی مثال بھی شرما جائے۔ قدم قدم اور خبر خبر پر احمد ندیم قاسمی یاد آتے ہیں
آپ دستار اتاریں تو کوئی فیصلہ ہو
لوگ کہتے ہیں کہ سر ہوتے ہیں دستاروں میں
چاہئے تو یہ تھا کہ یہ سب اپنی اپنی انائیں کسی کھونٹی پر ٹانگ کر آپس میں سر جوڑ کر بیٹھتے اور برین سٹارمنگ کرتے، غور و فکر اور سوچ و بچار کی اذیت جھیلتے اور چومکھی بلکہ سومکھی کثیر الجہات جنگ میں الجھے ہوئے اس ملک کے مسائل کی نشاندہی کرتے ، ترجیحات کا تعین ہوتا، ایک ایک مسئلہ کے کئی کئی حل اور مختلف آپشنز پر بات کر کے کوئی شارٹ ٹرم کوئی لانگ ٹرم حکمت عملیاں وضع کرتے اور پھر جنگی بنیادوں پر عملدرآمد ہوتا لیکن یہاں تو لگتا ہے کسی میلے پر آئے ہوئے ہیں، پکنک میں مصروف ہیں یا ایک مسلسل پارٹی ہے جس کے شرکاء کو اندازہ ہی نہیں کہ ان کے اردگرد کیا ہو رہا ہے۔
آپ کو ایک دلچسپ اور حیرت انگیز بات بتاؤں۔ چند روز قبل میں نے کسی کالم میں ضمناً کہیں لکھ دیا کہ مجھے وہ دن زیادہ دور نہیں لگتا جب پرویز مشرف کی تصویر ٹرکوں کے پیچھے اس مشہور مصرعے کے ساتھ نظر آئے گی
”تیرے جانے کے بعد تیری یاد آئی“
ٹیلی فونوں اور پیغامات کی لائن لگ گئی۔ بیسیوں لوگوں نے کہا کہ ہم پر تو کب سے وہ دن آ چکا جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا۔ خواتین کی اکثریت مشرف اور موجودہ حکومت کا موازنہ کرتی رہی۔ وہ مختلف اشیاء کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے جمہوریت کی شان میں ایسے ایسے قصیدے پڑھ رہی تھیں کہ میں حیران رہ گیا۔ تقریباً سب کی گفتگو میں یہ قدر مشترک تھی کہ گھر کا ماہانہ بجٹ ایڈجسٹ کرتے کرتے نوبت یہاں آ پہنچی کہ اب ایڈجسٹمنٹ کی گنجائش بھی نہیں رہ گئی اور اب ہمیں بنیادی ترین ضروریات زندگی پر بھی کمپرومائز کرنا پڑے گا۔
بقا کی جنگ کا وقت ہے۔
یہاں انا کی جنگ ہی ختم ہونے میں نہیں آ رہی۔ دستاریں بہت ہیں لیکن اندر سروں کا وجود نہیں اور اگر کہیں سر موجود ہے تو وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری اور اگر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی موجود ہے تو وہ صرف اپنی ذات تک محدود ہے۔ کاش ذاتی بقا اور ذاتی انا کی ماری ہوئی یہ بے سر کی دستاریں اس دلدل کا اندازہ لگا سکیں جس پر یہ بے لگام ہو کر دوڑے جا رہی ہیں۔ ان کی بقا و فنا میرا مسئلہ نہیں میرا رونا تو یہ ہے کہ
یہ تو ڈوبیں گے صنم ہم کو بھی لے ڈوبیں گے
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=434874
Recent Comments