لوگوں کی بیزاری قبل از وقت ہے،حکومت اور اس کے رہنماؤں کے پاس سنانے کیلئے کوئی نئی بات نہیں، یہی وجہ ہے کہ سیاسی جمود طاری ہو رہا ہے۔ اس صورت حال کا موازنہ مشرف دور سے کیا جائے تو انہیں اس سطح تک پہنچنے میں تقریبا پانچ سال لگے۔ 2005-06 کے دوران کی تقاریر پر قریبی ساتھی بھی بیزاری کا اظہار کرنے لگ گئے تھے۔ موجودہ خوش پوش رہنماؤں نے اس سطح تک پہنچنے میں نصف سے بھی کم مدت لگائی ۔ کیا اسے حکومت کے کامیابی کہنا چاہیے۔2008 ء کی بحالی جمہوریت کا نمایاں پہلو مشرف سے نفرت تھی، مگر جوں جوں نئے مسائل سامنے آئے اس نفرت نے اہمیت کھو دی۔ ماضی کے اس سٹرانگ مین کا ذکر اب بھی لوگوں میں بیزاری کا عنصر ابھارتا ہے تاہم دیگر حل طلب مسائل کی وجہ سے تقاریر میں ان کے ذکر کی اب اہمیت باقی نہیں رہی۔حالات سے مایوس مشرف فیس بک کے ذریعے خود کو طفل تسلیاں دیتے رہتے ہیں، اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔
عدلیہ کی بحالی وہ نعرہ تھا جس نے سیاسی حلقوں کے علاوہ عام شہریوں کی بڑی تعداد کو فروری 2008 ء کے انتخابات میں متحرک کیا۔ انتخابات کے بعد پہلا سال عدلیہ کی بحالی تحریک کو روکنے یا اسے ناکام بنانے پر ضائع کر دیا گیا۔ بالآخر عدلیہ تو بحال ہو گئی تاہم معیشت سمیت دیگر ملکی امور کو درست سمت پر ڈالنے کا وعدہ ابھی تک تشنہ خواب ہے۔ہماری بحال عدلیہ ، جسے ہیروز کی تلاش میں رہنے والی قوم نجات دہندہ قرار دیتی ہے، عظمت کی جستجو اور خواہش میں آئینی اختیارات سے متجاوز کرنے کے لئے تیار دکھائی دے رہے ہے۔ مہم جوئی کی یہ خواہش ا س ملک میں نئی نہیں ، البتہ فوج و سیاسی قیادت کے بعد پہلا موقع ہے کہ عدلیہ اس جانب اپنے قدم بڑھا رہی ہے۔خطرناک مہم جوئی کچھ ہماری فطرت میں شامل ہے ، اگرچہ عملی زندگی میں اعتدال پسندی اور صبر کا درس ہمیں سننے اور سنانے کیلئے ملتا ہے تاہم جب معاملہ قومی امور چلانے کا ہو تو انہی بنیادی اقدار کو ہم مسترد کر دیتے ہیں۔ملک کو بچانے کے نام پر مختلف موقعوں پر چار فوجی مہمات کو قوم نے سر خم تسلیم کیا ۔ آج ریاست کا تیسرا ستون اپنے احکامات کے ذریعے اسی راہ پر چل نکلا ہے کہ ہم بے چینی سے اس کے نتائج کا انتظار ہی کر سکتے ہیں۔ ایوان صدارت کا خود کو بچانے کی کوششوں کے علاوہ کسی چیز سے کوئی سروکار نہیں، احتساب کے مقدمات سے بچنے کیلئے ایوان اپنی پوری قوت استعمال میں لا چکا جو این آر او پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے بحال ہوئے ۔ ہنزہ میں لینڈ سلائیڈنگ سے بننے والی جھیل کے ٹوٹنے سے دریائے سندھ کے دونوں کناروں پر سخت تباہی کا امکان ہے جس سے فوجی و سیاسی محاذوں پر طوفان برپا ہو سکتا ہے ، اس خطرے کے باوجود ایوان صدر صرف خود کو بچانے میں مصروف ہے۔سپریم کورٹ تاحال اپنی مایوسی اور ردعمل چھپا رہی ہے ، وہ جانتی ہے کہ این آواو پر اس کے فیصلے پر عملدرآمد سے گریز کیا جا رہا ہے۔ تلخیاں بڑھ رہی ہیں، عدلیہ سوئس حکام کو خط لکھنے کے معاملے میں حکومت پر دباؤ بڑھانے کیلئے پرعزم ہے جس کا مقصد صدر زرداری کے خلا ف سوئس مقدمات ری اوپن کرنا ہے۔ یہ صورت حال محاذ آرائی حتیٰ کہ تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
لارڈ شپ شاید یہ سمجھتی ہے کہ رائے عامہ اس کے ساتھ ہے مگر ان کا یہ اندازہ غلط ہے۔ لوگوں کی تمام تر توجہ ان مسائل پر ہے جن کا انہیں روزمرہ کی زندگی میں سامنا ہے ، اس میں مہنگائی ، بے روز گاری اور لوڈشیڈنگ وغیر ہ شامل ہے۔ ان کی نظر میں احتساب کے نعرے کی بھی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی ہے ۔قوم عدلیہ اور سیاسی دونوں محاذوں پر کھیل چکی، اسی سے 18 ویں ترمیم کی کا میابی ملی مگر موجودہ حالات میں وہ اس شاندار کامیابی کا درست اندازہ نہیں لگا سکتے۔قوم اب آگے بڑھنا چاہتی ہے مگر سیاسی افق پر چھائے عناصر ابھی تک ماضی میں الجھے اور دیگر کئی سیاسی کھلاڑیوں کی طرح ماضی کی لڑائیوں میں مصروف عمل ہیں۔حالات کس جانب بڑھ رہے ہیں؟ کوئی نہیں جانتا۔ خود ساختہ سیاسی پنڈتوں کی اس سیاسی صورتحال کو کچھ بھی قرار دیں ، ایک بات بڑی واضح ہے وہ یہ کہ سیاسی حلقوں کو جن امور پر خصوصی توجہ دینی چاہیے جیسا کہ مہنگائی ، توانائی کا بحران ، مالیاتی خسارہ وغیرہ ، اس کے بجائے ان کی توجہ غیر ضروری امور پر مرکوز ہے۔ شاید ان کیلئے ضروری اور غیر ضروری امور کے درمیان تفریق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
موجودہ موسم گرما ایک دلچسپ امتحان ہو گا ، ان مہینوں میں تیز ہواؤں کیلئے ہمیں دعاگو رہنا ہو گا ، باقی خدا ہی کارساز اور بہتر جاننے والا ہے ۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی حکمران جماعت ہونے کے ناطے ن لیگ بھی موجودہ سیاسی سیٹ اپ کا لازمی حصہ ہے۔ اس جماعت سے بیزاری کے علامات بھی واضح دکھائی دے رہی ہیں۔ کیا اس کی وجہ نئی سوچ کا فقدان ہے؟ ساتھ سیاسی سفر کرنے والوں میں شامل ہونے کے باعث اس قسم کے سوالات نہیں اٹھا سکتا نہ اپنے ہی سینئر ساتھیوں پر شبہ کر سکتا ہوں ۔ اسلئے مزید چھیڑ چھاڑ نہیں ہو گی۔ یہ بات ہمیں تسلیم کرنا ہے کہ کئی نعرے اب فرسودہ ہو چکے، آزاد عدلیہ جس کیلئے ہم نے جدوجہد کی ، اب بحال ہو چکی ہے۔ 18 ویں ترمیم کا معاملہ بھی حل ہو چکا ، قوم کو آگے لے جانے کیلئے ہمیں نئی راہیں تلاش کرنا ہیں۔
بھاری سب سڈی والی سستی روٹی سکیم کی ضرورت بھی گزر چکی ،بہتر ہو گا کہ آئندہ رمضان میں بھاری سب سڈی کا رمضان پیکچ جاری نہ کیا جائے،حکومتوں کو اپنے وسائل میں رہ کر عوام کے مسائل پر توجہ دیں تو بہتر ہے۔ اسی سلسلے میں پنجاب حکومت کو انتہائی گراں دائش سکول سکیم پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ چونکہ یہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی پسندیدہ سکیم ہے اور ان کی سوچ پر اثر انداز ہونا آسان نہیں ہو گا۔ دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ میں بھی خاموشی اختیار کر لوں۔ فوج کو ابھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا ہے۔سوات اور جنوبی وزیرستان میں کامیابی ضرور ملی مگر اس کامیابی کیلئے فوج کا کئی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا۔ موجودہ آپریشن کے بعد کی صورت حال کے بارے یہ کہنا مناسب ہے کہ شورش محدود ہوئی ہے، بھاری نقصان کے باوجود طالبان کو نہ تو انہیں مکمل شکست ہوئی اور نہ ہی ان کا خاتمہ ہو سکا ہے۔اگر طالبان کی رائے لی جائے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد طاقت کا توازن کیا ہو گا۔ آئندہ سال افغانستان میں بھر پور جنگ کا امکان نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔
آئندہ کئی ماہ تک کسی بڑی فوجی کامیابی کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔اس دوران فوج کو طالبان سے خالی کروائے گئے علاقوں پر قبضہ مستحکم بنانا ہے۔ یہ ایک مشکل اور صبر آزما عمل ہے۔ اسلئے فوج کو اگلے 12 ماہ کے دوران کئی مشکلات پیش آئیں گی ۔ قوم کی تمام تر دعائیں اور حمایت فوج کے ساتھ ہونی چاہیے۔فوج اگر بنیادی ذمہ داری تک خود کو محدود کرکے ضیاء اور مشرف دور کے معاشی مفادات سے خود کو دور کر لے تو کئی مشکلات پر قابو پالے گی۔ سوات اور وزیر ستان آپریشن سے قبل فوج ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کی فوج بن کر رہ گئی تھی، جائدادوں میں دلچسپی نے اس کی حربی مہارت کو بری طرح متاثر کیا تھا۔
جیسے سیاسی حلقے کو دوبارہ سے خود کو منوانے اور گوناگوں چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے نئے نظریات کے ساتھ سیاسی میدان میں اترنے کی ضرورت ہے ، اسی طالبان کی شورش نے فوج کا موقع دیا ہے کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹیوں سے توجہ ہٹا کر اپنی پیشہ وارانہ امور کی طرف توجہ دے۔ اگر فوج کو حقیقی معنوں میں قوم کی فکر ہے تو اپنے ماضی کی سرگرمیوں سے توجہ ہٹا کر قوم کو نئی سمت دے۔آخری بات: میں معروف شاعر اور مصنف عطا الحق قاسمی سے معافی کا طالب ہوں کہ ان کے بیٹے کی شادی میں شریک نہ ہو سکا
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=432956
Recent Comments