میں گزشتہ ڈیڑھ پونے دو مہینوں سے ایک عجیب اور دلچسپ سی ایکسرسائز میں پھنسا ہواہوں۔ سمجھ نہیں آرہی کہ اس مشقت کو کس خانے میں فٹ کروں۔ یہ جسمانی مشقت ہے یا ذہنی یا دونوں کا ملغوبہ؟ ابھی تک فیصلہ نہیں کر پایا لیکن تقریباً ہر روز گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ اس کارِخیر میں کھپ جاتا ہے۔ کام ایسا ہے جو سوائے میرے اور کوئی کر بھی نہیں سکتا۔ ملازمین زیادہ سے زیادہ اتنا کرسکتے ہیں کہ ”بوجھ“ نیچے سے اوپر اٹھا لائیں یا جھاڑپونچھ کردیں، باقی سردرد میر ا ہے اور مجھے ہی بھگتنا ہے سو بھگت رہا ہوں۔
نجانے کون سا لمحہ تھا جب میں نے اپنی سٹڈی کوگراؤنڈ فلور سے دوسری منزل پر شفٹ کرنے کا فیصلہ کیا اور پھنس گیا۔ مختلف موضوعات پر سینکڑوں کتابیں، ان کی صفائی ستھرائی اور پھر یہ فیصلہ کہ کون سی کتاب کس سیکشن اور کس شیلف میں جائے گی؟
اس سارے پراسیس میں سو سو سال پہلے کی چھپی ہوئی کتابیں اور رسائل بھی ایک بار پھر نظر سے گزرے۔ یہ اتنی خستہ حالت میں ہیں کہ ان کی صفائی اور ڈسٹنگ بھی کسی ملازم پر نہیں چھوڑی جاسکتی کیونکہ انہیں کانچ اور کرسٹل سے بھی زیادہ پر احتیاط ہینڈلنگ کی ضرورت ہے۔ سو یہ ”اضافی مشقت“ علیحدہ میرے کھاتے پڑ گئی۔ قدیم کتابیں تو پھر بہتر حالت میں ہیں لیکن رسائل و جرائد تو ایسی حالت میں ہیں کہ ورق الٹتے ہوئے ہلکی سی بداحتیاطی ہوئی تو سمجھو ورق پھٹ گیا بلکہ سمجھیں ”ٹوٹ“ گیا۔
ان کی ورق گردانی کرتے ہوئے بہت ہی ناقابل بیان قسم کے احساسات سے گزرا تو سوچا کہ اپنی یہی Feelings اپنے ان قارئین کے ساتھ بھی شیئر کروں جنہیں کتابوں رسالوں کی دنیا اورخوشبو پسند ہے۔
اس وقت میرے سامنے 1898 یعنی ایک سو بارہ سال پرانا ”تہذیب النسوان“ کھلا پڑا ہے جس کی پیشانی کے اوپر درج ہے۔
”ہندوستان میں سب سے پہلا زنانہ ہفتہ وار اخبار“ اور پیشانی کے نیچے لکھا ہے۔
”محترمہ محمدی بیگم صاحبہ نے لڑکیوں کے فائدے کے لئے جاری کیا“
اکتوبر 1927 کے شمارے کا ایک عنوان ہے ”دوزخ کا نظارہ۔ بیوی کسے کہتے ہیں؟“ … اب ذرا مضمون کی ایک جھلک، ایک اقتباس…
”شریک رنج و راحت کو، شریک تفریح و اسباب عیش کو۔ اس ہستی کو جو علمی و ادبی، سیاسی قومی مذہبی باتوں میں شوہر کا برابر ساتھ دے اور بزدل شوہر کو بہادری کا سبق پڑھائے۔ جونکمے مردوں کو کمانے کی تعلیم دے، جو مغرور شوہر کو نیچا دکھائے اور اپنی راہ ِراست پر لے آئے۔ بیوی کہتے ہیں“
قارئین کے خطوط والے کالم کا عنوان ہے ”محفل تہذیب“ ایک خط ”نوش“ فرمایئے۔
”کوئی بہن مہربانی فرما کر دہلی طبیہ کالج کے داخلہ کی شرائط سے بذریعہ تہذیب مطلع فرمائیں کہ طبیہ کالج میں داخلہ کا کوئی وقت مقرر ہے یا ہر وقت ہوسکتا ہے اور جوان، بوڑھی لڑکی سب عمر کی داخل کی جاتی ہیں یا عمر کی قید ہے نیز وہاں کے مکمل حالات اورپتہ درکار ہے۔ دہلی کی کوئی بہن مہربانی سے یہ تکلیف گوارہ فرمائیں۔
راقمہ تہذیبی بہن از میرٹھ“
کوئی خط نظیر آباد (میسور) سے اور کوئی بلگرام قصبہ سانڈی ضلع ہردوئی سے ہے۔
اور اب چلتے ہیں ہفتہ روزہ ”شیرازہ“ 1937 کے صفحات پر۔ قیمت فی پرچہ ایک آنہ۔
ایک اشتہار ملاحظہ فرمایئے جس کاعنوان ہے … ”سچے موتی کادانہ“
”ایک نہایت ہی خوبصورت کھتری نوجوان نیشنل گریجوایٹ برہچاری، ورزشی پاکیزہ کریکٹر، ایک خوبصورت کنیا سے شادی کرنا چاہتا ہے دیکھئے یہ موتی کس کے نصیب میں آتا ہے۔“
ایک کتاب کا اشتہار پڑھئے۔ عنوان ہے ”نمستے علیکم“ شمارہ یکم دسمبر 1940
ایم اسلم صاحب کے ایسے مضامین کا مجموعہ جس میں آپ نے تفنن کے رنگ میں اخلاقی، اصلاحی، معاشرتی او ر سیاسی مسائل پر بہت دلپذیر انداز میں خامہ ٴ فرسائی کی ہے۔ کہیں کسی کی چٹکی لی ہے اور کہیں کسی کی دکھتی رگ پکڑی ہے لیکن طریق وہ اختیار کیا ہے کہ چٹکی میں لطف آئے اور چوٹ بھی لگے تو راحت محسوس ہو۔ قیمت ایک روپیہ آٹھ آنہ۔
”شیرازہ“ کے ایڈیٹر سندباد جہازی تھے اور پیشانی کے اوپر لکھا ہوتا… ”منظورشدہ سررشتہ تعلیم پنجاب“
اور اب میرے سامنے 1950-51 کے ”بیسویں صدی“ بکھرے ہوئے ہیں۔ ایڈیٹر ہیں خوشتر صاحب اور کچھ نوجوانوں کی تصویریں چھپی ہوئی ہیں۔ نام پڑھئے۔ جوش ملیح آبادی، پنڈت ہری چند اختر ایم اے، جگن ناتھ آزاد ایم اے، شمارہ جنوری کے لکھنے والے ہیں۔ جناب ایم اسلم، جناب راج کنول، جناب پروفیسر کنہیا لال کپور ایم اے، محترمہ پروفیسر کرشنا کماری ایم اے، جناب دت بھارتی، جناب فکر تونسوی، جناب کرشن چندر ایم اے، ہر افسانے سے پہلے رائٹر کاخط ہے۔ کرشن چندر کا خط پڑھئے۔
اندھیری بمبئی 11اپریل1951
برادرم تسلیم و نیاز
آپ کا خط ملا۔ میں فروری کے آخری ہفتہ میں امن کانفرنس کے سلسلہ میں دلی آگیا تھا۔ ارادہ تھا کہ آپ کا نیاز حاصل کروں گا مگر نامساعد حالات نے اجازت نہ دی اس لئے سعادت سے محروم رہا۔ افسانہ نمبر کے لئے ”پانی کا درخت“ ارسال خدمت ہے۔ ”تیر و نشتر‘ میں آپ ہمارے ہم نوا ہیں اس کا مجھے بخوبی احساس ہے۔ آخر آپ پر بھی وہی گزری ہوگی جو ہر دیانتدار آدمی پر گزر رہی ہے۔
سرکاری تعلق اورچاپلوسی کے اس زمانے میں آپ کی جرأت کی قدر نہ کرنا تحسین ناشناسی ہوگی لیکن یہ بھی ضرور چاہتا ہوں کہ آہستہ آہستہ ”بیسویں صدی“ کے دیگر مضامین خیال انگیز اور رومان انگیز افسانوں کے علاوہ ”تیر و نشتر“ کے بیباک رنگ میں رنگے جائیں۔ اس میں عجلت کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔
آپ کا کرشن چندر“
یہ زندگی عجب گورکھ دھندا ہے۔ کیسے کیسے لوگ راکھ ہوجاتے ہیں، خاک ہو جاتے ہیں، خواب بن جاتے ہیں۔ اب میرے سامنے اپنے وقت کے مقبول ترین ہفت روزہ ”لیل و نہار“ کے شمارے بکھرے ہوئے ہیں۔ جنوری 1962 کے شمارہ میں ٹیڈی ازم پر اک دھواں دار مضمون ہے۔ اک نئی ریلیز شدہ فلم ”بارہ بجے“ پر تبصرہ ہے اور ساتھ نوجوان ادکار علاؤ الدین کی تصویر جس کی 24ویں یا 27ویں برسی چند ر وز پہلے منائی گئی۔ افواج پاکستان کے کمانڈرز انچیف کی تصویریں ہیں۔ جنرل محمد موسیٰ بری فوج، سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان۔ ایک تصویر، بجلی ایندھن اور قدرتی وسائل کے وزیر ذوالفقار علی بھٹو کی بھی ہے۔ فلمی صفحہ کی اک اور تصویر کاکیپشن پڑھئے۔
فلم ”چوہدری“ کے سیٹ پر دائیں سے بائیں اکمل، نئی اداکارہ نغمہ، زینت، آصف جاہ اور ہدایتکار مظفر طاہر۔ ایک مضمون کاعنوان ہے ”میری تصویریں“ اور نوجوان مصور کی اپنی تصویر کے نیچے لکھا ہے… حنیف رامے
فروری 1962 کے شمارہ میں شائع ہونے والے ایک فیچر کا عنوان ہے … فلمی بسنت اور چند تصویروں کے کیپشنز یہ ہیں۔
”سنتوش پیچ لڑانے کی کوشش کر رہاہے۔ سلمان دیکھنے میں مصروف ہے“
”اب پھنسا… ایڈیٹر علی طالش کو داد دے رہا ہے“
”پیچ کاٹنے کے بعد خورشید انور مسکرارہے ہیں“
”حسنہ ڈور لپیٹنے میں مصروف ہے“
”اڑانے سے پہلے شوکت حسین رضوی کمانی کا لوچ دیکھ ر ہے ہیں“
واہ زندگی… سر راہ زندگی… بے وفا زندگی
مئی 1962 کے شمارے میں ایک ڈھابے کی تصویر کے نیچے لکھا ہے ۔
آنے کی روٹی دال مفت
اور آج؟
اے وقت! تجھ سا ظالم کوئی نہیں

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=433288

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha